مہاتما گاندھی بین الاقوامی ہندی یونیورسٹی کے داخلہ نوٹیفیکشن سے اردو زبان غائب!

مہاتما گاندھی بین الاقوامی ہندی یونیورسٹی وردھا مہاراشٹر کا 2020-21 داخلہ نوٹیفکیشن ہے، اس میں اردو کو نظر انداز کردیا گیا ہے جبکہ یہاں پر 2016 سے شعبہ اردو قائم ہے

تصویر بشکریہ شکشا ڈاٹ کام
تصویر بشکریہ شکشا ڈاٹ کام
user

یو این آئی

نئی دہلی /وردھا: اردو کے ساتھ امتیاز کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ بہار میں گزشتہ مئی میں ایک سرکلر کے ذریعہ اردو کو لازمی کے بجائے اختیار مضمون قرار دے دیا گیا ہے اور اب اس سلسلے میں مہاراشٹر کے وردھا کی مہاتما گاندھی بین الاقوامی ہندی یونیورسٹی کا نام جڑ گیا ہے جہاں اس سال کے داخلہ نوٹیفیکشن میں اردو کورس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

داخلہ نوٹیفیکشن کے مطابق ہندی سمیت تمام زبانوں کو جگہ دی گئی ہے لیکن اردو کو غائب کردیا گیا ہے۔ اس وقت اردو میں چھ طلبہ ہیں جب کہ سرٹیفیکٹ کورس میں کوئی نہیں ہے۔ سرٹیفیکٹ کورس میں چار طلبہ نے داخلہ لیا تھا لیکن چھ کی شرط کی وجہ سے کورس شروع نہیں کیا گیا حالانکہ دو مزید طالب علم آگئے تھے لیکن وقت ختم ہونے کی بات کہہ کر داخلہ نہیں دیا گیا اور اس طرح سرٹیفیکٹ کورس میں داخلہ نہیں ہوسکا۔

ذرائع کے مطابق کم تعداد میں داخلہ صرف اردو میں ہی نہیں ہے بلکہ ہندی کے علاوہ ساری زبانوں کا یہی حال ہے۔ بیشتر کورسوں میں تین، چار، پانچ، یا چھ طلبہ ہی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ سارے کورس کا نام ایڈمیشن نوٹیفیکشن میں ہے اور سارے شعبے چل رہے ہیں لیکن اردو کا نام غائب ہے۔ اسی طرح سرٹیفیکٹ کورس میں چائنیز، جاپنیز، اسپائنش، فرینچ، مراٹھی اور سنسکرت کا نام ہے لیکن یہاں بھی اردو کا نام غائب ہے۔

واضح رہے کہ مہاتما گاندھی بین الاقوامی ہندی یونیورسٹی وردھا مہاراشٹر کا 2020-21 داخلہ نوٹیفکیشن ہے، اس میں اردو کو نظر انداز کردیا گیا ہے جبکہ یہاں پر 2016 سے شعبہ اردو قائم ہے اور باقاعدہ طور پر ایم اے اردو اور سرٹیفکیٹ کورس کرائے جاتے رہے ہیں لیکن امسال یونیورسٹی نے اردو میں داخلہ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انتظامیہ چاہتی ہے کہ اس سال شعبہ اردو کو شعبہ ہندی میں مدغم کردیا جائے اور جب یہ طلبہ اگلے سال کورس سے فارغ ہوجائیں گے تو شعبہ ختم کردیا جائے گا کیوں کہ اس سال جب داخلہ نہیں ہوگا تو اگلے سال شعبہ خود بخود ختم ہوجائے گا۔

دہلی میں اردو سے محبت کرنے والوں نے تمام محبان اردو سے اپیل ہے کہ وہ اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں اور شعبہ اردو کے اردو ایم اے اور سرٹیفیکٹ کورس کو بند ہونے سے بچالیں۔ ساتھ ہی زیادہ سے زیادہ طلبہ جہاں جہاں بھی اردو کے کورس ہیں وہاں داخلہ لیں۔ کیوں کہ اس طرح کی تلواریں دیگر یونیورسٹیوں کے شعبہ اردو پر لٹک رہی ہیں۔

next