یو پی: سول سروسز امتحان میں چھٹا مقام حاصل کرکے ’ایس ڈی ایم‘ بننے والی- بشریٰ بانو

بشریٰ بانو نے ایمانداری سے اپنے ہر کام کو سرانجام دیا۔ ماں ہونے کا فرض ادا کیا، شوہر کا بھی خیال رکھا، چار سرجریوں سے گزریں اور ہر درد کو برداشت کرنے کے بعد آج وہ ایس ڈی ایم کے عہدے پر فائز ہو گئیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

آس محمد کیف

حال ہی میں یوپی پی سی ایس (اتر پردیش پبلک سروس کمیشن) کے پی سی ایس (پرونسیل سول سروسز) -2017 کے نتائج کا اعلان کیا گیا۔ اس امتحان میں چھٹا مقام حاصل کرکے ایس ڈی ایم کے عہدے پر فائز ہونے والی قنوج کی بیٹی بشریٰ بانو کی کامیابی پر چہارسو سے ان کی ستائش کی جا رہی ہے۔ قنوج کے سورکھ گاؤں کی رہائشی بشریٰ موجودہ نتائج میں ایس ڈی ایم کے عہدے پر فائز ہونے والی واحد مسلم امیدوار ہیں۔

اس سے قبل یوپی ایس سی (یو نین پبلک سروس کمیشن) کے سولس سروسز امتحان میں بھی بشریٰ نے 277 واں مقام حاصل کیا تھا۔ وہ آئی آر ایس (انڈین ریوینیو سروسز) کے لئے منتخب بھی ہوئی تھیں لیکن انہیں اس سے بہتر کی امید تھی۔ اب وہ ایس ڈی ایم تو بن ہی چکی ہیں، آئی اے ایس میں بھی بہتر مقام حاصل کرنے کے لئے دوبارہ کوشش کریں گی۔

خاندان کے افراد کا کہنا ہے کہ بشریٰ نے آج تک جو عزم کیا ہے اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے لہذا انہیں یقین ہے کہ آگے بھی جو کہہ رہی ہے کر کے دکھائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’گاؤں کی لڑکی، کوچنگ کے بغیر شادی شدہ ہونے کے باوجود، کام کرنے اور چار سرجریوں کا درد برداشت کرنے کے بعد اگر ملک کے سب سے بڑے امتحان میں اپنا پرچم لہرا دیتی ہے تو اس کے لئے کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔‘‘

بشریٰ کے خاندان میں تمام افراد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ والد کسان ہیں اور والدہ گھریلو خاتون ہیں اور دونوں ہی گریجویٹ ہیں۔ ان کے بھائی اور بہن نے بھی بہتر تعلیم حاصل کی ہے۔ بشریٰ نے ساڑھے 17 سال کی عمر میں گریجویشن کی تھی۔ اس کے بعد 20 سال کی عمر سے قبل ایم بی اے کی ڈگری حاصل کر لی تھی۔

بشریٰ کے بقول وہ گریجویشن کرنے کے ساتھ ہی یو پی ایس سی کا امتحان دینا چاہتی تھیں لیکن ان کی عمر کم رہ گئی۔ بشریٰ کی امی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان کا داخلہ ساڑھے چار سال کی عمر میں سیدھے دوسرے درجہ میں کرایا تھا، انہوں نے ہمیشہ اول مقام ہی حاصل کیا۔

بشریٰ کا کہنا ہے کہ جو بھی ان کے گھر آتا ہے ان کے امی ابو سے کہتا کہ بیٹی کو کلیکٹر بنایئے۔ ’’بس یہ بات میرے ذہن میں داخل ہوگئی۔ میں کم عمر کی وجہ سے یو پی ایس سی کا امتحان نہیں دے سکی تو جے آر ایف (جونیر ریسرچ فیلوشپ) کا امتحان دے دیا۔ ‘‘

بشریٰ نے پہلی کوشش میں جے آر ایف کا امتحان پاس کیا اور اے ایم یو سے ’پی ایچ ڈی‘ کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد ان کی شادی علی گڑھ سے ہی تعلیم یافتہ عمار حسین سے ہو گئی اور وہ دونوں سعودی عرب چلے گئے۔ دونوں وہاں بہتر ملازمت کرتے تھے لیکن اپنے وطن عزیز لوٹ آئے۔

بشریٰ کا کہنا ہے کہ ’’سعودی عرب سے واپسی کی واحد واجہ اپنے وطن ہندوستان سے محبت تھی۔ میں اکثر یہ سوچا کرتی تھی کہ میں نے جو کچھ بھی تعلیم و تربیت حاصل کی وہ ہندوستان میں کی، تو مجھے خدمت بھی یہیں کے لوگوں کی کرنی چاہیے۔‘‘

بشریٰ کے شوہر عمار حسین کہتے ہیں، ’’واپس ہندوستان آنے کے بعد میں نے کول انڈیا میں ملازمت حاصل کرلی اور بشریٰ گھریلو کام کاج میں پھنس گئی۔ دس سال کے دوران دو بچوں کی ماں بنیں اور چار مرتبہ بڑی سرجریوں کا سامنا کیا۔ اس کے باوجود بھی ان کی کلیکٹر بننے کی خواہش ختم نہیں ہوئی۔‘‘

بشریٰ بانو نے ایمانداری سے اپنے ہر کام کو سرانجام دیا۔ ماں ہونے کا فرض ادا کیا، شوہر کا بھی خیال رکھا، چار سرجریوں سے گزریں اور ہر درد کو برداشت کرنے کے بعد آج وہ ایس ڈی ایم کے عہدے پر فائز ہو گئیں۔

Published: 29 Oct 2019, 8:10 AM