تعلیم اور کیریر

دینی اور دنیاوی علم کا بٹوارہ، ایک المیہ

’’آخر کیا وجہ ہے کہ وہ قوم جو ایک ایسی کتاب کو اپنا رہنما مانتی ہے جس کا پہلا لفظ ’پڑھو‘ تھا، وہ دور حاضر میں پڑھائی سے اتنی دور ہو گئی!‘‘

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

از: ڈاکٹر سید ضیا ء الابرار حسین

ہم روزمرہ کی گفتگو میں اکثر یہ سنتے ہیں کہ دنیاوی علم کے ساتھ دینی علم بھی ضروری ہے یا دینی علم کے ساتھ دنیاوی بھی، اور دینی علم کے بغیر دنیاوی علم بیکار ہے وغیرہ وغیرہ ۔ آخر یہ علم کا کیسا بٹوارہ ہے کئی بار عقل حیران رہ جاتی ہے علم علم ہوتا ہے، جو بھی علم مخلوق اور کائنات کی فلاح بہبود اور فوائد کے لئے استعمال ہو وہ علم حق ہے، وہ کسی بھی کتاب سے آئے چاہے مذہبی کتابوں سے یا سائنس اور فلسفہ کی کتابوں سے ۔ اسی کے برعکس جو بھی علم انسانیت کے لئے نقصان دہ ہو وہ علم باطل ہے ۔ علم کے اس بٹوارے نے امت مسلمہ کا کتنا نقصان کیا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ سرکاری آنکڈوں کے مطابق مسلمان تعلیم کے معاملے میں ہندوستان کی باقی قوموں سے کافی پیچھے ہیں ۔

آخر کیا وجہ ہے کہ وہ قوم، جو ایک ایسی کتاب کو اپنا رہنما مانتی ہے جس کا پہلا لفظ "پڑھو" تھا، دور حاضر میں پڑھائی سے اتنی دور ہو گئی۔ ایسا نہیں کی یہ ہمیشہ سے ہی تھا، اگر ہم اسلامی تاریخ کے سنہرے باب کو دیکھیں تو ہمیں ایسے ان گنت نام ملیں گے جنہوں نے سائنس، طب، جراحت، الجبرا، ریاضی اور فلسفہ کے علاوہ تقریباً تمام علوم فن میں مہارت حاصل کی اور ایسے کام کئے جس کا فائدہ ساری دنیا کو ہوا۔

ابن رشد، ابن سینا، الزهراوی، ال خوارزمی، ناصر الدین طوسی، جابر ابن حیان، البرونی ، ابو زائد ا البا لكھی، عمر خیام، الراضی، ابن ہیشم وغیرہ ایسے سینکڑوں نام ہیں جنہوں نے ایسی تحقیق کی اور ایسی کتابیں لکھیں جن کی دنیا آج بھی قائل ہے ۔ ان سارے لوگوں نے کبھی بھی علم کا بٹوارہ نہیں کیا اور علم کو علم سمجھا، اس کا پتہ اس بات سے چلتا ہے کہ اسلام کے عروج کے ابتدائی سو دوسو سالوں میں مسلم تحقیق دانوں نے یونانی عالموں جیسے سقراط، ارسطو وغیرہ کی کتابوں کا عربی اور فارسی زبان میں ترجمہ کیا اور پھر اپنے علم و فن کا استعمال کرتے ہوئے خود کی تحقیق کی اور دنیا کو بہت سی نئی معلومات سے روشناس کرایا ۔

ذرا پل بھر کو سوچیں کہ اگر ان مسلم سائنسدانوں نے قدیمی یونانی علم کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیا ہوتا کہ یہ تو بت پرستوں کی کتابیں ہیں تو کیا وہ ایک مضبوط ، معروف اور پڑھی لکھی قوم بن پاتےاور دنیا کے ایک بہت بڑے خطے پر حکومت کر پاتے، شاید نہیں ! یہ علم کا بٹوارہ کب اور کیسے ہوا، یہ پتہ لگانا مشکل ہے، بہر حال ہمیں پچھلی باتیں بھول کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، اس کو آپ ایسے سمجھیے کہ علم ایک تناوار درخت ہے جس کی بہت ساری ٹہنیاں ہیں مثلاً دینیات، ریاضی، سائنس، فلسفہ وغیرہ ، ہمیں ان سب کو برابر سمجھ کر ان کو حاصل کرنا چاہیے اور جو بھی علم حاصل کریں اس کا مقصد خدمت خلق ہونا چاہیے ۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم علم کے اس بٹوارے کو ختم کریں اور علم کو صرف علم سمجھ کر حاصل کریں ورنہ تیزی سے بدلتی دنیا میں ہم بہت پیچھے رہ جائیں گے۔

(ڈاکٹر سید ضیا البرارحسین دہلی کے رہنے والے ہیں اور ایک دواسازی کمپنی میں سائنسدان کے عہدے پر فائز ہیں)