’جوہر یونیورسٹی رامپور کی بربادی سے ملک و قوم کا زبردست نقصان ہوگا‘

آل انڈیا مسلم مجلس کے قومی جنرل سکریٹری اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق رجسٹرار حسیب احمد نے کہا کہ یونیورسٹی کے خلاف مسلسل چل رہے پروپیگنڈہ کے دوران طلبہ اور اساتذہ اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں

محمد علی جوہر یونیورسٹی / سوشل میڈیا
محمد علی جوہر یونیورسٹی / سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: تعصب کا شکار ملک میں زیر بحث اترپردیش رامپور کی جوہر یونیورسٹی کے بارے میں ملک کی سیکولر سیاسی پارٹیوں کی خاموشی پر سخت تنقید کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم مجلس کے قومی جنرل سکریٹری اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق رجسٹرار حسیب احمد نے کہا کہ یونیورسٹی کے خلاف مسلسل منفی پروپیگنڈہ چلائے جانے سے یونیورسٹی کے طلبہ اور اساتذہ اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔

انہوں نے یہ بات ایک وفد کے ہمراہ جوہر یونیورسٹی کا دورہ کرنے کے بعد ایک بیان جاری کرکے کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ یونیورسٹی عام لوگوں کو اور خصوصاً تعلیمی پسماندگی کے شکار مسلمانوں اور مسلم لڑکیوں کو نسبتاً کم فیس لیکر اعلیٰ تعلیم مہیا کرا رہی ہے لیکن یونیورسٹی کے خلاف مسلسل منفی پروپیگنڈہ ہورہا ہے اور اب یونیورسٹی کا صدر دروازہ منہدم کرنے کی تیاری ہے۔ یونیورسٹی کے خلاف اس مہم کے باعث یونیورسٹی میں داخلوں میں بہت گراوٹ آئی ہے۔ زیر تعلیم طلبا اور اساتذہ اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔


انہوں نے کہاکہ حکومت کے علاوہ تمام سیاسی جماعتیں جو مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا شکوہ کرتی رہتی ہیں اس معاملے میں نہ جانے کس مصلحت کا شکار ہیں کیوں زوردار احتجاج کرنے سے کترارہی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت تعلیمی اداروں کو زمین مہیا کراتی ہے لہذا اگرجوہر یونیورسٹی کیمپس کچھ اراضی پر اعتراض ہے تو معاملہ عدالت کے باہر تصنفیہ کراکے طے کیا جاسکتا ہے۔ جوہر یونیورسٹی نہ صرف تعلیمی خدمات انجام دے رہی ہے بلکہ کورونا وبا کے ضمن میں بھی یونیورسٹی نے بلا لحاظ مذہب و ملت قابل ستائش کام کیا ہے اور ضلع حکام کا تعاون کرکے کووڈ کے علاج کا سینٹر یونیورسٹی میں قائم کیا اور ڈاکٹروں اور طبّی عملے کو یونیورسٹی کے رہائشی علاقہ میں قیام فراہم کیا۔ لہٰذا اس یونیورسٹی کا استحکام ملک وقوم کے مفاد میں ہے اور اس کا زوال پذیر ہونا ملک اور قوم کا نقصان ہوگا۔

حسیب احمد نے مزید کہا کہ ہمیں صداقت و استقامت کے ساتھ تعلیمی مشن جاری رکھنا ہے۔ یونیورسٹیوں، کالجوں اور مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے طلباء اور نوجوانوں کو مستقبل کی قیادت کے لئے تیار کرنا ہے۔ اسی مقصد کے حصول کے لئے آل انڈیا مسلم مجلس نے پروفیسر ڈاکٹر بصیر احمد سابق پرووائس چانسلر اندراگاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی و سابق صدر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبا یونین کو صدر منتخب کرکے سیاسی و سماجی سطح پرایک تعلیم یافتہ ٹیم فراہم کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ ملت کا اعتماد بحال ہو۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔