سرکاری مدرسوں میں نافذ ہوگا ’سیکولر‘ تعلیمی نظام، آسام حکومت سرمائی اجلاس میں لائے گی بل

رپوٹ کے مطابق تمام مدارس کے نام تبدیل کیے جائیں گے اور لفظ ’مدرسہ‘ ہٹا دیا جائے گا، تاکہ آگے کی تعلیم حاصل کرنے میں طالب علموں کو کسی طرح کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

مدرسہ میں تعلیم حاصل کرتے بچے / Getty Images
مدرسہ میں تعلیم حاصل کرتے بچے / Getty Images
user

قومی آوازبیورو

گوہاٹی: آسام کی سربانند سونووال کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے ریاست میں تمام سرکاری مدرسوں اور سنسکرت اسکولوں کو بند کرنے کی تجویز کو منظوری فراہم کر دی ہے اور اب اس کے حوالہ سے اسمبلی میں ایک بل لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اتوار کے روز ہونے والے کابینہ کے ایک اجلاس میں یہ فیصلہ لیا گیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق آئندہ سرمائی اجلاس کے دوران اسمبلی میں بل پیش کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ آسام اسمبلی کا سرمائی اجلاس 28 دسمبر سے شروع ہونے والا ہے۔ آسام حکومت میں پارلیمانی امور کے وزیر اور حکومت کے ترجمان چندر موہن پٹواری نے بتایا کہ مدرسہ اور سنسکرت اسکولوں سے جڑے موجودہ قوانین کو واپس لے لیا جائے گا۔ اس کے لئے ریاستی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں ایک آرڈیننس لایا جائے گا۔

ٹائمس آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ریاستی وزیر نے کہا کہ مدرسہ تعلیمی بورڈ سال 2021-22 امتحانات کے نتائج آنے کے بعد تحلیل کر دیا جائے گا اور تمام ریکارڈ، بینک کھاتے اور عملہ ثانوی تعلیمی بورڈ، آسام میں منتقل کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت مدرسہ بورڈ کے عملہ کی خدمات حاصل کرے گی اور ان کی ملازمت کے ضوابط میں سبکدوشی تک کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

رپوٹ کے مطابق تمام مدارس کے نام تبدیل کیے جائیں گے اور لفظ ’مدرسہ‘ ہٹا دیا جائے گا، تاکہ آگے کی تعلیم حاصل کرنے میں طالب علموں کو کسی طرح کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یکم اپریل 2021 کے بعد سرکاری مدرسوں میں ان کورسز میں کوئی نیا داخلہ نہیں لیا جائے گا جو مدرسہ تعلیمی بورڈ سے منظور شدہ ہیں۔

اس سے پہلے ایک بیان میں آسام کے وزیر تعلیم ہیمنت بسوا شرما نے کہا تھا کہ ریاستی حکومت کی طرف سے مدرسوں اور سنسکرت اسکولوں کو جلد مستقل طور پر اسکولوں کے طور از سر نو تشکیل دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی تعلیم کے لئے سرکاری فنڈ کا استعمال نہیں کیا جا سکتا، لہذا ریاستی مدرسہ تعلیمی بورڈ، آسام کو تحلیل کر دینا چاہیے۔ وزیر تعلیم شرما نے مزید کہا تھا کہ آسام میں 610 سرکاری مدرسے ہیں اور حکومت ان اداروں پر ہر سال تقریباً 260 کروڑ روپے خرچ کرتی ہے۔

وہیں، بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر اور اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر امین الحق لسکر نے کہا تھا کہ جو مدرسے نجی تنظیموں کی طرف سے چلائے جاتے ہیں، انہیں بند نہیں کیا جائے گا اور صرف سرکاری مدارس کو ہی بند کیا جا رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔