فیس بقایہ ہونے پر اسکولوں کو ’ٹی سی‘ روکنے کا اختیار نہیں: ہائی کورٹ

خط کو مفادہ عامہ کی عرضی میں تبدیل کرنے کے بعد عدالت عالیہ نے نجی اسکول کو ایک ہفتہ کے اندر 9 سالہ کارتک (درجہ تین) اور 5 سالہ پریانشو (پری پرائمری) کے والدین کو ٹی سی جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: فیس ادا نہ ہونے پر کسی بچے کو ٹی سی (ٹرانسفر سرٹیفکیٹ) جاری نہیں کرنے والے اسکولوں کے ذمہ دار اب خبردار ہو جائیں کیوں کہ دہلی ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ فیس بقایہ ہونے کی صورت میں اسکول کسی طالب علم کے ٹی سی کو نہیں روک سکتے۔

جسٹس ڈی این پٹیل کی سربراہی والی ایک بنچ نے جمعرات کو ایک خط پر نوٹس لیتے ہوئے یہ حکم جاری کیا۔ خط میں کارتک اور پریانشو کے معاملہ کا تذکرہ تھا۔ دراصل قومی راجدھانی کے ان کے موجودہ اسکول نے تقریباً ایک لاکھ روپے کی فیس بقایہ ہونے کی وجہ سے ٹی سی جاری کرنے سے منع کر دیا تھا۔ اس وجہ وہ کسی دوسرے اسکول میں داخلہ نہیں لے پا رہے تھے۔

خط کو مفادہ عامہ کی عرضی میں تبدیل کرنے کے بعد عدالت عالیہ نے نجی اسکول کو ایک ہفتہ کے اندر 9 سالہ کارتک (درجہ تین) اور 5 سالہ پریانشو (پری پرائمری) کے والدین کو ٹی سی جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔

عدالت میں رضاکاریہ رائے دینے کے لئے مقرر ایڈوکیٹ اشوک اگروال نے دلیل دی کہ دہلی اسکولی تعلیم قانون 1973 کے اصول 167 کے تحت، کوئی اسکور فیس کے بقایہ ہونے پر اپنے رجسٹر سے طالب علم کا نام ہٹا سکتا ہے لیکن اسے ایشو بنا کر وہ طالب علم کے ٹی سی کو نہیں روک سکتا۔

جرح ختم ہونے کے بعد عدالت عالیہ نے کہا کہ دہلی اسکولی تعلیم قانون کے تحت فیس کی ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں ایک اسکول کو کسی طالب علم کا ٹی سی روکنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔