شاہین ایجوکیشن سمِٹ: مسلمان جدید ٹکنالوجی اور اقدار پر مبنی تعلیم حاصل کریں

کانفرنس میں ترجمان مسلم پرسنل لاء بورڈ خلیل الرحمن، حکومت ملیشیا کے مشیر برائے تعلیمی امور حسنی بن محمد، فلسطین سفارتخانہ ہند میں منسٹر کونسلر وائیل البطرخی نے مہمانان خصوصی کے طور پر شرکت کی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

حیدرآباد: اقدار پر مبنی تعلیم، انسانیت کی فلاح و بہبود خوف اور ڈر سے بے نیاز زندگی گذارنے کا حوصلہ، جدید ٹکنالوجی سے مکمل واقفیت اور اس کے صحیح استعمال کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے حیدرآباد سے 135 کیلو میٹر کے فاصلے پر واقع کرناٹک کے شہر بیدر میں منعقد ہوئی شاہین انٹرنیشنل ایجوکیشن کانفرنس کا کامیابی کے ساتھ اختتام ہو گیا۔

اس دو روزہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں ممتاز عالم دین و ترجمان مسلم پرسنل لاء بورڈ محمد خلیل الرحمن سجاد ندوی کے علاوہ حکومت ملیشیا کے مشیر برائے تعلیمی امور پروفیسر حسنی بن محمد، فلسطین سفارتخانہ ہند میں منسٹر کونسلر ڈاکٹر وائیل البطرخی نے مہمانان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔

دریں اثنا، عتیق احمد چانسلر مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور، حفیظ الملک (دہلی)، ڈاکٹر فخرالدین محمد، ڈاکٹر افتخارالدین، آکسفور یونیورسٹی کے محقق عبداللہ عظام، پریم جی یونیورسٹی کے ایجوکیشنل ٹکنالوجسٹ مجاہدالاسلام، کیرل سے داؤد بانی ہپی جینیس، مولانا آزاد یونیورسٹی کی نجمہ سلطانہ نے شرکت کی اور مختلف موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ہندوستان اور بیرونی ممالک کے اکابرین اور ماہرین تعلیم نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کی کامیابی ترقی اور ان کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لئے اقدار پر مبنی تعلیم ناگزیر ہے۔ ایسی تعلیم جو صرف اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ پورے سماج، قوم اور ملت کی فلاح و بہبود کی ضامن ہو۔

مولانا خلیل الرحمن سجاد ندوی نے کہا کہ یہاں کی سرزمین پر پیدا ہونے والے ہر مسلمان کو اپنے ہندوستانی ہونے پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام تعلیم نے انسان کو آسمان چھونے کے قابل تو بنادیا مگر زمین پر رہنے کا سلیقہ نہیں سکھایا۔ اس نظام نے اتنی ترقی کی، مشینیں انسان کی متبادل ہوگئیں اور خود انسان‘ انسان باقی نہیں رہا۔ انہوں نے ایسے نظام تعلیم کی ضرورت دی جو آدمی کو انسان بناسکے۔ محبت، رواداری کو فروغ دے سکے۔ نفرت اور دشمنی کا خاتمہ کرسکے۔ انہوں نے اس ضمن میں قرآنی تعلیمات پر عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا کیوں کہ قرآن مجید سارے عالم کی رہنمائی کے لئے نازل کی گئی ہے جو ایک ضابطہ حیات ہے۔

مولانا نعمانی نے کہا کہ دنیا میں جتنے جرائم ہوتے ہیں‘ جتنے اسکامس واقع ہوتے ہیں یہ سب اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد ہی کرتے ہیں‘ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کی تعلیم اقدار سے محروم ہیں۔ اگر اعلیٰ تعلیم ہے‘ اقدار نہیں تو یہ بے فیض ہے اور اگر صرف اقدار ہے اور اعلیٰ تعلیم نہیں تو یہ بھی لاحاصل ہے۔ مولانا نے ہندوستان کے مسلمانوں سے کہاکہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ ایسا تعلیمی نظام بنائیں جو اقدار پر مبنی ہو۔ ہم واقعی خوش نصیب ہیں اور یہ بات فخر کی ہے کہ ہم بھارت میں پیدا ہوئے۔ اس سے زیادہ متمول ملک دنیا میں دوسرا کوئی نہیں ہے۔

مولانا نے نوجوان لڑکے /لڑکیوں سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سیاسی پارٹیوں کے سہاروں سے باہر نکلیں اور ایک پوری نسل عزم کرے کہ ہم اپناکیرئیر اس طرح بنائیں گے کہ ہماری ذات سے محلہ /ریاست / اور ملک کو فائدہ پہنچے۔ تب ہی اس سماج اور ملک میں انقلاب رونما ہوگا۔ اوریہ بات اپنے پلو سے باندھ لیں کہ استاد طلبہ کا رول ماڈل ہوتاہے۔ اس کے کردار سے طلبہ متاثر ہوتے ہیں۔ مولانا نے موجودہ دور کے ہرقسم کے چیلنجس کو مثبت لینے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ قرآن مذہبی کتابوں کی طرح کوئی کتاب نہیں ہے کیونکہ اس کتاب کا ایک نقطہ تک تبدیل نہیں ہواہے۔

ڈاکٹر حسنی محمد، کنسلٹنٹ منسٹری آف ا یجوکیشن، حکومت ملیشیاء نے ’ملیشیاء کے تعلیمی نظام پرخطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج ہرطرف اساتذہ مرکز نظام تعلیم پایا جاتاہے۔ جس کو طلبہ مرکز نظام تعلیم میں بدلا گیا۔ بھائی چارہ ہالسٹک تعلیمی مرکز نظام کو بھی ملیشیاء میں تعارف حاصل ہے۔ وہاں امدادی نصاب، قومی نصاب اور بین الاقوامی نصاب کی گنجائش نکالی گئی ہے۔ حساب کو مضمون تک نہ رکھاجائے بلکہ وہ زندگی میں کام آئے۔ تعلیم ایسی ہو جو دِل پر اثر کرے۔

بعد ازاں ڈاکٹر وائیل البطارخی منسٹر قونصلر، فلسطین ایمبیسی نے ”تعلیمی نظام فلسطین میں“ عنوان پر خطاب کیا۔ ان کے خطاب میں فلسطین پر ہونے والے مظالم کا ذکر بھی تھا۔ا ور ہندوستان کی فلسطین پالیسی پر بھی انھوں نے بات کی۔ ان کاکہناتھاکہ زیادہ نالج سے زیادہ مواقع ملتے ہیں۔ اور اس سے کیرئیر بہتر بنتاہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین سب سے زیاد مظلوم ملک جو 1948ء سے اسرائیل کے زیر تصرف ہے۔ مگر مشرق وسطیٰ میں فلسطین سب سے زیادہ تعلیم یافتہ مملکت ہے۔

    Published: 3 Dec 2019, 7:11 PM