بی جے پی نے بچوں کے مینٹر پروگرام کو سازش کے طور پر روکا: سسودیا

بی جے پی کو اس بات کی فکر ہے کہ اگر ملک کے غریب گھرانوں کے بچے تعلیم یافتہ ہوجائیں گے تو بی جے پی کانفرت کا پروپیگنڈہ کون چلائے گا۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کو تعلیم کی دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی دہلی کے سرکاری اسکولوں کے بچوں کے کیریئر سنوارنے والے ’ملک کے مینٹر‘ پروگرام کوایک سازش کے تحت روک رہی ہے۔

سیسودیا نے کہا کہ بی جے پی ’ملک کے مینٹر‘ پروگرام کی کامیابی سے خوفزدہ ہے اور اپنے ہی کارکن سے شکایت کراکے دہلی کے سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے لاکھوں بچوں کے کیریئر سنوارنے والے پروگرام کو ختم کر رہی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کے تعلیم مخالف کردار کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے اس پروگرام کو روکنے کے لئے انتہائی مضحکہ خیز بنیاد رکھی ہے۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ پہلے اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کی پولیس ویری فکیشن کرائی جائے، اس کے بعد انہیں کیریئر بنانے کے لیے ٹپس دیں۔


انہوں نے کہا کہ آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم جیسےنامور اداروں میں پڑھنے والے بچوں کے کیرئیر کو سنوارنے میں مدد کر رہے ہیں لیکن بی جے پی کا ماننا ہے کہ اس سے سائبر کرائم اور بچوں کی اسمگلنگ میں اضافہ ہوگا۔ دراصل، بی جے پی ملک کے نوجوانوں کو جاہل اور مذہب و ذات پات کی لڑائیوں میں الجھا کر رکھنا چاہتی ہے۔ وہ نہ تو خود تعلیم پر کام کرتی ہیں اور نہ ہی کیجریوال حکومت کو کرنے دے رہی ہیں۔ بی جے پی کے لیے یہ ناقابل برداشت ہو گیا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے غریب خاندانوں کے بچے پڑھے لکھے نوجوانوں سے رہنمائی اورمینٹرنگ پاکر اپنے کیریئر کے لیے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ بی جے پی کو اس بات کی فکر ہے کہ اگر ملک کے غریب گھرانوں کے بچے تعلیم یافتہ ہوجائیں گے تو بی جے پی کی نفرت کا پروپیگنڈہ کون چلائے گا، کون انہیں مذہب اور ذات پات کے مسائل میں الجھا کر رکھے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔