مسلم طلبا سول سروسز میں کامیابی کے لئے ابتدائی درجات سے ہی تیاری کریں: ظفر محمود

ظفر محمود نے کہا کہ سول سروسز میں مسلمانوں کی تعداد بڑھانے کے لئے میٹرک سے قبل کی جماعتوں سے ہی طلبہ کی ذہن سازی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ آگے چل کر خود ہی اس کے لئے تیار ہوں۔

تصویر یو این آٗی
تصویر یو این آٗی
user

یو این آئی

نئی دہلی: سول سروسز میں مسلم امیدواروں کو کامیابی کے لئے میٹرک سے قبل جماعتوں سے ہی ذہن سازی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ آگے چل کر خود ہی اس کے لئے تیار ہوں اور اس کے لئے اساتذہ اور سماجی کارکنان کو زمینی سطح پر کام کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار زکوۃ فاونڈیشن آف انڈیا کے سربراہ ڈاکٹر سید ظفر محمود نے کیا ہے۔

وہ کل شام یہاں 2018 میں سول سروسز کے لئے منتخب ہونے والے مسلم امیدواروں کے اعزاز میں منعقد ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس تقریب کا اہتمام زکوٰۃ فاونڈیشن آف انڈیا نے کیا تھا۔اس میں ہندوستانی مسلمانوں کے اعلیٰ قائدین سمیت بڑی تعداد میں اہل علم و دانش نے شرکت کی اور کامیاب امیدواروں نیز سول سروسز کے امتحان کی تیاری کرنے والوں کو اپنی نیک دعاؤں اور تمناؤں سے نوازا۔ مقررین نے مسلم نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور تعلیم کے میدان میں اپنی حیثیت منوانے کے لئے محنت و مشقت اور پوری لگن کے ساتھ اپنے مقصد کے حصول کی کوشش پر زور دیا۔

ڈاکٹر ظفر محمود نے کامیاب ہونے والے طلبا کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک و قوم کی ایمانداری کے ساتھ خدمت کی تلقین کی۔ انھوں نے کہا کہ سول سروسز میں مسلمانوں کی تعداد بڑھانے کے لئے میٹرک سے قبل کی جماعتوں سے ہی طلبا کی ذہن سازی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ آگے چل کر خود ہی اس کے لئے تیار ہوں۔ اس کے لئے والدین، اساتذہ اور سماجی کارکنان کو زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جمعیۃ علمائے ہند کے سکریٹری نیاز فاروقی نے ہمت اور حوصلہ کی ترغیب دیتے ہوئے مسلم نوجوانوں کو سول سر وسیز اور دیگر اعلیٰ سرکاری ملازمتوں کے لئے محنت کرنے کی نصحیت کرتے ہوئے کہا کہ محنت ہی وہ نسخہ ہے جس کے ذریعے آپ ہر مشکل سے مشکل مرحلے کو عبور کر سکتے ہیں۔

سابق سول سرونٹ سراج حسین نے کہا کہ سول سروسز امتحان کے بارے میں بلاوجہ ایسی افواہ پھیلا ددیں گئی ہیں کہ یہ بہت محنت اور مشقت کا کام ہے حالانکہ اس کے لئے محض منظم طریقے سے لائحہ عمل بنانے اور اس کے لئے وقف کردینے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر کامیاب ہونے والے امیدواروں نے بھی اپنے احساسات و جذبات کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ کسی بھی اعلیٰ ہدف کے لیے محنت کے ساتھ ساتھ مستقل مزاجی اور تندہی کی ضرورت پڑتی ہے اگر آپ تین چیزوں پر سنجیدگی سے عمل کرلیں تو آپ کو کامیابی سے کوئی روک نہیں سکتا۔

خیال رہے کہ زکوٰۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا کی رہنمائی کے نتیجہ میں اس سال 18 مسلم امیدوار یو پی ایس سی امتحانات میں کامیاب ہوئے ہیں۔ جب کہ اس ادارے سے اب تک 222 سول سرونٹ کامیاب ہوکر ملک و ملت کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

تقریب میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلرطارق منصور، سابق وائس چانسلر لیفٹیننٹ ضمیر الدین شاہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر، انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے صدر سراج الدین قریشی، نیوزی لینڈ سفارت خانہ کی فرسٹ سکریٹری روبن گلو گاسکی‘ متعدد سابق سول سرونٹس، دانشور، صحافیوں اور اہم شخصیات نے شرکت کی۔

گلاسکی نے کامیاب ہونے والے نوجوانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آ پ صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے نمائندے ہیں آپ کو اپنے قول وعمل سے دنیا میں یہ ثابت کرنا ہے کہ آپ انسانیت کے بہترین خادم ہیں۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسینڈا آرڈرن کے دہشت گردی کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری روایت کا حصہ ہے کہ ہم ہمیشہ تشدد اور ظلم و ناانصافی کے خلاف رہے ہیں اور ہماری لڑائی اسی کے خلاف ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔