اسکولی نصاب کو زندگی کے حقیقی حالات سے جوڑنے پر زور دیا جائے گا: منیش سسودیا

دہلی حکومت عالمی تقاضوں اور چیلنجوں کے مطابق تعلیمی نظام میں بنیاد پرست تبدیلی لانے کے لئے 14 سال کی عمر تک کے بچوں کے لئے نئے نصاب کے ساتھ الگ ایجوکیشن بورڈ کی تشکیل پر تیزی سے کام کر رہی ہے

دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا / تصویر یو این آئی
دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا / تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: دہلی حکومت عالمی تقاضوں اور چیلنجوں کے مطابق تعلیمی نظام میں بنیاد پرست تبدیلی لانے اور طلبہ کے اوپر سے پڑھائی کے بوجھ کو کم کرنے کے لئے 14 سال کی عمر تک کے بچوں کے لئے نئے نصاب کے ساتھ الگ ایجوکیشن بورڈ کی تشکیل پر تیزی سے کام کر رہی ہے اور اسے آئندہ سیشن میں نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

دہلی کے نائب وزیراعلی اور وزیرتعلیم منیش سسودیا نے ’یواین آئی‘ سے خصوصی بات چیت میں کہا، ’’ان کی حکومت پہلی بار دہلی کے طلبہ کی پائیدار ترقی کے لئے ایک ایجوکیشن بورڈ کے ساتھ ساتھ الگ نصاب لے کر آرہی ہے۔ تجزیہ ہمارے نصاب کا اہم حصہ ہے۔ ہماری تعلیم صرف اسکولوں تک محدود نہیں ہوتی ہے بلکہ ایک بچہ اسکول کے باہر بھی اپنے ماحول سے سیکھتا ہے۔ ہمیں اپنے تجزیاتی نظام میں بچوں کی ترقی کے ہر پہلو کو دھیان میں رکھنا ہوگا۔‘‘

سسودیا نے کہا، ’’تین گھنٹے کے امتحان کے ذریعہ ایک بار میں بچوں کے تجزیہ کا دور اب ختم ہوگیا ہے۔ہمیں ایسا نظام بنانا ہے جہاں ہم ایک بچے کی ترقی کو 360 ڈگری ٹریک کرنے کے قابل ہوں۔ ہمیں بچوں کے تعلیمی نظام کے ہر پہلو کو سمجھنا ہوگا۔ جدید ٹیکنالوجی کا موثر استعمال کرکے ایسا نظام نافذ کرنا ممکن ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ نصاب کو اس طرح بنایا جا رہا ہے کہ بارہویں کلاس میں پڑھنے والا طالب علم اپنی کلاس کے امتحان کی تیاری کے ساتھ ساتھ مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے بھی تیار ہوگا۔ اب تک طلبہ کو بارہویں پاس کرنے کے لئے الگ سے تیاری کرنی پڑتی تھی اور بارہویں کے بعد ڈاکٹر یا انجینئرنگ کی تیار کےلئے الگ سے کوچنگ کرنی پڑتی تھی۔ اس سے بچوں کے اوپر دوہرا دباؤ آتا اور والدین کو بھی بچوں کے اوپر زیادہ خرچ کرنا پڑتا تھا۔

وزیرتعلیم نے کہا کہ دہلی حکومت جو نصاب لے کر آرہی ہے وہ ملک کا سب سے انوکھا اور الگ قسم کا ہوگا جو موجودہ حالات کے ساتھ ساتھ حقیقت سے منسلک ہوگا۔ دہلی میں اس سے پہلے کوئی الگ بورڈ نہیں بنایا گیا اور پوری طرح مرکزی ثانوی تعلیم بورڈ (سی بی ایس ای) پر ہی منحصر رہے جبکہ سی بی ایس ای کی اپنی حدود ہیں۔ حکومت اس کے علاوہ اسکل یونیورسٹی، اسپورٹس یونیورسٹی اور حب الوطنی نصاب پر بھی کام کر رہی ہے۔

نائب وزیراعلی نے کہا کہ اب وہ دور چلا گیا کہ بچے کو کوئی کہانی رٹا دی یا زبان سکھا دی اور پڑھائی پوری ہوگئی۔ اب انٹرنیٹ کا دور ہے سبھی قسم کی معلومات آسانی سے حاصل کی جا سکتیں ہے۔ آج کے جدید ٹیکنالوجی کو دھیان میں رکھتے ہوئے نصاب تیار کرنا ضروی ہے۔ آج کل بچوں کو وہی پڑھایا جاتا ہے جو پچھلے پانچ سال میں امتحانات میں پوچھا گیا ہے۔ تعلیم کے سلسلے میں جتنی بھی بڑی بڑی باتیں کرلیں کہ سائنسی نظریہ پیدا کرکے ایک اچھا شہری بنائیں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف امتحانات میں پوچھے جانے والے سوالات کو دھیان میں رکھ کر ہی پڑھائی کرائی جاتی ہے۔ اس کا مطلب پڑھائی کی جان امتحان میں ہے۔

کلاس میں کیا پڑھایا جائے اس پر منحصر کرتا ہے کہ پچھلے کچھ سال میں امتحان میں کیا سوال پوچھے گئے ہیں۔ جبکہ ہونا یہ چاہیے کہ جس مقصد سے نصاب بنایا گیا ہے اسی مقصد سے سوال پوچھے جائیں۔ مثال کے طورپر بچوں کو گاندھی جی کے صفائی کے اصول کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے اور بچے صفائی کے اصول کو رٹ کر امتحان میں پاس ہوجاتے ہیں لیکن ان کی زندگی میں صفائی کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی جبکہ تجزیہ کی بنیاد یہ ہونی چاہیے کہ بچہ خود کتنا صاف ستھرا رہتا ہے اور آس پاس کو کتنا صاف رکھتا ہے۔ ان باتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے حکومت الگ ایجوکیشن بورڈ اور الگ نصاب بنانے پر کام کر رہی ہے۔

نائب وزیراعلی نے کہا،’’نصاب کو زندگی کے حقیقی حالات سے جوڑنے پر زور دیا جائے گا۔ تعلیم سے جڑے ہمارے مقصد آسان اور واضح ہونے چاہیے تاکہ والدین اپنے بچے کو سیکھنے کے اعمال میں فعال حصہ دار ہوسکیں۔ پیرنٹس ٹیچر میٹنگ کے دوران اکثر ٹیچروں اور والدین کے درمیان بنیادی طور پر بچوں کو ملے نمبروں اور کورسز پر بات چیت ہوتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا نیا نصاب اور تجزیاتی نظام ایسا ہو، جس کی وجہ سے والدین اور ٹیچروں کے درمیان بات چیت کا موضوع یہ ہو کہ بچے کی مکمل ترقی کیسے کی جائے۔‘‘

نائب وزیراعلی نے کہا کہ اسکل اور آنٹرپرینیورشپ یونیورسٹی کا مقصد بازار کے مطابق کورس کرانا ہے۔ بازار میں جس اسکل کی مانگ ہوگی اسی کے مطابق یونیورسٹی کورس شروع کرے گی تاکہ یہاں سے نکلنے والے سبھی طلبہ براہ راست نوکری میں چلے جائیں۔ دہلی میں جتنی ملازمتوں کی ضرورت ہوگی اسی کے حساب سے یونیورسٹی میں ڈپلومہ کرایا جائے گا۔ یونیورسٹی بازار سے لنک ہوگی۔ اب تک ڈگریاں دی جاتی رہی ہیں اس کا بازار سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

next