جنگلاتی حیات کے لئے شوٹنگ مگر موب لنچنگ اور اناؤ واقعہ پر خاموشی

ڈسکوری چینل کے جنگلاتی حیات پر خصوصی پروگرام کے ٹریلر جاری ہونے پر وزیر اعظم کے تعلق سے عوام کے ذہنوں میں اٹھ رہے ہیں سوال

سوشل میڈیا 
سوشل میڈیا

قومی آواز تجزیہ

برطانوی مہم جُو بیئز گرائلز کا ڈسکوری چینل پروہ خصوصی پروگرام 'مین ورسز وائلڈ‘ (انسان بمقابلہ جنگلی حیات) جس میں انہوں نے وزیر اعظم کے ساتھ شوٹنگ کی ہے وہ ۱۲ اگست سے نشر کیا جائے گا۔ اس فلم کی شوٹنگ اس دن ہو رہی تھی جس دن پاکستان کی دہشت گرد تنظیم جیش محمد سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے پلواما میں ہمارے سی آر پی ایف کے جوانوں کو اپنی نفرت کا نشانہ بنایا تھا۔ ایسے حساس موقع پر وزیر اعظم نے شوٹنگ جاری رکھی تھی جس پر ان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

پروگرام کے ٹریلر میں اڑسٹھ سالہ نریندر مودی کو شمالی بھارت میں قائم ایک نیشنل پارک میں گرائلز کے ساتھ گھومتے دکھایا گیا ہے۔ اس وڈیو میں ان کے آس پاس ایک ٹائیگر اور ہاتھیوں سمیت ہرنوں کا گلہ بھی بھاگتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ شمالی بھارت میں واقع اس نیشنل پارک کا نام جم کاربٹ ہے جو سیاحوں کے لئے ایک دلکش مقام ہے ۔

اس ٹریلر میں بیئر گرائلز بھارتی وزیراعظم سے کہتے ہیں کہ چونکہ وہ بھارت کی انتہائی اہم شخصیت ہیں اس لیے اُن کا تحفظ وہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ اس کے جواب میں نریندر مودی کہتے ہیں کہ وہ جنگلات کی دنیا سے بخوبی آگاہ ہیں کیونکہ وہ قدرتی ماحول میں پلے بڑھے ہیں۔

اب جب ڈسکوری چینل نے اس خصوصی پروگرام کا ٹریلر جاری کیا ہے تو لوگ سوال کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم جنگلاتی حیات کے لئے تو خود کو اتنے فکر مند دکھاتے ہیں مگر ملک میں روز ہو رہے موب لنچنگ کے معاملات پر خاموش رہتے ہیں ۔ لو گ اب یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ اناؤ عصمت دری کے واقعہ میں بی جے پی کے رکن اسمبلی پر کیس درج ہے لیکن وہ پھر بھی پارٹی میں بنے رہتے ہیں اور ان کو پارٹی میں نہ صرف بنائے رکھا گیا ہے بلکہ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج اس رکن اسمبلی سے جیل میں جا کر ملاقات کرتے ہیں ۔ ایسے حالات میں ڈسکوری کے اس پروگرام پر سوال کھڑے ہونا لازمی ہیں ۔

دنیا میں بھارت کی بڑھتی ہوئی آبادی اور جنگلات کے کٹاؤ پر خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔ درختوں کی بےدریغ کٹائی کی وجہ سے جنگلاتی حیات میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ صرف جنگل کے جانور ہی نہیں بلکہ نایاب جڑی بوٹیاں بھی ناپید ہوتی جا رہی ہے۔

گرائلز کا کہنا ہے کہ اُن کا یہ پروگرام بھارت کی جنگلاتی حیات کی بھرپور عکاسی کرے گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پروگرام میں لوگ دیکھ سکیں گے کہ نریندر مودی کس طرح خود قدرتی ماحول کے تحفظ کے لیے جنگلوں میں جا کر اس آگہی مہم کا حصہ بنے۔ یہ تو اچھا ہے لیکن وزیر اعظم موب لنچنگ جیسے مسائل پر بھی اپنی قیادت کا مظاہرہ کریں اور اناؤ عصمت دری کے ملظیمین کو بھی پیغام دیں کہ سماج میں ایک انسان کی زندگی اور عزت کتنی اہمیت رکھتی ہے۔