اے ایم یو کی تعلیم نے مہناز راؤ کے جج بننے کی راہ آسان کر دی

مہناز کا کہنا ہے کہ ان کی کامیابی میں جہاں ایک طرف ان کے ابو کی محنت اور امی کی دعائیں شامل ہیں وہیں دوسری طرف اے ایم یو سے حاصل کی گئی تعلیم نے بھی اس امتحان میں کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

آس محمد کیف

اتر پردیش پبلک سول سروس کمیشن (یو پی پی ایس سی) کی طرف سے منعقد کرائے جانے والے جج کے امتحان میں مسلم لڑکیوں کی خاطر خواہ تعداد میں کامیاب ہونے کے بعد مسلم لڑکیوں میں خاصہ جوش نظر آ رہا ہے۔ اس مرتبہ پی سی ایس جے میں 18 مسلم لڑکیاں کامیاب رہیں اور ان میں سے اکثریت کا تعلق دیہی پس منظر سے ہے۔

میرٹھ میں پرتاپور بائی پاس کے نزدیک واقع پلیہڑا گاؤں کی بیٹی مہناز راؤ بھی کامیاب ہونے والی مسلم لڑکیوں میں سے ایک ہیں۔ مہناز نے 12 ویں تک کی تعلیم میرٹھ سے حاصل کی ہے۔ آٹھویں کلاس تک وہ یو پی بورڈ سے پڑھیں جبکہ 12ویں انہوں نے سی بی ایس ای بورڈ سے کی۔

اے ایم یو  کی تعلیم نے مہناز راؤ کے جج بننے کی راہ آسان کر دی

مہناز کا کہنا ہے کہ ان کی کامیابی میں جہاں ایک طرف ان کے ابو کی محنت اور امی کی دعائیں شامل ہیں وہیں دوسری طرف اے ایم یو سے حاصل کی گئی تعلیم نے بھی اس امتحان میں کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

مہناز نے کہا، ’’میں ایک اوسط طالبہ تھی اور کسی اہم تقابلی امتحان میں پاس ہونے کا میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔ میں بس پڑھ رہی تھی اور میری ایک ہی خواہش تھی کہ بس کسی طرح اے ایم یو میں داخلہ ہو جائے۔ ‘‘ مہناز کو آخرکار اے ایم یو میں داخلہ مل گیا۔

وہ کہتی ہیں، ’’اے ایم یو میں جانے کے بعد میری زندگی ہی بدل گئی۔ وہاں بالکل الگ طرح کی دنیا ہے۔ میں نے وہاں ایل ایل بی میں داخلہ لیا اور وہیں ریزیڈینشیل تیاری کی۔ میں یقیناً آج جو کچھ بھی ہوں وہ اے ایم یو کی تعلیم و تربیت کا ہی نتیجہ ہے۔ مہناز نے اے ایم یو سے ’بی اے ایل ایل بی‘ کی ڈگری حاصل کی ہے اور وہیں انہوں نے رہائشی طالبہ کے طور پر پی سی ایس جی کی تیاری کی۔

مہناز نے بتایا، ’’یقیناً میں آج جو کچھ بھی ہوں اس میں اے ایم یو کا اہم کردار ہے۔ وہاں میری خود اعتمادی میں اضافہ ہوا اور مجھے بہت اچھے ساتھی ملے جن کے ساتھ مل کر میں نے تیاری کی۔ یہی وجہ سے کہ اس مرتبہ اے ایم یو کے 33 طلبا و طالبات پی سی ایس جے کے امتحان میں کامیاب ہوئے ہیں۔‘‘

اے ایم یو  کی تعلیم نے مہناز راؤ کے جج بننے کی راہ آسان کر دی

مہناز کی شادی ہو چکی ہے اور ان کے شوہر محمد بلند دبئی میں ملازمت کرتے ہیں۔ شاملی ضلع کے انتخابی رجنش کے لے شہرت یافہ بنتی کھیڑہ میں ان کی سسرال ہے اور سسر مہربان گاؤں کے پردھان ہیں۔ مہناز کی والدہ کبھی اسکول نہیں گئیں اور والد محض آٹھویں تک پڑھے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے ایک بھائی نے آئی آئی ٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ان کے دوسرے بھائی ڈاکٹر ہیں جبکہ ایک بہن مائیکروبائلوجی میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔

مہناز کے والد نے کہا، ’’میں مودی نگر کی فیکٹری میں ٹھیکہ داری کرتا تھا، اللہ کا شکر ہے کہ پیسے کی تنگی نہیں تھی۔ وہاں افسران سے بہتر تعلقات بن گئے اور ان کے بچوں کو دیکھ کر مجھے اپنے بچوں کو بھی تعلیم یافتہ بنانے کا خیال آیا۔‘‘

جس وقت پی سی ایس جے کا نتیجہ آیا مہناز اپنی سسرال بنتی کھیڑہ میں تھیں۔ جیسے ہی لوگوں کو اطلاع ملی بالخصوص لڑکیاں مبارک باد پیش کرنے کے لئے آنے لگیں۔ باحجاب رہنے والی مہناز کہتی ہیں، ’’مسلم بیٹیاں اب گھروں سے باہر نکل کر ترقی حاصل کر رہی ہیں۔ حجاب ہمیں آگے بڑھنے سے نہیں روکتا، بلکہ حجاب تو لڑکیوں میں اعتماد پیدا کرتا ہے۔‘‘

مہناز نے مزید کہا، ’’میرے ابو کم پڑھے لکھے ضرور تھے لیکن انہوں نے ہمیں تعلیم یافتہ دیکھنے کا خواب دیکھا جو آج پورا ہو گیا۔ میری سسرال والے بھی اچھے ہیں کیوںکہ انہوں نے مجھے تعاون دیا اور آگے پڑھنے سے نہیں روکا۔‘‘

Published: 4 Aug 2019, 6:10 PM