تعلیم اور کیریر

یوپی: یوگی حکومت نے کی 4 ہزار اردو اساتذہ کی بھرتی منسوخ

اترپردیش حکومت کی جانب سے دلیل دی گئی ہے کہ محکمہ میں پہلے سے ہی ضرورت سے زیادہ اردو اساتذہ موجود ہیں لہذا اب مزید اردو اساتذہ کی ضرورت نہیں ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

اترپردیش کی یوگی حکومت کا مسلمانوں اور ان سے وابستہ چیزوں کے ساتھ امتیازی سلوک بدستور جاری ہے۔ اردو کو صرف مسلمانوں کی زبان سمجھتے ہوئے اترپردیش حکومت نے سابقہ سماجوادی حکومت کے دوران شعبہ پرائمری تعلیم میں نکلنے والی 4 ہزار اردو اساتذہ کی بھرتی کو منسوخ کر دیا ہے۔

حکومت کی جانب سے دلیل دی گئی ہے کہ محکمہ میں پہلے سے ہی ضرورت سے زیادہ اردو اساتذہ موجود ہیں لہذا اب مزید اردو اساتذہ کی ضرورت نہیں ہے۔

غور طلب ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی حکومت کے دور میں 15 دسمبر 2016 کو پرائمری اسکولوں میں 4000 اردو اساتذہ کی تقرری کو منظوری دی گئی تھی۔ اس کے لئے بیسک ایجوکیشن کونسل کی طرف سے چلنے والے پرائمری اسکولوں میں اسسٹنٹ ٹیچروں کی 16460 اسامیوں میں سے 4000 کو اردو اساتذہ کے لئے مختص کرتے ہوئے تقرری کا عمل شروع کیا گیا تھا۔

حکومت تبدیل ہو جانے کے بعد بھرتی کا یہ عمل سرد خانہ میں ڈال دیا گیا۔ لیکن حکومت نے اب اس بھرتی کے عمل کو ہی منسوخ کرنے کا فیصلہ لے لیا ہے۔ یعنی اب اساتذہ کی بھرتی تو ہوگی لیکن تمام 16460 عہدے اب عام اسکولوں کے اساتذہ سے پُر کئے جائیں گے۔

ایجوکیشن ڈائریکٹر کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق ’’پرائمری اسکولوں میں طے اساتذہ سے زیادہ تعداد میں اردو اساتذہ تعینات ہیں لہذا اب اردو اساتذہ کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

اس سے قبل اکھلیش حکومت نے اپنے دور اقتدار میں تین مرتبہ اردو اساتذہ کی بھرتی کی تھی اور 7 ہزار اردو اساتذہ کی تقرری کی گئی تھی۔ پہلی مرتبہ 2013 میں اردو اساتذہ کے لئے 4280 عہدوں کا اعلان کیا گیا، اس کے بعد 2014 میں دوسری بھرتی نکالی گئی اور بقیہ اساتذہ کے عہدوں کو پر کیا گیا۔ تیسری مرتبہ 3500 اردو اساتذہ کے عہدوں کے لئے احکام جاری ہوا۔ 4 ہزار اردو اساتذہ کی اسامیوں کو پر کرنے کے لئے اکھلیش حکومت نے دسمبر 2016 میں ہی اعلان کیا تھا۔

یوگی حکومت پر اکثر مسلمانوں سے وابستہ مسائل کو نظر انداز کرنے کا الزام لگتا رہتا ہے۔ حال ہی میں تاریخی مغل سرائے جنکشن کا نام تبدیل کر کے پنڈت دین دیال اپادھیائے کے نام پر کر دیا گیا۔ وہیں سال 2017 میں اتر پردیش سیاحت سے وابستہ کتابچہ سے دنیا کے سات عجوبوں میں شمار تاج محل کو نکال دیا گیا اور اس کتابچہ میں گورکھ ناتھ مندر کو جگہ دی گئی تھی۔ جس کے بعد سیاسی ہنگامہ آرائی بھی ہوئی تھی۔

حال ہی میں یوگی حکومت نے آگرہ، بریلی اور کانپور کے ہوائی اڈوں کے نام بدلنےکی تجویز مرکزی حکومت کے پاس بھیجی ہے۔ یو گی حکومت نے بریلی ہوائی اڈے کا نام ’ناتھ نگری‘، کانپور کے چکیری ہوائی اڈے کا نام ’گنیش شنکر ودیارتھی‘ اور آگرہ کے ہوائی اڈے کا نام ’دین دیال اپادھیائے‘ کے نام پر کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

Published: 9 Oct 2018, 1:08 PM