قوموں کے عروج و زوال میں کتابوں اور لائبریریوں کا کردار انتہائی اہم: ڈاکٹر مہربان علی

الحکمہ پبلک لائبریری کے بانی ڈاکٹر مہربان علی نے کہا کہ آج ہمارا معاشرہ جدید تکنالوجی کا استعمال حصول علم کے بجائے لغو باتوں کے لیے زیادہ کرتا ہے اور ہم کتابو ں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

معاشرتی اصلاح میں کتابوں کی اہمیت اورکردار کا ذکر کرتے ہوئے سروودے بال ودیالہ دہلی کے سینئر استاذ ڈاکٹر مہربان علی نے کہا کہ قوموں کے عروج و زوال میں کتابوں اور لائبریریوں کا اہم کردار ہوتا ہے اس لئے ہمیں گوناگوں ترقی کے لئے اپنی زندگی کو کتابوں سے وابستہ کرنا چاہئے۔یہ بات انہوں نے آج یہاں الحکمہ بپلک لائبریری کا افتتاح اور ’اصلاح معاشرہ اوراس کی تدابیر‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

الحکمہ پبلک لائبریری کے بانی ڈاکٹر مہربان علی نے لائبریری کے قیام کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارا معاشرہ جدید تکنالوجی کا استعمال حصول علم کے بجائے لغو باتوں کے لئے زیادہ کرتا ہے اور ہم کتابو ں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس لئے ہمارے معاشرے سے اچھے اور قابل افراد نہیں نکل رہے ہیں اور ہمارے درمیان سے ڈاکٹر، انجینئر، سول سرونٹ، استاذ دیگر علوم کے ماہرین نہیں نکل رہے ہیں۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کتابوں کی طرف رجوع کریں اور کتابوں سے استفادہ کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ لائبریری انشاء اللہ اس کمی کو پوری کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے گی۔

ہیومن ایجوکیشن اینڈ ریلیف ایسوسی ایشن نیپال اور ہدی بپلک اسکول کے چیرمین مولانا شہاب الدین اصلاحی مدنی نے عوام کے ساتھ علمائے کی اصلاح پر زور دیتے ہوئے کہاکہ کتابیں نہ صرف ہماری بہترین دوست ہیں بلکہ بہت سی برائیوں سے بھی روکتی ہیں۔ کتابیں پڑھ کر ہم بہت سی برائیوں سے دور ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے ناقص معلومات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ آج کل عام لوگ ہی نہیں بلکہ علماء کرام بھی انٹرنیٹ پر موجود مواد جیسے یوٹیوب وغیرہ سے استفادہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ انٹرنیٹ پر عام طور پر ناقص معلومات ہوتی ہے اورہم اسے صحیح مان لیتے ہیں اور معاشرے میں غلط معلومات کی تشہیر ہوجاتی ہے۔ اس لئے ہمیں صحیح معلومات کے لئے کتابوں کی طرف رجوع کرناچاہئے۔ انہوں نے کہاکہ کتابوں سے دوری نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔

مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے سیمانچل سے تعلق رکھنے والے یو این آئی نئی دہلی کے سینئر صحافی عابد انور نے کہاکہ جس قوم کی ابتداء ہی اقراء سے ہوئی ہے وہ قوم آج ٹھوکروں کی زد پر ہے۔ان کی کوئی وقعت ہے نہ عزت اور جو چاہتا ہے وہ ٹھوکر مار کرچلا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہم دنیامیں اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی ساری توجہ تعلیم پر دینی ہوگی اور اپنے یہاں اعلی معیار کے ہر فن کے ماہرین پیدا کرنے ہوں گے۔ ساتھ میں انہوں نے کہاکہ لڑکوں کی تعلیم کے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم پر بھی یکساں توجہ دینی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی ترک تعلیم کی شرح بہت زیادہ ہے۔

ڈاکٹر محی الدین فلاحی نے جہالت اور تاریکی سے روشنی کی طرف لوٹنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کبھی ایسا کام نہیں کرنا چاہئے جس سے دوسروں کو تکلیف ہو۔ یہ اصلاح معاشرہ کی کلید ہے اور جہاں معاشرہ میں انصاف اور احترام ہوتا ہے وہ معاشرہ بہترین معاشرہ ہوتا ہے۔ انہوں نے علم کا ماحول قائم کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہاکہ قرآن ایک عمل کی کتا ب ہے اور ہمیں اسی سے اپنی ہدایت حاصل کرنا چاہئے۔

اس موقع پر شہاب الدین اصلاحی نے کہاکہ اس لائبریری کی سخت ضرورت تھی اور اس سے علاقے کی ضرورت تھی اور اس سے حوالہ جات کے لئے استفادہ کیا جاسکے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں معاشرتی خامیوں کو دور کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔ اصلاح معاشرہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے صلاح الدین فلاحی نے کہاکہ جب قوم اپنے مقصد سے ہٹ جاتی ہے تو وہ راستے سے بھٹک جاتی ہے اورغلط راستے پر چلنے لگتی ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ ہماری قوم عمل سے زیادہ تقریر پر یقین رکھتی ہے اور امید ہے کہ یہ لائبریری لوگوں کوپڑھنے کی طرف متوجہ کرے گی۔ اس کے اہم شرکاء میں حافظ افضل، نظام الدین فلاحی، ماسٹر خالد، مولوی عالم، سلیم انصاری، عرفان عالم ندوی، موسی ندوی، عین الحق انصاری اورمولانا صدر الدین نوری شامل تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔