باحجاب طالبہ کو نیٹ امتحان سے روکنے کا معاملہ، دہلی اقلیتی کمیشن کا یوجی سی کو نوٹس

دہلی کے اقلیتی کمیشن نے یونیورسٹی گرانٹ کمیشن (یو جی سی) کو نوٹس بھیج کر پوچھا ہے کہ ایک با حجاب مسلم طالبہ کو یو جی سی نیٹ امتحان میں بیٹھنے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی۔

عمران خان

دہلی میں ایک باحجاب طالبہ کو یو جی سی نیٹ امتحان سے روکنے کا معاملہ طول پکڑ گیا ہے۔ جہاں قومی اور بین الاقوامی میڈیا میں یہ معاملہ شہ سرخیوں میں رہا وہیں اب دہلی کے اقلیتی کمیشن نے بھی اس معاملہ کا نوٹس لیا ہے۔ دہلی کے اقلیتی کمیشن نے یو جی سی کے سکریٹری کو خط لکھ کر باحجاب مسلم طالبہ امیہ کے ساتھ ہوئی ناانصافی پر جواب طلب کیا ہے۔

واضح رہے قومی راجدھانی دہلی کی جامعہ اسلامیہ یورنیورسٹی سے ایم بی اے کی تعلیم حاصل کرنے والی طالبہ کو حجاب کی وجہ سے امتحان میں شرکت سے روکا گیا تھا۔ جامعیہ ملیہ اسلامیہ کی طالبہ امیہ خان کا کہنا ہے کہ انہیں حجاب کی وجہ سے نیٹ (نیشنل الیجی بلٹی ٹیسٹ) امتحان میں شرکت کرنے سے روکا گیا ہے۔

متاثرہ طالبہ نے میڈیا کو بتایا کہ ’’میں گذشتہ ہفتہ روہنی میں نیٹ امتحان دینے گئی تھی۔ مجھے امتحان کے مرکز میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی تاہم حجاب کی وجہ سے کمرہ امتحان میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔‘‘ امیہ خان نے مزید کہا ’’مجھے انتظامیہ کی جانب سے حجاب اتارکر امتحان میں شرکت کو کہا گیا۔ میں نے اپنا اجازت نامہ دکھایا، شناخت کروائی پھر بھی مجھے امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔‘‘

امیہ خان کے ساتھ امتیاز کے اس واقعہ پر دہلی اقلیتی کمیشن نے یو جی سی کے سکریٹری کو نوٹس بھیج کر کہا، ’’یہ مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیاز برتنے کا معاملہ ہے اور یہ اقلیتوں کو قومی مرکزی دھارے سے علیحدہ کرنے کی کوشش ہے۔ ‘‘

دہلی کے واقعے کے سلسلے میں از خود نوٹس لیتے ہوئے دہلی اقلیتی کمیشن نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے سکریٹری کو نوٹ بھیج کر کہا ہے کہ یہ واقعہ صریحا ایک مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والی طالبہ کے ساتھ بھید بھاؤ کا معاملہ ہے اور اسے قومی دھارے سے الگ رکھنے کی کوشش ہے۔ مزید برآں یہ عمل کیرالا ہائی کورٹ کے ایک واضح فیصلے اور دہلی اقلیتی کمیشن کے ایک آرڈر کی بھی خلاف ورزی ہے۔

کمیشن نے این جی سی کے سکریٹری سے پوچھا ہے، اس بھید بھاؤ کی اجازت کیوں دی گئی اور کس بنیاد پردی گئی، اس ناانصافی کے ازالے کے لئے یو جی سی کیاقدم اٹھانے والاہے اور مستقبل میں اس طرح کی نا انصافی کو روکنے کے لئے یو جی سی کیا کرنے والاہے۔ نوٹس کے ساتھ ہی کمیشن نے یو جی سی کو کیرالا ہائیکورٹ کے فیصلے اور اس سلسلے میں اقلیتی کمیشن کے آرڈر کی کاپی بھی بھیجی ہے۔

دہلی اقلیتی کمیشن کے ایک افسر نے بتایا، ’’دہلی اقلیتی کمیشن نے یو جی سی کے سکریٹری سے پوچھا ہے کہ یہ امتیاز کیوں ہونے دیا گیا اور حجاب پہنی مسلم خاتون کو نیٹ امتحان سے روک کر جو ناانصافی کی گئی ہے اسے وہ کیسے ٹھیک کریں گے اور مستقبل میں اس طرح کی ناانصافی نہ دوہرائی جائے اس کے لئے کیا اقدام اٹھائے جا رہے ہیں۔‘‘ اسی طرح کا واقعہ گوا سے بھی منظر عام پر آیا ہے۔ جہاں 24 سالہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ حجاب اترنے سے منع کرنے پر انہیں نیٹ امتحان دینے سے روک دیا گیا۔ ‘‘

ادھر دہلی کی متاثرہ طالبہ امیہ خان نے نیٹ امتحان کا انعقاد کرنے والے ادارے یو جی سی کو امتحان لینے والی انتظامیہ کے متعصبانہ رویہ کے حوالے سے ای میل بھیجا ۔امیہ خان نے کہا کہ اگر ادارے کی جانب سے ای میل کا کوئی جواب نہیں دیا گیا تو وہ قانونی کارروائی کریں گی۔