فلم اور تفریح

کشمیر: 29 سال بعد سنیما ہال کی واپسی، سری نگر میں پہلا ملٹی پلیکس زیر تعمیر

ریاستی انتظامیہ کے ایک سینئر ترین عہدیدار کا کہنا ہے کہ سری نگر کے سول لائنز میں ایک ملٹی پلیکس سینما گھر کی تعمیر کا کام جاری ہے اور امید ہے جلد ہی یہاں کے لوگ سنیما گھر میں فلمیں دیکھ سکیں گے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

سری نگر: وادی کشمیر میں 29 برس کے طویل عرصے کے بعد سنیما گھروں کا دوبارہ کھلنا تقریباً طے ہے۔ گرمائی دارالحکومت سری نگر کے سیول لائنز میں جہاں ایک ملٹی پلیکس (ایک سے زیادہ سکرینوں والے سنیما گھر) کی تعمیر کا کام شروع ہوگیا ہے، وہیں قریب تین دہائیوں سے بند پڑے سنیما گھروں کو دوبارہ کھولنے کی کوششیں بھی شروع ہوگئی ہیں۔ یو این آئی کو انتہائی باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا کہ سیول لائنز (سری نگر) میں ملٹی پلیکس سنیما گھر کی تعمیر کا کام اور بند پڑے سینما گھروں کی بحالی کی کوششیں ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کی معاملے میں ذاتی دلچسپی سے شروع ہوئی ہیں۔

ریاستی انتظامیہ کے ایک سینئر ترین عہدیدار نے یو این آئی کو نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ سری نگر کے سیول لائنز میں ایک ملٹی پلیکس سینما گھر کی تعمیر کا کام جاری ہے، تاہم انہوں نے اس کی جائے تعمیر اور مالکانہ حقوق سے متعلق تفصیلات منکشف کرنے سے معذرت ظاہر کردی۔ ان کا کہنا تھا 'سری نگر میں ملٹی پلیکس سینما گھر کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ یہ سیول لائنز میں بن رہا ہے۔ میں اس کی جائے تعمیر اور اس کے مالکانہ حقوق سے متعلق تفصیلات ظاہر نہیں کرسکتا۔ جب تعمیر کا کام مکمل ہوگا تو میڈیا کے ساتھ تفصیلات شیئر کی جائیں گی۔ فی الوقت میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ تعمیر کا کام جلد مکمل ہوسکتاہے'۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر جنوبی ایشیا کا واحد ایسا خطہ ہے جہاں ایک بھی سنیما گھر موجود نہیں ہے۔ جن سنیما گھروں میں 1980 کی دہائی میں فلمیں دکھائی جاتی تھیں وہ اب یا تو سیکورٹی فورسز کی زیر تصرف ہیں یا ان کی عمارتیں بوسیدہ ہوچکی ہیں۔ وہ بھی اس حقیقت کے باوجود کہ وادی کی برف سے ڈھکی پہاڑیاں، سرسبز و شاداب کھیت اور دلکش آبی ذخائر بالی ووڈ کو فلموں کی عکس بندی کے لئے یہاں کھینچ لاتے ہیں اور بیسویں صدی کی چھٹی سے لیکر آٹھویں دہائی تک بیشتر بالی ووڈ فلموں کی عکس بندی یہیں ہوئی ہیں۔ وادی کے حالات پر گہری نگاہ رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے 'وادی میں 1980 کی دہائی کے اواخر میں نامساعد حالات نے جنم میں لیا جس نے یہاں سب کچھ تبدیل کرکے رکھ دیا ہے'۔

مبصرین کے مطابق وادی میں 1980 کی دہائی میں 15 سنیما گھر چل رہے تھے جن میں سے سری نگر میں 9 جبکہ باقی 6 وادی کے دوسرے قصبوں میں چل رہے تھے۔ سری نگر میں پلیڈیم سنیما، نیلم سنیما، ریگل سنیما اور براڈ وے سنیما میں زبردست بھیڑ لگی رہتی تھی۔ تاہم اسی دہائی کے اواخر میں شروع ہونے والی مسلح شورش کے نتیجے میں یہ سبھی سنیما گھر یکے بعد دیگرے بند ہوئے۔ مبصرین کے مطابق 18 اگست 1989 کو اُس وقت کی سرگرم جنگجو تنظیم ’اللہ ٹائیگرس‘ نے ایک بیان جاری کرکے سنیما گھروں اور شراب کی دکانوں کے مالکان کو اپنا کاروبار بند کرنے کے لئے کہا تھا۔ اس بیان کے قریب تین ماہ بعد تک وادی میں سبھی سنیما گھر بند ہوچکے تھے۔ اگرچہ 1999 میں ریگل، نیلم اور براڈ وے سنیما گھروں کو دوبارہ کھولا گیا، تاہم ان پر ہوئے حملوں کی وجہ سے یہ دوبارہ بند ہوئے۔

ذرائع کے مطابق سیول لائنز (سری نگر) میں ملٹی پلیکس سینما گھر کی تعمیر کا کام اور بند پڑے سینما گھروں کی بحالی کی کوششیں ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کی معاملے میں ذاتی دلچسپی سے شروع ہوئی ہیں۔ گورنر موصوف نے 10 جنوری کو کٹھوعہ میں منعقدہ آٹھویں پولیس شہداءمیموریل ٹی ٹونٹی چمپئن شپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا 'کشمیر میں بچوں کے پاس چھ بجے کے بعد کرنے کو کچھ نہیں ہوتا ہے۔ وہاں کے بچوں نے تو سنیما بھی نہیں دیکھا ہے۔ ابھی میں نے ایک سنیما گھر کی سنگ بنیاد رکھوائی ہے'۔ اس بیان کے ایک روز بعد یعنی 11 جنوری کو گورنر نے نو منتخب سرپنچوں کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا 'کشمیر کا مسئلہ 13 سے 30 سال کے نوجوانوں کے درمیان ہے۔ ان کے پاس شام کے بعد کرنے کو کچھ نہیں ہوتا ہے۔ سنیما نہیں ہے۔ باہر جانے کی جگہ نہیں ہے۔ ابھی میں نے ایک سنیما گھر کی سنگ بنیاد رکھوائی'۔

گورنر ستیہ پال ملک نے اس سے قبل گذشتہ برس کے 24 اکتوبر کو ایک نجی ٹی وی نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ وادی کا پہلا ملٹی پلیکس سنیما گھر معروف کشمیری ماہر تعلیم اور سیاستدان آنجہانی ڈی پی دھر کے بیٹے اور دہلی پبلک اسکول (ڈی پی ایس) سری نگر کے چیئرمین وجے دھر کی جانب سے قائم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا 'یہاں (کشمیر) کے بچے کے پاس چھ بجے کے بعد کرنے کو کچھ نہیں ہے۔ یہاں سنیما گھر نہیں ہیں۔ میں نے وجے دھر سے بات کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں یہاں ملٹی پلیکس بنائوں گا۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے یہاں درخواست بھی دی ہے۔ ڈی ایم نے کہا کہ میں ایک مہینے کے اندر منظوری دوں گا'۔ انہوں نے کہا تھا 'یہاں سنیما ، کافی ہاوسز، غرض وہ ساری چیزیں مہیا کرائی جائیں گی جہاں نوجوان بیٹھیں گے، گپ شپ کریں گے۔ بات کریں گے۔ خرافات سوچنے کے بجائے مثبت چیزیں سوچیں گے'۔

گورنر ستیہ پال نے کہا تھا کہ کشمیر میں ملٹی پلیکس سنیما گھر قائم کرنے کے علاوہ بڑی تعداد میں کافی شاپس قائم کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا 'وجے دھر جن کا ڈی پی ایس ہے، ان کے والد ڈی پی دھر شیخ محمد عبداللہ کے دوست تھے۔ انہوں نے ایک ملٹی پلیکس کے لئے پہلے ہی درخواست دی ہے۔ بہت لوگ آگے آرہے ہیں کہ ہم باریستا کھولیں گے۔ کافی شاپس کھولیں گے۔ جے کے بینک یہاں کی فٹ بال ٹیم کا پورا خرچہ اٹھائے گی'۔ بتادیں کہ وادی میں تقریباً تمام مین اسٹریم سیاسی جماعتیں سینما گھر کھولنے کے حق میں ہے، تاہم علیحدگی پسند جماعتیں ایسے کسی بھی اقدام کی مخالفت کررہی ہیں۔

نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے 16 مئی 2017 کو سری نگر کے شہرہ آفاق ڈل جھیل کے کناروں پر واقع شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن کمپلیکس (ایس کے آئی سی سی) میں کشمیر پر بننے والی بالی وڈ فلم 'سرگوشیاں' کے پریمئر شو کی تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں کے ساتھ بات چیت کے دوران وادی کشمیر میں سنیما ہال کھولے جانے کی وکالت کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر دنیا کی واحد ایسی جگہ ہے جہاں سینما ہال نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا تھا 'دنیا میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں سینما ہال نہیں ہیں۔ واحد ایک جگہ کشمیر ہے جہاں فلمیں دکھائی نہیں جاتی ہیں۔ ہمارا پڑوسی پاکستان ، وہاں بھی فلم ہال ہیں۔ تو یہاں کیوں بند کردیے گئے ہیں؟ کیا فلمیں دیکھنی غلط ہے؟ جب گھروں میں ٹیلی ویژن ہیں تو سنیما گھر کیوں نہیں بن سکتے ہیں؟'۔

Published: 12 Jan 2019, 12:09 PM