اردو یونیورسٹی کے سری نگر کالج میں تعینات غیر مقامی فیکلٹی ممبران کی واپسی کا حکمنامہ جاری

اردو یونیورسٹی کے سری نگر میں تعینات غیر مقامی فیکلٹی ممبران، جنہیں وادی میں نامساعد حالات کے پیش نظر ملک کے دوسرے شہروں میں ٹرانسفر کیا گیا تھا، انکی سری نگر واپسی کا باضابطہ حکمنامہ جاری ہو گیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سری نگر: مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے آرٹس اینڈ سائنسز کالج سری نگر میں تعینات غیر مقامی فیکلٹی ممبران، جنہیں وادی میں نامساعد حالات کے پیش نظر ملک کے دوسرے شہروں میں ٹرانسفر کیا گیا تھا، کی سری نگر واپسی کا باضابطہ حکمنامہ جاری ہو چکا ہے۔ یونیورسٹی ہیڈکوارٹر حیدر آباد سے مورخہ 29 نومبر کو جاری حکمنامے، جس کی ایک کاپی یو این آئی اردو کو اپنے ذرائع سے دستیاب ہوئی ہے، کے مطابق پانچ اساتذہ پر مشتمل غیر مقامی فیکلٹی ممبران کو دس دنوں کے اندر اندر کالج ھٰذا میں رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

یونیورسٹی رجسٹرار کی طرف سے جاری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ پانچ اگست کو حکومت ہند کی طرف سے جاری ایک صدارتی حکمنامے کے بعد کشمیر میں پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر مانو کے سری نگر کالج کے پانچ غیر مقامی فیکلٹی ممبروں کو لکھنو اور حیدرآباد عارضی بنیادوں پر ٹرانسفر کیا گیا تھا۔ حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ وادی میں حالات معمول پر آنے کے پیش نظر پانچوں غیر مقامی فیکلٹی ممبروں کو سری نگر واپس ٹرانسفر کیا جارہا ہے۔

حکمنامے میں ان غیر مقامی فیکلٹی ممبران، جن میں سے دو اسلامیات پڑھاتے ہیں جبکہ دو اردو اور ایک معاشیات کے درس وتدریس پر مامور ہیں، سے کہا گیا ہے کہ وہ حکمنامہ جاری ہونے کی تاریخ سے دس دنوں کے اندر اندر سری نگر کالج میں رپورٹ کریں نیز متعلقہ سربراہوں سے بھی متذکرہ فیکلٹی ممبروں کو فارغ کرنے کی گزارش کی گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اردو یونیورسٹی کے سری نگر کالج میں زیر تعلیم طالبات کے ایک گروپ نے 20 نومبر کو پریس کالونی سری نگر آکر کالج میں غیر مقامی فیکلٹی ممبران کی عدم موجودگی کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ طالبات کے اس گروپ کا کہنا تھا کہ کالج میں تعینات غیر مقامی فیکلٹی ممبران پانچ اگست سے ایک دو دن قبل ہی کشمیر چھوڑ کر چلے گئے تھے اور پھر واپس نہیں لوٹے جس کی وجہ سے ان کا تعلیمی سال کو ضائع ہونے کا خطرہ پیدا ہوا ہے۔

یو این آئی اردو نے سری نگر کالج میں غیر مقامی فیکلٹی ممبران کی عدم موجودگی اور اس کے خلاف کالج میں زیر تعلیم طالبات کے احتجاج کو یونیورسٹی حکام کی نوٹس میں لایا تھا جس کے بعد یونیورسٹی کے تعلقات عامہ کے افسر عابد عبدالواسع نے یو این آئی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وادی کشمیر میں پانچ اگست کے بعد پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر یونیورسٹی کے سری نگر کالج میں تعینات غیر مقامی فیکلٹی ممبران کو عارضی طور پر دوسرے شہروں جیسے حیدرآباد اور لکھنو ٹرانسفر کیا گیا تھا لیکن، اب چونکہ وہاں صورتحال بہتر ہے، اس کے پیش نظر ان کی سری نگر واپسی کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

یونیورسٹی کے تعلقات عامہ کے افسر نے کہا تھا: 'میری وائس چانسلر صاحب (ڈاکٹر محمد اسلم پرویز) سے ابھی بات ہوئی۔ میں نے آپ کی جانب سے ہماری نوٹس میں لایا گیا غیر مقامی فیکلٹی ممبران کی واپسی کا مسئلہ ان کے ساتھ اٹھایا۔ وائس چانسلر صاحب نے کہا کہ اسی ہفتے تمام غیر مقامی فیکلٹی ممبران کی واپسی کا حکم نامہ جاری ہوگا'۔ ان کا مزید کہنا تھا: 'اگر وہ فی الوقت حیدرآباد یا لکھنو میں ڈیوٹی دے رہے ہیں لیکن انہیں جلد از جلد سری نگر واپس بھیجا جائے گا۔ انہیں سری نگر واپس جوائن کرنے میں پانچ سے دس دن لگ جائیں گے'۔

مذکورہ کالج جس میں چار مضامین اردو، انگریزی، اسلامیات اور اقتصادیات میں پوسٹ گریجویشن کرایا جاتا ہے، کے شعبہ اردو اور اسلامیات کی طالبات نے 21 نومبر کو غیر مقامی فیکلٹی ممبران کی عدم موجودگی کے احتجاج میں کالج پر تالا چڑھایا تھا جس کے نتیجے میں ہمہامہ-بڈگام روڑ پر افراتفری کے مناظر دیکھنے کو ملے تھے۔

وادی کشمیر میں پانچ اگست جس دن مرکزی حکومت نے جموں وکشمیر کو آئین ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے تحت حاصل خصوصی اختیارات منسوخ کئے اور ریاست کو مرکز کے زیر انتظام دو خطوں میں منقسم کیا، کے بعد معمولات زندگی کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کا عمل بھی معطل ہوکر رہ گیا تھا۔ تاہم گزشتہ تین ہفتوں کے دوران صورتحال میں آرہی بہتری کے ساتھ ہی تعلیمی اداروں میں بھی درس وتدریس کی سرگرمیاں بحال ہونے لگی ہیں۔