ہندوستانی طلباء پاکستان میں تعلیم حاصل نہ کریں ورنہ ہندوستان میں نوکری نہیں ملے گی! یو جی سی

جاری کی گئی مشترکہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی طلبہ پاکستان کے کسی کالج یا تعلیمی ادارے میں داخلہ نہ لیں، کیونکہ وہاں سے آنے والے طلباء ہندوستان میں نوکریوں اور اعلیٰ تعلیم کے اہل نہیں ہیں

یو جی سی، تصویر آئی اے این ایس
یو جی سی، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) اور ہندوستان میں تکنیکی تعلیم کو فروغ دینے والے ‘اے آئی سی ٹی ای‘ نے پاکستان کے تعلیمی اداروں کے حوالے سے وارننگ جاری کی ہے۔ جاری کی گئی مشترکہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی طلبہ پاکستان کے کسی کالج یا تعلیمی ادارے میں داخلہ نہ لیں۔ یو جی سی کے مطابق پاکستان سے تعلیم حاصل کر کے آنے والے طلباء ہندوستان میں نوکریوں اور اعلیٰ تعلیم کے اہل نہیں ہوں گے۔

یو جی سی اور اے آئی سی ٹی ای نے کہا ہے کہ ہندوستانی طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے پاکستان نہیں جانا چاہیے۔ تکنیکی، اعلیٰ تعلیم یا کسی اور قسم کے کورس کے حصول کے لیے پاکستان جانے والا ہندوستانی طالب علم ہندوستان میں ملازمتوں یا مزید تعلیم کے لیے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلہ نہیں لے سکے گا۔

یہاں یو جی سی نے واضح کیا ہے کہ یہ اصول ایسے افراد پر لاگو نہیں ہوگا جو پاکستان سے ہجرت کر کے یہاں آئے ہیں۔ پاکستان سے آنے والے تارکین وطن اور ان کے بچے جنہیں ہندوستان نے شہریت دی ہے، وزارت داخلہ کی منظوری کے بعد ہندوستان میں ملازمت کے اہل ہوں گے۔


اس سے قبل یو جی سی اور اے آئی سی ٹی ای نے چین میں تعلیمی اداروں کے حوالے سے بھی ہندوستانی طلباء کے لیے اسی طرح کی ایڈوائزری جاری کی تھی۔ غور طلب ہے کہ ہر سال جموں و کشمیر کے کئی طلباء پاکستان کے انجینئرنگ کالجوں میں داخلہ لے رہے ہیں۔ اب تک سینکڑوں کشمیری طلباء پاکستان کے ٹیکنیکل کالجوں میں داخلہ لے چکے ہیں۔

اے آئی سی ٹی ای کا کہنا ہے کہ غیر تسلیم شدہ اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد حاصل کی گئی ڈگری ہندوستانی اداروں میں ڈگری کے برابر نہیں ہوتی۔ ایسے غیر تسلیم شدہ اداروں سے ڈگری حاصل کرنے کے لیے بھاری رقم خرچ کرنے کے بعد بھی ایسے طلبہ کو ہندوستان میں ملازمت کے مواقع حاصل کرنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس مسئلے پر غور کیا گیا ہے۔ ایسے طلباء کے والدین کو مالی بوجھ سے بچانے کے لیے ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ سال بھی کونسل آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کے ممبر سیکرٹری نے اس موضوع پر باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی اداروں کے انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کورسز میں داخلے سے قبل این او سی حاصل کرنا ضروری ہے۔

پاکستان کے علاوہ یو جی سی اور اے آئی سی ٹی ای نے چین کے تعلیمی اداروں کے حوالے سے بھی ایسی ہی ایڈوائزری جاری کی ہے۔ اس سال مارچ میں جاری ایک ایڈوائزری میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے ہندوستانی طلباء کو مشورہ دیا تھا کہ وہ چینی تعلیمی اداروں میں داخلہ نہ لیں۔ اس ایڈوائزری میں کہا گیا تھا کہ صرف آن لائن طریقہ سے منعقد کیے جانے والے ڈگری کورسز کو یو سی اور اے آئی سی ٹی ای دونوں تسلیم نہیں کرتے ہیں۔


یو جی سی نے کہا تھا کہ چین کی کچھ یونیورسٹیوں نے موجودہ اور آنے والے تعلیمی سالوں کے لیے مختلف ڈگری پروگراموں میں داخلے کے لیے نوٹس جاری کرنا شروع کر دیا ہے۔ دوسری جانب چین نے کووڈ-19 کے پیش نظر سخت سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں اور سفر پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ لہذا چین کے تعلیمی اداروں میں داخلہ سے اجتناب کریں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔