جج بن کرعلاقہ اور خاندان کا نام روشن کرنے والی جانسٹھ کی بیٹی- ہما

اپنی زندگی میں لگاتار تکلیفوں کا سامنا کرنے والی ہما نے تمام دشواریوں اور تنقید کی پروا نہ کرتے ہوئے پیچیدہ حالات میں بھی خود پر قابو رکھا اور آخر کر جج بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد

آس محمد کیف

مظفرنگر کے جانسٹھ قصبہ کی بیٹی ’ہما‘ ان چند مسلم لڑکیوں میں سے ہیں جنہوں نے نہ صرف اعلیٰ تعلیم حاصل کی بلکہ جج کے امتحان میں بھی کامیابی حاصل کرکے اپنے والدین اور آبائی علاقہ کا نام روشن کر دیا۔ آٹھ بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹی ہما والد کے سایہ سے محروم ہیں اور انہیں اس کامیابی تک پہنچنے کے لئے طویل جدوجہد کرنی پڑی۔

اپنی زندگی میں لگاتار تکلیفوں کا سامنا کرنے والی ہما نے تمام تر دشواریوں اور تنقید کی پروا نہ کرتے ہوئے مختلف حالات میں بھی خود پر قابو رکھا اور پُر امید رہتے ہوئے آخر کار جج بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
ہما، اپنی بہنوں اور والدہ کے ساتھ
ہما، اپنی بہنوں اور والدہ کے ساتھ

اتر پردیش پبلک سروس کمیشن کی طرف سے 20 جولائی 2019 کو جج کے امتحان (پی سی ایس جے) کے نتائج کا اعلان کیا گیا ہے۔ یو پی جیوڈیشیل سروسز (سول جج، جونیئر ڈویزن) امتحان 2018 کے تحت اس مرتبہ ریکارڈ 610 اسامیوں کو پُر کیا جانا تھا۔ امتحان کے نتائج میں کامیاب ہونے والے امیدواروں میں سے سے 38 مسلمان ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 18 مسلم خواتین بھی اس مرتبہ جج بنیں ہیں، ہما بھی انہیں میں سے ایک ہے۔

ہما کے والد سات سال قبل اس دنیا سے چلے بسے، وہ جانسٹھ میں مچھلی پروری کا کاروبار کرتے تھے۔ آٹھ بھائی، بہنوں میں سب سے چھوٹی ہما نے ابتدائی تعلیم جانسٹھ میں ہی حاصل کی، اس کے بعد وہ میرٹھ میں آ گئیں۔ دراصل ہما کے ابو کا خواب تھا کہ وہ وکالت کی تعلیم حاصل کریں اور جانسٹھ میں یہ ہو نہیں سکتا تھا، لہذا میرٹھ جانے کا فیصلہ لیا گیا۔

اپنے ابو کو یاد کرتے ہوئے ہما نے کہا، ’’میرے بھائی کا قتل ہوا تھا، اس کے بعد میرے ابو ٹوٹ گئے تھے۔ تین سال ہم نے کس طرح گزارے، یہ ہم ہی جانتے ہیں۔ آج ابو اس دنیا میں نہیں ہیں اس بات کی ہمیں تکلیف ہے۔ مجھے اس مقام پر دیکھنے کا خواب انہوں نے ہی دیکھا تھا‘‘۔

واضح رہے کہ ہما کے بھائی احسان کا 2009 میں قتل کر دیا گیا تھا۔ پولس قاتل کا آج تک پتہ نہیں لگا پائی، یہ بات الگ ہے کہ مقامی لوگوں کو سب کچھ معلوم ہے۔

دوستوں، رشتہ داروں اور اہل خانہ کے ساتھ ہما
دوستوں، رشتہ داروں اور اہل خانہ کے ساتھ ہما

ہما کہتی ہیں، ’’مڈل کلاس لوگوں کی پریشانیاں آپ جانتے ہی ہیں۔ انصاف ملنا کتنا مشکل ہو جاتا ہے، اس لئے مجھے احساس ہوا کہ مجھے طاقتور ہونا چاہیے تاکہ کل ہمارے ساتھ کوئی ناانصافی نہ کرنے پائے۔ طاقت حاصل کرنے کا واحد راستہ علم ہے، وہ بہت زیادہ پڑھنے اور محنت کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ اس لئے اپنی کتابوں کو میں ہمیشہ کھلا رکھنا چاہتی ہوں‘‘۔

ایک وقت تھا جب ہما کو کتابیں خریدنے اور کوچنگ کرنے کے لئے دوسروں پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ حالانکہ پہلے ان کے والد اور پھر ان کے بھائی نے کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی اور ان کی بہنوں نے بھی ان کی بہت مدد کی۔ ہمانے کہا، ’’مجھے میری بہنوں نے کبھی کسی کمی کا احساس نہیں ہونے دیا۔ میرے دو بھائی اور بھی ہیں، انہوں نے بھی میری مدد کی۔ میری ایک بہن سرکاری ٹیچر ہیں۔ میرے پاس میرٹھ میں اپنا گھر نہیں تھا، میں اپنی بہن کے گھر پر رہ رہی تھی۔ میری امی بھی میرے ساتھ ہی رہتی ہیں‘‘۔ ہما کہتی ہیں کہ انہیں جلد سے جلد اپنے پیروں پر کھڑا ہونا تھا۔ پی سی ایس جے کا امتحان انہوں نے تیسری کوشش میں پاس کیا ہے۔ دو مرتبہ ناکام ہونے کے باوجود ہما نے ہمت نہیں ہاری اور کوشش کرتی رہیں۔

ہما کی بہن ریشمہ کہتی ہیں کہ ’’پی ایس ایس جے کی تیاری میں ہما نے شادیوں اور تقریبات میں جانا بند کر دیا تھا۔ شادی کے لیے آنے والے رشتوں کو وہ انکار کر دیتی تھی، وہ ہمیشہ اپنی کتابوں میں گم رہتی تھی‘‘۔ ریشمہ کہتی ہیں کہ ہما میں جج بننے کا جنون سوار ہو گیا تھا اور آخرکار وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئی۔

ہما کی سہیلیاں کہتی ہیں کہ انہیں اس بات پر حیرت ہوتی تھی کہ وہ ہمیشہ اتنی خاموش کیوں رہتی ہے۔ اس پر ہما کا کہنا ہے کہ ’’جس درد کا میں نے سامنا کیا ہے اسے میں سب کو سنا بھی دیتی تو مجھے کیا مل جاتا۔ میں نے یہ عہد کر لیا تھا کہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو کر ہی میں سب کو جواب دوں گی۔ ‘‘

ہما نے میرٹھ سے ہی کوچنگ لی ہے، ان کے ٹیچر رہے سرفراز رانا کہتے ہیں، ’’ہمارے یہاں سے اس مرتبہ 7 اسٹوڈنٹس نے پی سی ایس جے کا امتحان پاس کیا ہے۔ ان میں ہما سب سے زیادہ ذہین ہے۔ جتنا حوصلہ اس میں تھا اتنا کم ہی لوگوں میں ہوتا ہے۔‘‘

جانسٹھ کے دانش علی خان کہتے ہیں کہ ہما نے نہ صرف جانسٹھ کا نام روشن کیا ہے بلکہ تعلیم حاصل کر رہے بچوں کو یہ سبق بھی دیا ہے کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں اگر محنت کریں گے تو کامیابی قدم ضرور چومے گی۔