کٹھ پتلیوں کے عالمی دن کا سفر: فن سے سیاسی طنز و مزاح تک

عصری منظر نامے میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو جمہوری دنیا کے ایک بڑے حلقے میں کٹھ پتلی وزیر اعظم کہا جاتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: دنیا بھر میں آج کٹھ پتی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ کٹھ پتلیاں بچوں اور بڑوں کے لئے یکساں طور پر تفریح کا مقبول ذریعہ ہیں۔ کٹھ پتلی کی تاریخ بیسویں صدی سے بھی پرانی ہے۔ امریکہ میں 1937 میں کٹھ پتلی تماشا کرنے والے ماہرین نے بڑے پیمانے پر کٹھ پتلی سے متعلق معلومات کو عام کیا جس کے بعد دنیا بھر میں کٹھ پتلی تماشہ مشہور ہوا۔

ہندوستان میں رام داس پادھیئے بولتی کٹھ پتلیاں سازی کی آج بھی ایک نمایاں پہچان ہیں۔ گزشتہ 40 برسوں میں انہوں نے ہند اور بیرون ہند 9000 سے زائد کٹھ پتلی پروگراموں کا مظاہرہ کیا۔ اس فن کو جب فن کی سند حاصل ہوگئی توتھیٹر، اسٹیج، ٹیلیوژن اورفلموں میں بھی اس فن کا مظاہرہ کیا جانے لگا۔ بچے اور بڑے سبھی اسے بے حد پسند کرتے ہیں۔

آج ہی کے دن یعنی 21 مارچ 2007 کو یونیسکو نے کٹھ پتلی کو ثقافت کا زندہ ورثہ قرار دیتے ہوئے دنیا بھر میں اس کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا تھا۔ آج کے دن اس سلسلے کے فیسٹیول اور مختلف پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔

تاریخ میں کئی کٹھ پتلی حکمراں بھی گزرے ہیں جن میں چین کے شاہ ایکسیان ہان، الجیریائی صدر عبد العزیز بوطفلکہ، شاہ برطانیہ و آئرلینڈ ایڈورڈ ششم شامل بتائے جاتے ہیں۔ عصری منظر نامے میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو جمہوری دنیا کے ایک بڑے حلقے میں کٹھ پتلی وزیر اعظم کہا جاتا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آج کٹھ پتلی تماشے کے عالمی دن پر وزیرِاعظم عمران خان کو طنزیہ مبارکباد بھی پیش کی ہے۔ روزنامہ ڈان کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم کو یہ مبارکباد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے دی ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے دوران سابق سوویت یونین اور جرمنی نے جن ایک سے زیادہ ملکوں پر قبضہ کر لیا تھا انہیں بھی کٹھ پتلی اسٹیٹس کہا جاتا تھا۔ ایسے ہی کچھ ممالک اٹلی کے قبضے میں بھی تھے۔