جس میدان میں ضرورت محسوس ہو اساتذہ تحقیق پر توجہ دیں: پروفیسر محمود صدیقی

پروفیسر صدیقی نے کہا کہ اساتذہ کو جس میدان میں کام کی ضرورت محسوس ہو اس پر توجہ کے ساتھ تحقیق کا آغاز کریں۔ اس کا خیال رکھیں کہ اخلاقیات و اچھے اقدار کی پاسداری کسی بھی کام و تحقیق کے لیے ضروری ہے۔

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد / تصویر آئی اے این ایس
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد / تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

حیدرآباد: اساتذہ تربیتی پروگرام (ایف ڈی پی) میں حصہ لینے والے اساتذہ اس بات کا تجزیہ کریں کہ انہوں نے اس پروگرام سے کیا سیکھا ہے۔ وہ جس میدان میں مزید کام کی ضرورت محسوس ہو اس پر پوری توجہ کے ساتھ تحقیق کا آغاز کریں۔ اس بات کا پورا خیال رکھیں کہ اخلاقیات و اچھے اقدار کی پاسداری کسی بھی کام و تحقیق کے لیے ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار کل شام ”تعمیراتی ٹیکنالوجی“ پر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، پالی ٹیکنیک حیدرآباد کے فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام میں پروفیسر صدیقی محمد محمود، رجسٹرار انچارج نے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس پروگرام کو آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن (اے آئی سی ٹی ای) نے اٹل اسکیم کے تحت اسپانسر کیا تھا۔ پروگرام کا آن لائن افتتاح 23 نومبر کو ڈاکٹر رمیش پوکھریال نشانک، مرکزی وزیرِ تعلیم، حکومت ہند کے ہاتھوں عمل میں آیا تھا۔ افتتاحی پروگرام میں پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، وائس چانسلر انچارج نے خیر مقدم کیا تھا۔ 23 سے 27 نومبر 2020 اردو یونیورسٹی، پولی ٹیکنک حیدرآباد کے ذریعہ ''تعمیراتی ٹکنالوجی'' پر 5 روزہ کامیاب پروگرام کی تکمیل کے موقع پر پروگرام کو اسپانسر کرنے کے لیے پروفیسر صدیقی محمد نے اٹل۔اے آئی سی ٹی ای کے عہدیداروں کا شکریہ ادا کیا ہے اور تمام شرکاء اور منتظمین کو مبارکباد دی ہے۔

اختتامی اجلاس کے مہمانِ اعزازی پروفیسر عبدالواحد، ڈین اسکول آف ٹیکنالوجی نے موجودہ ٹیکنالوجی کے دور میں تعمیراتی ٹیکنالوجی کے میدان میں تحقیق اور اختراع کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ڈائرکٹر پروگرام ڈاکٹر محمد یوسف خان، پرنسپل پالی ٹیکنک حیدرآباد، نے بتایا کہ پالی ٹیکنک حیدرآباد کے زیر اہتمام مختلف تکنیکی شعبوں میں اٹل اسکیم کے تتحت اساتذہ تربیتی پروگرام منعقد کیے جائیں گے اور تعمیراتی ٹیکنالوجی کے لیے ایک کنسلٹنسی بھی قائم کی جائے گی۔ پروگرام کے کوآرڈینیٹر، ڈاکٹر زیڈ عبدالرحیم، ایسوسی یٹ پروفیسر نے پروگرام کی تفصیلات پیش کیں اور شکریہ ادا کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next