جج بننے والی کھتولی کی زینت پروین، مسلم بیٹیوں کے لئے ’زینت‘

اتر پردیش کا جج کا امتحان پاس کرنے والی زینت پروین ہر وقت باحجاب رہتی ہیں۔ تیز آواز میں بات نہیں کرتی، گھر کے کاموں میں مدد کرتی ہیں اور روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کرتی ہیں۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

آس محمد کیف

اتر پردیش کا جج کا امتحان پاس کرنے والی زینت پروین ہر وقت باحجاب رہتی ہیں۔ تیز آواز میں بات نہیں کرتی، گھر کے کاموں میں مدد کرتی ہیں اور روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کرتی ہیں۔ زبان سے بھلے ہی زینت کم بولتی ہیں لیکن ان کے قلم نے خوب باتیں کیں اور انہیں کامیابی سے ہمکنار کر دیا۔ ویسے زینت کی یہ پہلی کامیابی نہیں ہے، وہ اس سے پہلے نیشنل ایلیجبلٹی ٹیسٹ (نیٹ) میں کامیابی حاصل کر چکی ہیں۔

کھتولی قصبہ کے ڈھاکن چوک کے مین بازار میں کچھ دکانوں کے اوپر دوسری منزل پر حاجی شکیل احمد اور ان کا خاندان رہائش پزیر ہے۔ ان کے آٹھ بچے ہیں اور زینت انہیں میں سے ایک ہے۔ زینت کے بڑے بھائی امن احمد نے بھی لا کی ڈگری حاصل کی ہے، وہ وکالت کے پیشہ میں ہیں۔ زینت اپنے بھائی کی رہنمائی میں ہی جج کے امتحان میں کامیاب ہوئی ہیں، اصل معنوں میں کھتولی کی ’زینت‘ بنی ہیں۔

جج بننے والی کھتولی کی زینت پروین، مسلم بیٹیوں کے لئے ’زینت‘
کھتولی: جج کے امتحان میں کامیاب ہونے والی زینت پروین

زینت نے ابتدائی تعلیم کھتولی سے حاصل کی ہے۔ وہ پڑھنے میں بچپن ہی سے ذہین تھیں، ہر وہ اسکول جس میں انہوں نے تعلیم حاصل کی اس کے ٹاپروں کی فہرست میں ان کا نام شامل ہے۔ گزشتہ سال انہوں نے ’نیٹ‘ کا امتحان پاس کیا تھا، اس کے بعد سے وہ مظفر نگر کے ایک نجی اسکول میں ٹیچنگ کر رہی تھیں۔

زینت کے والد حاجی شکیل احمد کھتولی کے بے حد شریف اور معززین میں سے ایک ہیں۔ انہیں کتابیں پڑھنے کا بہت شوق ہے، اس کی گواہی کتابوں سے بھری ان کی الماری دیتی ہے۔ شکیل احمد کہتے ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ سے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا۔ ان کی ایک بیٹی زینب بی ایڈ (بیچلر آف ایجو کیشن) کر چکی ہیں جبکہ تیسری درکشاں انجم ڈاکٹر بننے کی تیاری کر رہی ہیں۔

زینت پروین بھی یہ اعتراف کرتی ہیں کہ ان کے ’ابا جی‘ نے ہی انہیں اس مقام تک پہنچایا ہے۔ زینت کی قابلیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے پی سی ایس جے امتحان کے لئے صرف انٹریو میں مدد کے لئے کوچنگ حاصل کی۔

زینت کا کہنا ہے کہ ان سے انٹریو کے دوران ’قدرتی انصاف‘ سے متعلق سوالات زیادہ پوچھے گئے جن کا انہوں نے بے باکی سے جواب دیا۔

رمضان کے مہینے میں زینت نے اس لئے چھٹی لی ہوئی تھی کہ وہ عبادت کے لئے وقت نہیں نکال پا رہی تھیں۔ زینت کے والد کہتے ہیں کہ ’زینت نے ماہ رمضان کے دوران 7 قرآن مکمل کیے۔‘

زینت کہتی ہیں، ’’میرے ملک کا آئین مجھے میرے مذہب پر چلنے کی آزادی دیتا ہے۔ میں مذہبی ہوں تو ایسا کرنے سے ملک کا قانون نہیں روکتا۔‘‘

جج بن کر خاص بن چکیں زینت خود کو عام لڑکی ہی مانتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’مجھے نہیں لگتا کہ میں کوئی اسپیشل لڑکی ہوں۔ میں ویسی ہی ہوں جیسی تمام لڑکیاں ہوتی ہیں۔ ‘‘ وہ کہتی ہیں کہ ان کے گھر پر ٹی وی نہیں ہے اور موبائل فون کا استعمال وہ صرف ضرورت پڑنے پر ہی کرتی ہیں۔

جج بننے والی کھتولی کی زینت پروین، مسلم بیٹیوں کے لئے ’زینت‘
کھتولی: جج کے امتحان میں کامیاب ہونے والی زینت پروین اپنی بہن کے ساتھ

زینت کہتی ہیں، ’’میری دوستی صرف کتابوں سے ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ میرا خاندان بہت ڈسپلن والا ہے۔اس کی وجہ سے میں نے دل سے پڑھائی کی اور بیجا چیزوں کی طرف کبھی میرا ذہن نہیں گیا۔ ‘‘

زینت کے بڑے بھائی ضمیر احمد نے کہا، ’’زینت عام لڑکیوں کی طرح نہیں ہے۔ وہ شادیوں میں نہیں جاتی۔ وہ کسی سے بات نہیں کرتی ہے، اس کی باتیں صرف کتابوں تک محدود ہوتی ہیں۔ وہ صرف علم کو حاصل کرنے کے لئے سوال کرتی ہے۔ وہ ایسی بہن ہے جس پر کسی بھی بھائی کو ناز ہوتا ہے۔‘‘

زینت کے والد حاجی شکیل کہتے ہیں، ’’ہم نے زینت سے کہا ہے کہ بیٹی انصاف کرنے میں کبھی کوتاہی مت کرنا اور کسی کے ساتھ بھید بھاؤ سے کام مت لینا۔ ‘‘ زینت کی امی اس بات سے ڈری ہوئی ہیں کہ ان کی بیٹی تربیت میں اکیلی رہے گی!

زینت کی بہن زینب نے کہا، ’’زینت نے کھتولی کی تمام بیٹیوں کو ایک بہترین تحفہ دیا ہے۔ اب متعدد لڑکیاں آگے بڑھنے کے لئے حوصلہ افزا ہوں گی۔ وہ زینت سے ملاقات کے لئے آ رہی ہیں۔ ‘‘

Published: 28 Jul 2019, 4:10 PM