ممبئی: بے روزگاری کو ختم کرنا آج بنیادی مقصد ہونا چاہیے، اے ایم پی

اس روزگار میلے کا انعقاد جے کے جادھو نالج سینٹر میں کیا گیا تاکہ بلا تفریق مذہب و ملت بے روزگار نوجوانوں کو معروف تجارتی کمپنیوں میں ملازمت کے مواقع فراہم کئے جائیں۔

اے ایم پی کے روزگار میلے کی فائل تصویر
اے ایم پی کے روزگار میلے کی فائل تصویر

قومی آوازبیورو

ممبئی: ایسوسی ایشن آف مسلم پروفیشنلس (اے ایم پی) کے زیر اہتمام اور روائل آفس آف ایچ ایچ شیخ تہنون بن سعید بن تہنون ال نہیان، پاسبان ملت اور دیگر کئی تنظیموں کے اشتراک سے سنیچر کو ممبئی کے علاقہ وڈالا-انٹاپ ہل میں ایک روزگار میلے کا انعقاد کیا گیا جو انتہائی کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ اس روزگار میلے کا انعقاد جے کے جادھو نالج سینٹر میں کیا گیا تاکہ بلا تفریق مذہب و ملت بے روزگار نوجوانوں کو معروف تجارتی کمپنیوں میں ملازمت کے مواقع فراہم کئے جائیں۔

اے ایم پی کے روزگار میلے کی فائل تصویر
اے ایم پی کے روزگار میلے کی فائل تصویر

اس روزگار میلے کا افتتاح مہمان خصوصی ایچ ای ذولفقار گھڈیالی (سی ای او، روائل آفس آف ایچ ایچ شیخ تہنون بن سعید بن تہنون ال نہیان) کے ہاتھوں ہوا۔ ذوالفقار گھڑیالی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم اور روزگار آج کے نوجوانوں کا سب سے بنیادی مسئلہ ہے۔ ہم سب کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم نوجوانوں کو ہنر مند بنائیں اور موجودہ زمانے کے تناظر سے جو مستقبل کی فیلڈز ہیں، اس میں روزگار کے مواقع تلاش کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انٹاپ ہل اور وڈالا علاقے میں تعلیم اور روزگار پر کافی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری یہ کوشش ہوگی کہ یہاں پر زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھائیں اور ان کو روزگار بھی فراہم کرائیں۔
اے ایم پی کے صدر عامر ادریسی نے کہا کہ ممبئی کے انٹاپ ہل اور وڈالا علاقے کےنوجوانوں کی ترقی اور رہنمائی میری ترجیحات میں شامل ہے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ یہاں کا کوئی بچہ انپڑھ اور بے روزگار نہ رہنے پائے۔ عامر ادریسی نے علاقے کے مذہبی، سیاسی اور سماجی لوگوں کو یقین دہانی کرائی کہ علاقے کی کی بھلائی اور بہتری کے لئے ہم ہمہ وقت آپ کے ساتھ رہیں گے۔

اس موقع پر ورلڈ میمن آرگنائزیشن کے انڈیا پریذیڈنٹ محترم احسان گاڈا والا نے کہا کہ "اس طرح کے روزگار میلوں کا انعقاد ایک اہم کوشش ہے کمیونٹی کی مدد کرنے اور ملک کی ترقی میں اپنا تعاون پیش کرنے کی۔ ہم آئندہ بھی اے ایم پی کے اشتراک سے اس طرح کے میلوں کا انعقاد کریں گے۔

ماجد خان نے کہا کہ "میں اس زبردست رسپانس پر بہت خوش ہوں اور اس کام جڑ کر مجھے سماج اور ملک کی ترقی میں ہاتھ بٹانے کاموقع ملا"۔

بی جی پی ایس کالج کی نائب پرنسپل محترمہ درخشاں خان نے کہا کہ وہ بڑی تعداد میں لڑکیوں کی شرکت اور تعاون سے بہت خوش ہیں۔ انہوں نے اے ایم پی کی خواتین ونگ کو تعلیمی اور روزگار سرگرمیوں میں اپنا تعاون دینے وعدہ کیا۔ ممبئی انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ اینڈ ریسرچ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ستیا نارائن نے اپنے استقبالیہ خطاب میں ایم پی پی پچھلے کئی سالوں سے جہالت اور بے روزگاری کے خلاف کام کر رہی ہیں جس کے مثبت اثرات پورے ملک میں میں دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

مختلف انڈسٹریز سے تعلق رکھنے والی 77 کارپوریٹس کمپنیوں نے اس روزگار میلے میں شرکت کی۔ کل 1475 امیدواروں شرکت کی بالآخر 175 امیدواروں کو موقع پر ہی ملازمت کا پروانہ دیا گیا جبکہ 360 امیدواروں کے دوسرے راونڈ کے لیے منتخب کیاگیا۔
افتخار شیخ (اے ایم پی ہیڈ شعبہ روزگار) نے کہا کہ اے ایم پی نے اب تک بڑے پیمانے پر 40 سے بھی زیادہ روزگار میلوں اور سو سے بھی زائد جاب ڈرائیوز گزشتہ سات برسوں میں منعقد کئے ہیں اور ملک بھر کے نوے (90) حلقوں میں 15 ہزار سے زیادہ امیدواروں کو ان اقدامات کے ذریعے روزگار فراہم کرنے میں مدد کی ہے ۔ ہمارا مقصد ہے کہ ہم سال 2019 میں دس ہزار سے بھی زیادہ نوجوانوں کو تربیت فراہم کرسکیں اور پانچ ہزار سے زائد امیدواروں کو ان روزگار میلوں اور جاب ڈرائیوز کی مدد سے ملازمت دلا سکیں۔