تعلیم کو کئی سنگین چیلنجز کا سامنا، بی جے پی کر رہی ہے من مانے فیصلے: اکھیلیش

جس طرح بغیر تیاری کے نوٹوں کی منسوخ:، جی ایس ٹی کے فیصلے ہوئے تھے اسی طرح طلبا کے لئے آن لائن تعلیمی نظام کے نتائج اچھے نہیں آرہے ہیں۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھیلیش یادو نے اترپردیش میں تعلیمی نظام کو بدحال قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج تعلیمی دنیا کے سامنے کئی سنگین چیلنج ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت ان کے حل نکالنے کے بجائے من مانے فیصلے تھوپ رہی ہے۔

مسٹر یادو نے سنیچر کو یہاں جاری بیان میں کہا کہ آج تعلیمی دنیا کے سامنے کئی سنگین چیلنج ہیں۔ بی جے پی حکومت ان کے حل نکالنے کے بجائے من چاہے فیصلے تھوپ رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں تعلیمی نظام بدحال ہے۔ ایس پی حکومت نے جو تخلیقی ترقی کے کام کئے گئے تھے بی جے پی حکومت نے انہیں آگے بڑھانے کے بجائے ان میں رکاوٹ پیدا کرنے کا کام کیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ جس طرح بغیر تیاری کے نوٹوں کی منسوخ:، جی ایس ٹی کے فیصلے ہوئے تھے اسی طرح طلبا کے لئے آن لائن تعلیمی نظام کے نتائج اچھے نہیں آرہے ہیں۔ یہ غیر عملی اور غیردوراندیشانہ قدم ہے۔ ریاست میں مارچ سے ہی اسکول کالج کورونا کے بڑھتے قہر کی وجہ سے بند ہیں۔

اسکولی بچوں کو کووڈ۔ 19سے سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس لئے تعلیم کے اعلی حکام نے آن لائن تعلیم دینے کا طریقہ تلاش کیا۔ یہ نظام کمیپوٹر، لیپ ٹاپ یا اسمارٹ فون کے بغیر چلنے والا نہیں ہے۔ سماج وادی پارٹی حکومت نے مستقبل کے امکانات کے پیش نظر طلبا۔طالبات کو 18لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم تھے۔ اسمارٹ فون بھی دینے کا وعدہ تھا۔ بی جے پی حکومت کے آتے ہی اس اسکیم کو بند کردیا گیا۔ بی جے پی کے لوگ تب ان کا مذاق اڑاتے تھے آج وہی بنیادی ضرورت بن گئے ہیں۔

Published: 22 Aug 2020, 10:46 PM
next