سترہ فرضی ٹیچروں کے خلاف مختلف تھانہ میں دو سال بعد کیس درج

ملزمان کی بی ایڈ کی ڈگریاں فرضی تھیں اور 19 ایسے تھے جو بغیر شکشا متر کے ملازمت حاصل کر ٹیچر بن گئے تھے ۔

تصویرسوشل میڈیا بشکریہ جاگرن
تصویرسوشل میڈیا بشکریہ جاگرن
user

یو این آئی

اترپردیش میں پرتاپگڑھ ضلع کی پولیس نے محکمہ بیسک ایجوکیشن میں فرضی اسناد کے سہارے ٹیچر کی ملازمت حاصل کرنے والے سترہ فرضی ٹیچروں کے خلاف دو سال بعد منگل کو بلاک ایجوکیشن افسران کی شکایت پر مختلف تھانہ میں شدید دفعات میں کیس درج کیا ہے ۔

ضلع بیسک ایجوکیشن افسر اشوک کمار سنگھ نے بتایا کہ فرضی اسناد کے سہارے ملازمت حاصل کرنے والے سترہ فرضی ٹیچروں کو دو سال قبل 2018 میں برخاست کر انکے خلاف کیس درج کرانے کی ہدایت دی گئ تھی ۔بلاک ایجوکیش افسران کی شکایت پر منگل کو فرضی ٹیچر برجیندر ،شیومورت سنگھ ، رمیض خاں ، ذاکرہ بانوں ،سنجیو کمار ،سشما ورما ، راگنی سنگھ ، کملیش کمار ،اوشا پٹیل ،سنیل شکل ،مینا دیوی ،سبودھ سنگھ، اوما سروج، پشپا پٹیل ،راکیش کمار ،اروند کمار و ریاست علی سمیت سترہ ٹیچروں کے خلاف مختلف تھانہ میں کیس درج کرایا گیا ۔

واضح کردیں کی ضلع میں 2017 سے ابھی تک 49 فرضی ٹیچروں کے خلاف کیس درج کرایا جا چکا ہے ۔مذکوہ زیادہ تر ملزمان کی بی ایڈ کی ڈگریاں فرضی تھیں اور 19 ایسے تھے جو بغیر شکشا متر کے ملازمت حاصل کر ٹیچر بن گئے تھے ۔

next