مدرسوں کے تئیں غلط فہمیاں پھیلانے والوں کو میرا پوزیشن حاصل کرنا بڑا جواب : جگن ناتھ داس

جگن ناتھ داس نے کہا کہ تعلیم کے دوران انہیں کبھی احساس نہیں ہوا کہ وہ ایک مدرسہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں بلکہ یہاں دیگر اسکولوں سے کہیں زیادہ تعلیمی ماحول ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

کولکاتا: مغربی بنگال کے مدرسہ بورڈ میں ہائی مدرسہ امتحان میں 6ویں پوزیشن حاصل کرنے والے جگن ناتھ داس نے کہ کے تعلیم کے دوران انہیں کبھی بھی احساس نہیں ہوا کہ وہ ایک مدرسہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں بلکہ یہاں دیگر اسکولوں سے کہیں زیادہ تعلیمی ماحول ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ آخر مدرسوں کو کیوں بدنام کیا جاتا ہے۔

جگن ناتھ داس نے کہا کہ سماج میں یہ تصور غلط ہے کہ مدرسہ کا مطلب مسلمانوں کا تعلیمی ادارہ، فرقہ واریت اور دہشت گردی نہیں ہے۔جگن ناتھ نے کہا کہ مدرسہ اور وہاں کے تعلیمی نظام سے متعلق تمام غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

بیر بھوم ضلع کے دبراج پور میں کھنڈگرام ڈی ایس ہائی مدرسہ کے طالب علم جگناتھ داس نے میرٹ لسٹ میں 6 پوزیشن حاصل کی ہے۔خیال رہے کہ مغربی بنگال میں اسکول اور ہائی مدرسہ کے نصاب میں کوئی خاص فرق نہیں ہے صرف ایک تھیالوجی اور ایک عربی کا اضافہ پرچہ پڑھایا جاتا ہے۔ بہت سارے غیر مسلم بچے بنگالی، انگریزی اور ہندی کے ساتھ عربی سیکھنے کے لئے بھی مدرسوں میں داخلہ لیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے مدرسوں میں غیر مسلم طلبا کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس گاؤں میں ایک بڑا اسکول بھی ہے مگر اس کے باوجود جگن ناتھ داس نے مدرسہ میں داخلہ لیا۔

مدرسہ میں داخلہ لینے کے سوال کے جواب میں جگن ناتھ نے کہا کہ میں ہندو اور مسلم کے درمیان فرق کو سمجھ نہیں پاتا ہوں ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ ہم سب انسان ہیں۔ میرے دوست بھی میرے ہی جیسے ہیں۔جگناتھ نے کہا کہ مدرسہ میں وہ اکیلے ہندو طالب علم نہیں تھے بلکہ بہت سارے غیر مسلم طلبا یہاں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔جگن ناتھ نے کہا کہ مجھے عربی پڑھنا بہت ہی پسند ہے اور ہم سب عربی کی کلاس کو بہت ہی سنجیدگی سے پڑھتے ہیں۔اسکول میں پڑھنے والے صرف بنگلہ اور انگریزی جانتے ہیں اور ہم بنگلہ،انگریزی کے ساتھ عربی بھی جانتے ہیں۔جگناتھ کے والد دین بندھو داس نے کہا کہ ہم نے بھی اسی مدرسے میں تعلیم حاصل کی تھی۔ ہم کبھی بھی مدرسوں کو مذہبی تعلیمی ادارے نہیں سمجھتے ہیں۔ ہمارے پڑوس کے بچے اس مدرسے میں تعلیم حاصل کرکے بڑے ہوئے ہیں۔ بہت سے لوگ اچھی جگہوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔

اس مدرسے سے 30 غیر مسلم طلباء نے ہائی مدرسہ کا امتحان دیا تھا۔اور سب کے سب نے کامیابی حاصل کی ہے۔مدرسہ کے ہیڈ ماسٹر فخر الحسین نے کہا کہ ”ہمارے مدرسے میں نسل، مذہب، ذات پات کی تفریق سے قطع نظر تمام مذاہب کے طلبا تعلیم حاصل کرتے ہیں اور یہاں کل 40 فیصد غیر مسلم طلبا ہیں۔ اس علاقے میں مدرسے کی تعلیم کی بہت ہی اہمیت ہے۔ لڑکے لڑکیاں دلچسپی کے ساتھ مدرسے آتے ہیں۔ اچھے نتائج بھی آتے ہیں۔ جگناتھ شروع سے ہی تعلیم حاصل کرنے میں اچھا ہے۔ ہمیں امید تھی کہ وہ بہتر نمبرات سے کامیابی حاصل کرے گا۔جگناتھ نے عربی میں 80 نمبر حاصل کیے اور اے پلس گریڈ حاصل کیا۔دوسرے تمام مضامین میں اسے 90 سے اوپر نمبر ملے۔

جگن ناتھ مستقبل میں انجینئر بننے کا ارادہ ہے۔ جگن ناتھ کے والد ایک چھوٹے سے کسان ہیں، ماں گھریلو خاتون ہیں۔ اس کا ایک اور چھوٹا بھائی ہے۔جگن چاہتے ہیں کہ وہ انجینئرنگ کرنے کے بعد اپنے گھروالوں کو بہتر زندگی فراہم کرسکیں۔ اس بار ہائی مدرسہ کے امتحان میں 5637 غیر مسلم طلباء نے شرکت کی تھی۔ان میں سے 1816 لڑکے اور 4022 طالبات ہیں۔ یہ تعداد پچھلی مرتبہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ ان میں سے نصف کا تعلق ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی برادری سے ہے۔ اس سے قبل 2016 میں بھی غیر مسلم طلبا نے ہائی مدرسہ کے امتحان میں ٹاپ پوزیشن حاصل کی تھی۔

    Published: 17 Jul 2020, 9:11 PM
    next