کھیت میں کام کرنے والے مزدور کے بیٹے نے ’سی ای او‘ کا عہدہ سنبھالا

سال 2014 میں یوپی ایس سی کے امتحان کو پاس کرکے آئی اےایس افسر بننے والے بالا گرو نے بتایا کہ بچپن سے ہی ان کا خواب کلیکٹر بننے کا تھا، لیکن معاشی تنگی کی وجہ سے انہیں پورا کرنا آسان نہیں تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

پنا: اپنی زندگی کے مقصد کے حصول کے لئے اگر کوئی شخص جنون کی حد تک محنت کرتا ہے تو کامیابی اس کے قدم چومتی ہے ایسا ہی کچھ پنا کے ایک کھیت میں کام کرنے والے مزدور کے بیٹے نے کردکھایا ہے۔ مدھیہ پردیش کے پنا ضلع پنچایت کے نئے چیف ایگزیکیوٹو افسر(سی ای او) بالاگرو نے اس کی زبردست مثال پیش کی ہے۔

بنیادی طورپر تمل ناڈو اراوکوریچی کے گاؤں تھیراپڑی کے رہنے والے اس نوجوان آئی اے ایس افسر کی محنت کش زندگی کی کہانی بےحد دلچسپ اور تحریک آمیز ہے۔ بالاگرو(31) نے ایک جولائی کو عہدہ سنبھالا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ضلع پنچایت کے دفتر پنا کی حکمت عملی میں بھی تبدیلی نظر آنے لگی ہے۔

سال 2014 میں یوپی ایس سی کے امتحان کو پاس کرکے آئی اےایس افسر بننے والے بالا گرو نے بتایا کہ بچپن سے ہی ان کا خواب کلیکٹر بننے کا تھا، لیکن معاشی تنگی اور غریبی کی وجہ سے انہیں پورا کرنا آسان نہیں تھا۔ ان کے والد کمارسامی کھیت میں کام کرنے والے مزدور تھے اور ماں مویشی پال کر کسی طرح گھر چلاتی تھیں۔ سرکاری اسکول میں ابتدائی تعلیم حال کرنے کے بعد انہوں نے چار ہزار روپے ماہانہ تنخواہ کے لئے ایک اسپتال میں سیکورٹی گارڈ کی نوکری کی۔ نائٹ شفٹ میں سیکورٹی گارڈ کی نوکری کرتے ہوئے فاصلاتی کورس سے گریجوئشن کی ڈگری حاصل کی اور اس دوران بہن جانکی کی شادی بھی کی۔

بالاگرو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ امتحان کی تیاری کرنے کے لئے حجام کی دکان پر اخبار پڑھنے جاتے تھے اور پھر چنئی کی پبلک لائبریری میں بھی پڑھائی کرنے کے لئے جانا شروع کردیا۔مسلسل تین بار ناکام ہونے کے بعد چوتھی مرتبہ کامیاب ہوئے۔ اپنی اس کامیابی کا سہرا انہوں نے اپنے والدین کے سر باندھتے ہوئے کہا کہ سرکاری نوکری میں آنے کے بعد سے وہ اپنے والدین کو ہمیشہ اپنے پاس رکھتے ہیں۔