کورونا وبا کے دوران ڈیڑھ ارب بچے تعلیم سے محروم

کورونا کی وبا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے دنیا بھر میں آٹھ ہزار ارب ڈالر سے زیادہ کی مالی اعانت کے اعلان کے باوجود تقریباً ڈیڑھ ارب بچے اسکولی تعلیم سے محروم ہیں

تصویر بشکریہ سوشل میڈیا
تصویر بشکریہ سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: کورونا کی وبا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے دنیا بھر میں آٹھ ہزار ارب ڈالر سے زیادہ کی مالی اعانت کے اعلان کے باوجود تقریباً ڈیڑھ ارب بچے اسکولی تعلیم سے محروم ہیں۔

کورونا وبا کے سبب بچوں پر منڈلانے والے عالمی بحران پر تبادلہ خیال کے لئے منعقد دو روزہ ’’لاریئٹس اینڈ لیڈرس فار چلڈرن‘‘ کانفرنس میں بدھ کو ’’کیئر شیئر فار چلڈرن۔ پروینٹنگ دی لاس آف اے جنریشن ٹو کووڈ۔ 19‘‘ رپورٹ جاری کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جی 20 ممالک نے مالی مدد کے طور پر 8200 کروڑ ارب (8.02) ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے لیکن اس میں سے اب تک صرف 0.13 فیصد یا 10 ارب ڈالر کووڈ 19 کی وبا کے برے اثرات سے لڑنے کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔

کورونا وبا کی وجہ سے اسکول بند ہونے سے دنیا میں تقریباً ایک ارب بچے تعلیم تک رسائی حاصل نہیں کرپارہے ہیں۔ گھر میں انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے سبب 40 کروڑ سے زائد بچے تعلیم کے آن لائن پروگراموں کو استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔ اسکولوں کے بند ہونے کے باعث تقریباً 34 کروڑ 70 لاکھ بچے غذائی فوائد سے محروم ہیں۔ خاندانوں کے پاس کھانا نہ ہونے سے کم عمر بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس لئے اگلے چھ مہینوں میں 5 سال سے کم عمر کے 10 لاکھ 20 ہزار سے زیادہ بچوں کےلئے غذائی قلت کا اندازہ ہے۔ ویکسینیشن کے منصوبوں میں رکاوٹ نے ایک سال یا اس سے کم عمر کے بچوں میں اس بیماری کے خطرے کو بڑھا دیا ہے۔

رپورٹ میں دنیا کے کروڑوں بچوں کے مستقبل کی حفاظت کے لئے ترقی یافتہ ممالک کی حکومتوں کے غیر مساوی معاشی پہلو کو بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ کانفرنس کیلاش ستیارتھی چلڈرن فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام منعقد کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق کورونا وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی بحران کے سبب گھریلو آمدنی میں زبردست کمی آنے سے غریب ترین خاندانوں کے بچوں کا اسکول جانا بند ہوا، جس سے وہ چائلڈ لیبر، غلامی، انسانی اسمگلنگ اور بچوں کی شادیوں پر مجبور ہونے ہیں۔ جہاں لاک ڈاؤن میں کمی آئی ہے، وہیں چائلڈ لیبر کو دوبارہ کام پر لایا جارہا ہے۔ ہندوستان میں بھی یہ خطرہ منڈلا رہا ہے۔

ہندوستان کے چار کروڑ سے زیادہ محںت کشوں کو 25 مارچ سے 31 مارچ کے درمیانی عرصہ میں سرکاری امداد نظام کی شدید بے حسی کا شکار ہونا پڑا۔ خواتین کے خلاف گھریلو تشدد سے متعلق شکایات میں بہت اضافہ ہوا۔ یہ رپورٹ ہندوستان سمیت غریب ممالک کے حالات بھی سامنے لاتی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’بحران سے پہلے گہری عالمی عدم مساوات، پیر پھیلاتی بیماریاں، لاک ڈاؤن کے سنگین معاشی نتائج، دنیا کے سب سے کمزور اور پسماندہ خاندانوں کے لئے بے روزگاری سے حفاظت کے جال کی عدم موجودگی، خوراک کی فراہمی اور قیمتوں پر اثر، اسکولوں میں غذائیت کے پروگرام بند کرنا اور بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد نے بچوں کے حقوق کو شدید نقصان پہنچایا ہے‘‘۔

    next