دہلی یونیورسٹی کے چار ہزار اڈہاک اساتذہ کا مستقبل خطرے میں

دہلی یونیورسٹی پرنسپل یونین نے اڈھاک ٹیچروں کی تقرری پر 28 اگست کے خط کے سلسلے میں وائس چانسلر سے وضاحت کا مطالبہ کیا گیا ہے، جواب نہ ملنے تک ہزاروں اڈھاک اساتذہ کی تقرری پر خطرے پنڈلا رہا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: دہلی یونیورسٹی پرنسپل یونین (ڈوپا) نے اڈھاک ٹیچروں کی تقرری سے متعلق 28 اگست کے خط کے سلسلے میں وائس چانسلر یوگیش کمار تیاگی سے وضاحت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ خط کا جواب نہ ملنے تک ہزاروں اڈھاک اساتذہ کی تقرری خطرے میں پڑنے کے ساتھ بحران میں شدت پیدا ہو گئی ہے۔ دہلی یونیورسٹی ٹیچر ز یونین (ڈیوٹا) نےا س بحران کے سلسلے میں4 دسمبر سے مکمل ہڑتال پر جانے کا فیصلہ کیا ہے جس کی وجہ سے سبھی اساتذہ اگزام ڈیوٹی کا بائیکاٹ کریں گے اور کاپیاں بھی نہیں جانچیں گے۔

ڈوپا کے صدر ڈاکٹر جسوندر سنگھ اور سکریٹری منوج سنہا نے تیاگی کو سنیچر کو خط لکھ کر کہا ہے کہ 28 اگست کے خط میں مستقل تقرریوں ہونے تک نئے عہدوں پر گیسٹ ٹیچروں کی تقرری کی بات لکھی گئی ہے اس لئے پہلے سے پڑھارہے اڈھاک ٹیچروں کی تقرریوں کو جاری رکھنے کے معاملے میں ان کے عہدے کو نیا عہدہ تسلیم کیا جانا چاہئے یا نہیں، اس مسئلہ میں یونیورسٹی اپنا رخ واضح کرے اور جب تک صورت حال واضح نہیں ہوتی ہے تب تک اڈھاک ٹیچروں کی تقرری خطرے میں پڑ گئی ہے۔

اس واقعہ سے چار ہزار سے زیادہ اڈھاک ٹیچروں پر خطرے کی تلوار لٹک رہی ہے اور یونیورسٹی میں غیر یقینی کا ماحول پیدا ہوگیا ہے اور یہ سوال بھی اٹھ گیا ہے کہ طالب علموں کا مستقبل کیا ہوگا۔ کئی کالجوں میں اڈھاک ٹیچروں کی تنخواہ بھی روکنے جانے کی خبر ہے جس کی وجہ سے اڈھاک ٹیچر وں میں تشویش کی صورت حال پیداہوگئی ہے۔ یہ اساتذہ دس برسوں سے زیادہ عرصے سے کالجوں میں پڑھا رہے ہیں اور مستقل تقرریوں کا انتظام کررہے ہیں۔

ڈوٹا کے ایکزی کیٹیو باڈی نے کل ہی یہ مطالبہ کیا تھا کہ یونیورسٹی 28 اگست کا خط واپس لے جس میں خالی عہدوں پر صرف گیسٹ ٹیچروں کو تقرری کی بات لکھی گئی ہے۔ اس کے خلاف میں دس ہزار اساتذہ بدھ سے ہڑتال پر چلے جائیں گے۔ان اساتذہ نے معاشی طور سے کمزور طالب علموں کے ریزرویشن کے لئے مزید عہدے محفوظ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    Published: 30 Nov 2019, 11:11 PM