تعلیم اور کیریر

مدارس کے اساتذہ کو ’تربیت‘ دلائیں گے نقوی!

اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی 112ویں آپریٹنگ کونسل اور 65 ویں جنرل اسمبلی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے مدارس کے اساتذہ کو تربیت دینے کی بات کہی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: پورے ملک کے مدرسوں کی مین اسٹریم تعلیم سے جڑنے کے لئے حوصلہ افزائی کرنے کے لئے ان کے اساتذہ کو مختلف تربیتی اداروں سے تربیت دلائی جائے گی۔ اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی 112ویں آپریٹنگ کونسل اور 65 ویں جنرل اسمبلی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ مدرسوں میں مین اسٹریم کی تعلیم ہندی، انگریزی، ریاضی، سائنس، کمپیوٹر وغیرہ میں ملنی چاہیے۔ اساتذہ کی تعلیم کا کام اگلے مہینے سے شرو ع ہو جائے گا۔

اقلیتی طبقہ اسکول کی ’ڈراپ آوٹ‘ لڑکیوں کو ملک کے مشہور تربیتی اداروں سے برج کورس کراکر انہیں تعلیم اور روزگار سے جوڑا جائے گا۔ نقوی نے کہا کہ ایجوکیشن (تعلیم)، ایمپلائمنٹ (روزگار و روزگار کے مواقع) اور امپاورمنٹ (سماجی، اقتصادی۔ امپاورمنٹ)، پروگرام کے تحت اگلے پانچ برسوں میں پری میٹرک، پوسٹ میٹرک اور میرٹ کم۔ مینس وغیرہ اسکیموں کے ذریعہ پانچ کروڑ طلبا کو اسکالر شپ دی جائے گی، جن میں 50 فیصد سے زیادہ لڑکیوں کو شامل کیا جائے گا۔ ان میں اقتصادی طور پر پسماندہ طبقہ کی لڑکیوں کے لئے 10 لاکھ سے زیادہ بیگم حضرت محل گرلز اسکالرشپ شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں تعلیمی اداروں کے لئے ڈھانچہ جاتی سہولیات نہیں ہیں وہاں پردھان منتری جن وکاس کاریہ کرم (پی ایم جے وی کے) کے تحت پولی ٹیکنک، آئی ٹی آئی، گرلز ہوسٹل، اسکول، کالج، گروکل کے مساوی ہوسٹل اسکول، کامن سروس سنٹر وغیرہ کی جنگی پیمانہ پر تعمیر شروع کی گئی ہے۔

اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے کہا کہ ’پڑھو اور بڑھو‘ بیداری مہم کے تحت ان تمام دور دراز کے علاقوں میں جہاں سماجی اور اقتصادی طور پر پسماندگی ہے اور لوگ اپنے بچوں کو تعلیمی اداروں میں نہیں بھیج پا رہے ہیں، ان کے والدین کو اپنے بچوں کو تعلیمی اداروں میں بھیجنے کے لئے بیدار اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اس میں خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم پر فوکس کیا جائے گا۔ ساتھ ہی تعلیمی اداروں کو سہولت اور وسائل دستیاب کرانے کے لئے موثر اقدامات کیے جار ہے ہیں۔

مختار عباس نقوی نے کہا کہ اس مہم کے تحت نکڑ ناٹکوں، مختصر فلموں وغیرہ جیسی ثقافتی پروگراموں کے ذریعہ بیداری اور حوصلہ افزائی مہم چلائی جائے گی۔ اس کڑی کے تحت پہلے مرحلہ میں ملک کے 60 اقلیتوں کی اکثریت والے اضلاع کی نشاندہی کر کے اس مہم کو شروع کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ اقتصادی طورپر کمزور اقلیتی۔ مسلمان، عیسائی، سکھ، جین، بودھ، پارسی نوجوانوں کو مرکزی اور ریاستی انتظامی خدمات، بینکنگ، ملازمین سلیکشن کمیشن، ریلوے اور دیگر مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے فری۔کوچنگ کا انتظام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت والی ’انصاف، ایمان اور اقبال کی سرکار‘ نے ’ترقی کی صحت‘ کو ’فرقہ پرستی اور نازبرداری کی بیماری‘ سے نجات دلاکر ’صحت مند ہمہ گیر تفویض اختیارات‘ کا ماحول تیار کیا ہے۔ مودی حکومت مجموعی ترقی اور تمام کے اعتماد کے عزم سے بھر پور ہے۔

Published: 11 Jun 2019, 9:10 PM