میری سلطنت میں سب انجینئر تھے، اب جج بھی ہو گئی: سول جج فرحین کی امی

فرحین خان میرٹھ کی بیٹی ہیں جنہوں نے اتر پردیش کے جج کے امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے، خاندان کے تمام افراد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور امی سلطنت خان کو چھوڑ کر سبھی انجینئر ہیں۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

آس محمد کیف

میرٹھ کی فرحین خان آج ہی آندھرا پردیش کے راج مندری سے لوٹی ہیں وہ میرٹھ کے ’ایرا گارڈن‘ میں رہتی ہیں اور ان کے گھر آمد کی خبر سن کر مبارک باد پیش کرنے والوں کا تانتا لگا ہوا ہے۔ فرحین خان اتر پردیش پی سی ایس جے امتحان کے اسی مہینے آئے نتائج میں 402 واں مقام حاصل کر کے جج بن چکی ہیں۔

فرحین خان کا خاندان مقامی باشندگان کے لئے ہمیشہ سے مثال رہا ہے کیونکہ خاندان کے تمام افراد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ ان کے والد، شوہر، بھائی اور بہنیں سبھی انجینئر ہیں۔ان کے بڑے بھائی انڈین ایئر فورس میں سکواڈرن لیڈر ہیں، دوسرے بھائی نیوی میں لیفٹیننٹ ہیں۔ ایک بہن بے نظیر آسٹریلیا میں ملازمت کرتی ہیں جبکہ دوسری انڈیا میں ہی سافٹ انجینئر ہیں۔ فرحین اس خاندان کی جج بننے والی پہلی لڑکی ہیں۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

فرحین کا کہنا ہے، ’’میں تو صحافی بن کر لوگوں کی آواز اٹھانے کی خواہش مند تھی، یہ تو خدا کی مرضی ہے کہ اب مجھے سب کی آواز سننی پڑے گی۔ بارہویں کے بعد میں نے وکالت کی تعلیم حاصل کی۔ میں یہاں بھی سماج کے بیچ رہ کر لوگوں کی بھلائی کے لئے کام کروں گی۔‘‘

واضح رہے کہ یو پی پی سی ایس جے ایگزام (جج کا امتحان) کے حالیہ آئے نتائج میں 18 مسلم لڑکیوں نے کامیابی حاصل کی ہے، فرحین بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ اے ایم یو (علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) سے تعلیم حاصل کرنے والی فرحین ملازمت بھی کرتی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے جج کے امتحان کی تیاری ملازمت کے دوران کی اور اس کے لئے ایک دن کی بھی چھٹی نہیں کی۔ فرحین نے ہفتہ اور اتوار کے روز پورے دن جبکہ کام کے دنوں میں رات کے دو بجے تک پڑھائی کی۔

فرحین کہتی ہیں کہ ’’ایک امی کی ہی تعلیم جدا ہے کیوں کہ انہوں نے سماجیات (سوشیالوجی) سے ایم اے کیا ہے۔ میری بارہویں تک کی پڑھائی کے بعد میرے بھی انجینئرنگ میں جانے کے کامل امکانات تھے لیکن میں نے ایل ایل بی میں داخلہ لے لیا۔‘‘

فرحین نے کہا کہ ان پر ایک وقت میں صحافی بننے کا جنون حاوی تھا لیکن بعد میں کچھ ساتھی ایسے ملے جس کی وجہ سے وہ خدمت انصاف کی جانب راغب ہو گئیں۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

فرحین کے خاندان کو کبھی وسائل کی کمی نہیں رہی لیکن وہ وسائل سے محروم بچوں کے لئے بھی انسپیریشن بن گئی ہیں۔ فرحین کے مطابق مسلم لڑکیوں کی اچھی تعداد کی پی سی ایس جے میں کامیابی کے بعد تعلیم حاصل کرنے والی تمام لڑکیوں کو حوصلہ ملے گا۔

فرحین اپنے خاندان کی اس لحاظ سے شکر گزار ہیں کہ ان کے خاندان نے کیریر کے حوالہ سے ان پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا اور ان کی پسند کا احترام کیا۔

فرحین آندھرا پردیش کے راج منڈوری میں او این جی سی (آئل اینڈ نیچورل گیس کارپوریشن) میں بطور لیگل ایڈوائیزر (قانونی مشیر) ملازمت کر رہی تھیں۔ ان کے شوہر محمد نیاز الدین بھی یہیں انجینئر ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’فرحین دن میں نوکری کرتی تھی اور رات میں 2 بجے تک پڑھتی تھی۔ او این جی سی میں لیگل ایڈوائیزر کے لئے کام کافی ہوتا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’چھٹی کے دنوں میں تو وہ دن بھر پڑھائی کرتی تھی۔ یہ بات بالکل صحیح ہے کہ فرحین نے بہت زیادہ محنت کی ہے۔ ملازمت کے ساتھ پی سی ایس جے کا امتحان پاس کرنا آسان کام نہیں ہوتا۔‘‘

فرحین کے والد محمد مزمل خان نے اے ایم یو سے انجینئرنگ کی پڑھائی حاصل کی ہے۔ گھر میں اتنے انجینئر ہونے پر فرحین کی امی سلطنت خان نے کہا، ’’میری سلطنت میں انجینئروں کی بھرمار تھی، اب ایک جج صاحبہ بھی آ گئی ہیں۔‘‘

Published: 11 Aug 2019, 9:10 PM