تعلیم اور کیریر

جامعہ کی 100 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون وائس چانسلر نجمہ اختر نے عہدہ سنبھالا

پروفیسر اختر نے وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ 1920 میں قائم اس یونیورسٹی کے بانیوں محمد علی جوہر اور ڈاکٹر ذاکر حسین جیسی عظیم شخصیات کے خوابوں کو پورا کریں گی۔

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ کی 100سالہ طویل تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی خاتون کو وائس چانسلر کے عہدے پر فائز کیا گیا ہے۔ یہ اعزاز پروفیسر نجمہ اختر کو حاصل ہوا ہے، گزشتہ روز ان کے نام کا اعلان کیا گیا تھا اور آج جمعہ کے روز انہوں نے اپنا عہدہ سنبھال لیا۔

پروفیسر نجمہ اختر نے عہدہ سنبھالنے کے بعد کہا ہے کہ وہ جامعہ کو عالمی سطح کا تعلیمی ادارہ بنانے کےلئے کوشاں ہیں اور اس کے عظیم بانیوں کے خوابوں کو پورا کریں گی۔

پروفیسر اختر نے وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ 1920 میں قائم اس یونیورسٹی کے بانیوں محمد علی جوہر اور ڈاکٹر ذاکر حسین جیسی عظیم شخصیات کے خوابوں کو پورا کریں گی اور اسے ایک جامع تعلیمی ادارہ بنائیں گی، جہاں امن اور انصاف قائم ہو اور تعلیم کے معیار میں اضافہ ہو۔

انہوں نے عہدہ سنبھال لیا ہے۔ انہیں کل یونیورسٹی کا نیا وائس چانسلر مقرر کیاگیا تھا۔ پروفیسر اختر نہ صرف جامعہ بلکہ دہلی کی کسی بھی مرکزی یونیورسٹی میں وائس چانسلر کے عہدے پرفائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔ پروفیسر اختر کو 130 ملکوں کے سینئر افسروں کے لئے بین الاقوامی تعلیمی انتظامیہ کورس قیادت کےلئے جانا جاتا ہے، جس کے لئے انہوں نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن (این آئی ای پی اے) میں 15برسوں تک کام کیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال طلعت احمد نے مدت ختم ہونے سے پہلے ہی اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا، اب تک پروفیسر شاہد اشرف بطور کارگزار وائس چانسلر فرائض انجام دے رہے تھے۔

پروفیسر نجمہ اختر کی تقرری کی منظوری جمعرات کو صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے دی تھی۔ ان کے علاوہ سلیکشن کمیٹی کی جانب سے دو اور نام صدر جمہوریہ کے پاس بھیجے گئے تھے، جن میں ’اسو سی ایشن آف انڈین یونیورسٹیز‘ کے سکریٹری جنرل فرقان قمر اور آئی آئی ٹی دہلی کے پروفیسر ایس ایم اشتیاق کے نام شامل تھے۔ صدر جمہوریہ تمام مرکزی یونیورسٹیوں کے ’ویزیٹر ہیڈ‘ ہیں اور انہی کے ذریعہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تقرری عمل میں آتی ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر کی حیثیت سے ماہر تعلیم پروفیسر نجمہ اختر کی تقرری پر قومی اردو کونسل کے وائس چیئرمین پروفیسر شاہد اختر نے اظہارِ تہنیت کرتے ہوئے کسی بڑے ادارے میں کسی مسلم خاتون کو اعلیٰ عہدے پر فائز کرنے پر مرکزی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

پروفیسر شاہد اختر نے اس تقرری کو مسلم خواتین کو پسماندگی سے نکالنے اور مساوی حقوق و مواقع دیئے جانے کے اقدام پر محمول کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح مسلم عورتوں کو تعلیمی، سماجی، سیاسی اور معاشی طور پر مستحکم کرنے کی حکومت کی کوششوںکو مہمیز لگے گی۔

کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر عقیل احمد نے پروفیسر نجمہ اختر کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں جامعہ ملیہ اسلامیہ ترقی کی نئی منزلیں طے کرے گا ، نئے شعبہ جات کے قیام سے جامعہ کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوگا اور خواتین کے لیے یقینی طو رپر نئے شعبے کا قیام ان کی ترجیحات میں شامل ہوگا۔

محترمہ کی سربراہی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایک مثالی ادارے کی حیثیت سے پوری دنیا میں اپنی شناخت قائم کرنے کے یقین کے ساتھ ڈاکٹر احمد نے کہا کہ وائس چانسلر کی حیثیت سے نجمہ اختر کی تقرری سے مسلم خواتین میں ایک مثبت پیغام بھی جائے گا جس سے خواتین کو نہ صرف نئی تحریک ملے گی بلکہ ان کے اندر بھی ایک نیا حوصلہ اور نیا عزم جنم لے گا۔