’کتابوں اور مطالعہ سے دوری نے مسلمانوں کو دینی و دنیاوی علوم سے محروم کر دیا ہے‘

ممبئی کے جامع مسجد کے قدیم کتب خانہ کی 14ہزار قیمتی مطبوعات اور ڈیڑھ ہزار نادرونایاب مخطوطات کو ڈیجیٹائز کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ٹیکنالوجی سے محفوظ کرنے کی سمت میں اہم پیش رفت کی گئی ہے

تصویر سوشل میدیا
تصویر سوشل میدیا
user

یو این آئی

ممبئی: ممبئی کی جامع مسجد کے قدیم کتب خانہ مدرسہ محمدیہ ازسرنو ترتیب وفہرست کے اجراء کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے علماء کرام نے اس بات پرتشویش کا اظہار کیا کہ کتابوں اور مطالعہ سے دوری نے مسلمانوں کو دینی ودنیاوی علوم سے محروم کر دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ جس مسلم قوم نے دنیا سے جہالت اور تاریکی کو ختم کیا تھا، وہ علم کی دولت سے محروم نظر آرہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ملکی اور عالمی سطح پر ذلیل وخوار ہے۔

واضح رہے کہ جامع مسجد کے قدیم کتب خانہ کی 14ہزار قیمتی مطبوعات اور ڈیڑھ ہزار نادرونایاب مخطوطات کو ڈیجیٹائز کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ٹیکنالوجی سے محفوظ کرنے کی سمت میں اہم پیش رفت کی گئی ہے، مذکورہ تقریب کی صدارت مولانا منیراحمد نے کی جبکہ مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی اورمفتی عزیز الرحمن فتحپوری نے مہمانان خصوصی کے طور پر شرکت کی اورمولانا علی صاحب شریوردھن اورمفتی رفیق پورکر نے اظہار خیال کیا، سماجی رہنماء علی ایم شمسی، صحافی سمیع بوبیرے، جاویدجمال الدین اور دیگر معززین اور شہریوں نے تقریب میں حصہ لیا، ناظم کتب خانہ مفتی محمداشفاق قاضی نے ان ہزاروں کتب اور مخطوطات کو محفوظ کرنے اور ترتیب دینے میں اپنے رفقاء کے ہمراہ اہم رول ادا کیا ہے۔

اس موقع پر اپنے صدارتی خطبہ میں مولانا منیراحمد نے کہا کہ کتابوں سے دوری کے ساتھ ساتھ گھریلواور خاندانی تربیت کا نظم بھی ختم ہوچکا ہے، جس کی وجہ سے معاشرہ میں بڑی خرابی نظر آرہی ہے، دراصل مطالعہ کے شوق کے فقدان اور بزرگوں اور علماء کرام کی قربت سے محرومی نے انہیں دینی اور دنیاوی علوم سے بیگانہ کردیا ہے، ہمیں ایک ایسے طریقہ کار کو اپنانا ہوگا جس کے تحت مستقبل میں ہماری نوجوان نسل اخلاقی تعلیم کو رائج کرلے، ورنہ معاشرہ کی تباہی کو کوئی روک نہیں سکتا ہے۔

مولانا منیر احمد نے آج کے اس پرآسودہ دورمیں جامع مسجد ٹرسٹ کے زیراہتمام مفتی محمد اشفاق قاضی کی نگرانی میں قدیم کتب خانہ اور مدرسہ کو جدید طرز دینے پر ایک خوش آئند قدم قراردیا اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس کے ذریعے مسلمانوں کو دینی کتابوں کے ساتھ عام اورمفید علوم کو پڑھنے کا موقعہ ملے گا، جس کے لیے نبی کریم نے دعا کی ہے کہ زندگی میں فائدہ پہنچانے والا علم حاصل کیا جائے اور بے کار علوم سے دور رکھا جائے۔

مہمان خصوصی مولانا سجادنعمانی نے حسب معمول مسلمانوں کی موجودہ حالت کے لیے انہیں ہی ذمہ دار قراردیتے ہوئے اس بات کو دوہرایا کہ دنیا کو ترقی اور کامرانی دلانے والی مسلم قوم ہی پسماندگی اور پچھڑچکی ہے اور اس کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے، کیونکہ اس قوم نے علم سے منہ پھیرلیا ہے اور میلے ٹھیلوں اور تماشوں کی نذر ہوچکی ہے، ایک سبب مطالعہ سے ان کی دوری بھی ہے۔

مولانا نعمانی نے مذہب اسلام کے ظہور اور خلفائے راشدین کے دورمیں علوم وفنون کی ترقی کی کئی مثالیں پیش کرتے ہوئے واضح طورپر کہا کہ اسلام نے دنیا میں تحقیق کے دورکی شروعات کی، جبکہ یونان اور روم مفروضہ پر منحصر رہتے تھے اور اسلام نے ریسرچ کو اہمیت دی کیونکہ رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ ایک نئی خبر اور کسی بات کی تصدیق سے قبل اسے آگے نہ بڑھایا جائے اور یہ حقیقت ہے کہ حدیث کو اسی بنیاد پر جمع کیا گیا۔ مسلمانوں نے دینی علوم کے ساتھ ساتھ طب، فلکیات، فلسفہ اور دیگر دنیاوی علوم کو دنیا کے سامنے پیش کیا،

انہوں نے ایک روسی خلائی ماہر کے اس بیان کو پیش کیا جس نے کہا تھا کہ اس کا علم انہوں نے ایک مسلم خلائی سائنسداں کے خاکہ سے حاصل کیا تھا، لیکن آج کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں نے سب کچھ بھلا دیا ہے اور فتنوں کا شکار بن رہے۔ مہاراشٹر کے مفتی عزیز الرحمن فتح پوری نے بھی اس بات پر زور دیا کہ مسلمان علماء اور مبلغین نے کتابیں لکھنے اور انہیں عام لوگوں تک پہنچانے میں جو محنت وجدوجہد کی ہے، اسے رائیگاں جانے نہیں دیا جائے، انہوں نے جامع مسجد کے اس قدیم کتب خانہ اورمدرسہ کی ازسرنوترتیب اور جدیدکاری کا مکمل فائدہ اٹھانے کی اپیل کی تاکہ نوجوان نسل دین اور دنیاوی علوم سے واقف ہوسکیں۔

ابتداء میں ناظم کتب خانہ اورمدرسہ محمدیہ مفتی محمداشفاق قاضی نے تفیصل پیش کرتے ہوئے کہا کہ جامع مسجد ممبئی کے احاطہ میں واقع کتب خانہ مدرسہ محمدیہ کا شمار ملک کے اہم اورقدیم ترین کتب خانہ میں کیا جاتا ہے، جس میں 14 ہزار اہم اور قیمتی مطبوعات اور ڈیڑھ ہزار نادرونایاب مخطوطات کا ایک بڑا ذخیرہ محفوظ ہے، حال میں اس کی ازسرنوترتیب کے ساتھ ساتھ ان کی فہرست بھی مرتب کرلی گئی ہے۔اورگزشتہ پانچ سال کی محنت سے ان اشیاء کواسکین کرکے محفوظ کردیا ہے، اس طرح یہ ایک جدید ڈیجٹیل لائبریری میں تبدیل ہوچکی ہے۔

انہوں نے مطلع کرتے ہوئے کہا کہ ان ہزاروں نادراورنایاب مخطوطات اورمطبوعات کی پہلی فہرست 1922 میں مولانا یوسف کھٹکھٹے نے مرتب کی تھی، لیکن ایک عرصے بعد غالباً 1956میں ڈاکٹرحامد اللہ ندوی نے اس کتب خانہ کے اردومخطوطات کا ایک تفصیلی تعارف پیش کروایا تھا جبکہ 2011میں عربی مخطوطات کی فہرست مرتب کی گئی۔ اس کتب خانہ کی ایک مجموعی فہرست کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی، جس میں عربی، اردو اور فارسی مخطوطات اور مطبوعات شامل ہوں، لہذا تقریباً پانچ سال کی جدوجہد ومحنت کے نتیجہ میں یہ اہم ترین کام پایہ تکمیل کو پہنچا اور اب فہرست طبع ہوچکی ہے۔