وشاکھاپٹنم: گھڑسواری کر کے بچوں کو پڑھانے جانے  والا پُر عزم استاد

وینکٹ رمنا سُرلا پالیم گاوں کے منڈل پریشد اسکول کے استاد ہیں۔ وہ تقریباً تین ماہ سے گھوڑے پر آکر بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔ سڑک، ٹرانسپورٹ سسٹم اور بنیادی سہولتوں کی کمی اس علاقہ میں دیکھی جا رہی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

حیدرآباد: اسکول میں بچوں کو پڑھانے کے لئے آنا جی وینکٹ رمنا کے لئے آسان نہیں تھا تاہم بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے سلسلہ میں ان کے عزم نے تمام رکاوٹوں کو دور کر دیا جو روزانہ گھوڑے پر آکر بچوں کو تعلیم دیتے ہیں۔

یہ واقعہ اے پی کے ضلع وشاکھاپٹنم کا ہے جہاں کے مُنچنگپُٹ منڈل کے علاقہ کلا گاڈو سے پاڈیرو کے گمیلی علاقہ تک وہ روزانہ گھوڑے پر آتے ہیں تاکہ بچوں کو تعلیم دی جاسکے۔ یہ 9 کیلومیٹر کا سفر وہ گھوڑے پر طئے کرتے ہیں کیونکہ اس اوبڑ کھابڑ اور ناہموار راستہ میں کوئی بائیک نہیں چل سکتی۔

وینکٹ رمنا، وشاکھا ایجنسی علاقہ کے سُرلا پالیم گاوں کے منڈل پریشد اسکول کے استاد ہیں۔ وہ تقریباً تین ماہ سے گھوڑے پر آکر بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔ سڑکوں، ٹرانسپورٹ سسٹم اور بنیادی سہولتوں کی کمی اس علاقہ میں دیکھی جا رہی ہے۔ وینکٹ رمنا اول تا چھٹی کلاس کے 50 سے زائد طلبہ کو اسکول میں تعلیم دیتے ہیں۔ اس تعلق سے ان کا کہنا ہے”اس اسکول میں میرے بشمول دو اساتذہ ہیں۔ چونکہ کوئی بھی یہاں تدریس کا فریضہ انجام دینا نہیں چاہتا تھا، میں نے اس کو چیلنج کے طور پر قبول کیا۔ یہاں کے بچوں میں سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت کافی زیادہ ہے۔

آپ کو صرف ایک مرتبہ ہی ان کو سمجھانا پڑتا ہے۔ چیزیں سیکھنے کے لئے ان کا تجسس ہی میرے لئے ایک چیلنج ہے“۔ انہوں نے بچوں کو پڑھانے کے لئے آنے کے دوران ہو رہی مشکلات پر مقامی افراد کی جانب سے ان کو گھوڑا دیئے جانے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس منڈل کے لوگوں نے بیشتر چیلنجس سے نمٹنے کا ان کو حوصلہ انہیں دیا ہے۔ اس ڈیجیٹل دور میں بھی یہ مایوس کن بات ہے کہ یہاں کے لوگوں کو اتنی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے۔ یہاں پینے کے پانی کی کوئی سہولت نہیں ہے۔

لوگ پینے کے پانی کے مقصد کے لئے ندی سے کیچڑ والا پانی لے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قریبی پرائمری ہیلت سنٹر کے لئے لوگوں کو 15کیلو میٹر دور جانا پڑتا ہے۔ یہاں پر موبائل نٹ ورک کی کمی کے سبب مواصلات میں رکاوٹ ہے۔ ایک طرف ملک ڈیجیٹل انڈیا کی سمت پیشرفت کر رہا ہے تاہم دیہی ترقی کافی دور ہے۔ انہوں نے مقامی افراد اور قبائلی طلبہ سے بہتر طور پر رابطہ کے لئے ان کی مقامی”کووی“ زبان سیکھی۔

انہوں نے کہا کہ یہاں کوئی بھی ریاست کی سرکاری زبان تلگو نہیں بولتا۔ ان کی اپنی کووی زبان ہی رابطہ کی زبان ہے۔ اس مقامی زبان سے ہی وہ طلبہ سے قریب ہوتے ہیں۔ بچوں کو تعلیم دینے کیلئے گھوڑے پر آنے کی ان کے عزم پر سوشل میڈیا پر وہ کافی مقبول ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ تقریباً تین ماہ قبل ہی اس ایجنسی علاقہ میں وہ پہنچے۔ اس علاقہ میں زندگی گزارنے کے لئے کئی مشکلات ہیں کیونکہ یہاں پر کوئی مناسب انفراسٹرکچر نہیں ہے۔

Published: 28 Aug 2019, 9:10 PM