تعلیم اور کیریر

اے ایم یو کے ڈاکٹروں نے 7 ماہ کی بچی کے دل کی سرجری کرکے زندگی بچائی

بیماری کے علاج کے لئے اینجیوگرافی کی گئی، جس کے بعد بچی کی زندگی بچانے کے لئے سرجری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پروفیسر ایم ایچ بیگ، ڈاکٹر محمد اعظم حسین اور ڈاکٹر غضنفر خاں کی ٹیم نے یہ کامیاب آپریشن کیا۔

علامتی تصویر

یو این آئی

علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج و اسپتال کے ڈسٹرکٹ اَرلی انٹرونشن سنٹر (ڈی ای آئی سی) میں ڈاکٹروں نے سات ماہ کی ایک بچی کے دل میں پیدائش سے ہی موجود نہایت سنگین نقص اور بیماری کوسرجری کرکے ٹھیک کیا۔ یہ کامیاب آپریشن چار گھنٹے تک چلا۔

علی گڑھ ضلع کے جواں گاؤں کے سلمان نامی شخص کی بچی ماہرہ کو کچھ کھلانے پلانے پر اس کا رنگ نیلا پڑ جاتا تھا ۔ ماہرہ کے والدین نے اسے کئی ڈاکٹروں کو دکھایا مگر کوئی راحت نہیں ملی۔ علی گڑھ ضلع اسپتال میں دکھائے جانے پر وہاں سے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں واقع ڈسٹرکٹ اَرلی انٹرونشن سنٹر کے لئے ریفر کیا گیا۔ یہاں بچی کو سب سے پہلے ڈاکٹر شاد عبقری اور ڈاکٹر کامران (بچوں کے دل کے امراض کے ماہر) نے دیکھا۔ جانچ میں پتہ چلا کہ بچی کے دل میں پیدائش سے ہی نقص ہے۔ اس کے دل کے تین حصوں میں سے ایک حصہ کی نشو و نما نہیں ہوئی تھی اور دل میں بڑا سوراخ بھی تھا جس کی وجہ سے خالص اور ناقص خون آپس میں مل رہا تھا۔

بیماری کے علاج کے لئے اینجیوگرافی کی گئی، جس کے بعد بچی کی زندگی بچانے کے لئے سرجری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کارڈیوتھوریسک سرجن پروفیسر ایم ایچ بیگ، ڈاکٹر محمد اعظم حسین اور ڈاکٹر غضنفر خاں کی ٹیم نے یہ کامیاب آپریشن کیا۔ انستیھسیا ڈاکٹر شمیم گوہر اور ان کی ٹیم نے دیا۔ سرجری کے دوران نمی قائم رکھنے کا کام مسٹر صابر علی خاں اور انور رضوی نے کیا۔

چار گھنٹے تک چلنے والے اس آپریشن میں بچی کے سر، گردن اور ہاتھوں کے خون کو براہ راست پھیپھڑے کی طرف بھیجا گیا۔ آپریشن کے بعد بچی کو پیڈیاٹرک کارڈیک آئی سی یو میں رکھا گیا جہاں ڈاکٹر شہزاد اور ان کی ٹیم نے اس کی دیکھ بھال کی۔