جاپان میں دو عدد خربوزے27 لاکھ یین کے!

شمالی جاپانی قصبے یوباری میں دو عدد سبزی مائل خربوزے کی قیمت ملکی کرنسی میں ستائیس لاکھ ین (20260 یورو) ادا کی گئی۔ یہ قیمت ساپورو کی ہول سیل مارکیٹ میں پھلوں کی نیلامی کے دوران ادا کی گئی۔

جاپانی لوگوں کا قیمتی پھلوں کی جانب مخصوص جھکاؤ؟
جاپانی لوگوں کا قیمتی پھلوں کی جانب مخصوص جھکاؤ؟
user

Dw

جاپان کے شمالی علاقے کا قصبہ یوباری سارے ملک میں مخصوص شہرت رکھتا ہے۔ اس کی وجہ وہاں کے مقامی خربوزے میں۔ موسم گرما کی آمد پر یوباری کے خوشبودار اور لذیذ خربوزے خریدنا ایک قدیمی روایت ہے اور اس کا کھانا تسکینِ لذت خیال کیا جاتا ہے۔

یوباری کے خربوزوں پر ایک مقامی کمپنی ہوکائیڈو پروڈکس کا مکمل کنٹرول ہے۔ یہی کمپنی انہیں خرید کر ملک میں مارکیٹ کرتی ہے۔ ہوکائیڈو کمپنی جاپان میں بچوں کی خوراک بنانے میں بھی شہرت رکھتی ہے۔

یوباری کے خربوزے

اس قصبے کے خربوزوں کی نیلامی کی تقریب میں شریک کرنے والے افراد سے خطاب کرتے ہوئے ہوکائیڈو پراڈکٹس کے صدر نے بولی لگانے والوں کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں بتایا کہ خربوزے جلد ہی فریزر میں رکھ دیے جائیں گے اور زیادہ بولی لگانے والے دس افراد میں ان کو برابر برابر تقسیم کر دیا جائے گا۔ یہ بولی ابتدائی پکنے والے خربوزوں کے لیے ہوتی ہے۔

جاپانی لوگ ان کے پکنے کا انتطار کرتے ہیں اور بازار میں آتے ہی یہ فوری طور پر بِک جاتے ہیں۔ اس خربوزے کو 'یوباری کنگ‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ ان کو ایک محفوظ گرین ہاؤس میں اگایا جاتا ہے۔ عمومی طور پر ایک ڈبے میں چھ خربوزے رکھے جاتے ہیں۔ سن 2019 میں ابتدائی مارکیٹ کیے جانے والے یوباری کنگ خربوزوں کی جوڑی کی قیمت سینتیس ہزار پانچ سو ستائیس یورو لگی تھی۔

ایک قیمتی تحفہ

جاپانی معاشرت میں یوباری کنگ خربوزہ دوست احباب اور رشتہ داروں کو تحفے کے طور پر دینا بھی تکریم کا باعث ہوتا ہے۔ اس کو ایک انتہائی شاندار تحفہ خیال کیا جاتا ہے۔ جاپان کی کوبے یونیورسٹی کی پروفیسر مایا ہاماڈا کا کہنا ہے کہ جب وہ چھوٹی تھی تو ان کے والد کجو کاروبار کے لیے مختلف شہروں میں جانا ہوتا تھا تو وہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے لیے تحفے لایا کرتے تھے، جن میں شراب اور پھل ہوتے تھے ہاماڈا کے مطابق پھلوں میں یہ خربوزے بھی ہوتے تھے۔ بچپن میں مایا ہاماڈا کو ایک علاقے ہوکایاما کے آڑو بہت مرغوب تھے۔

تحفے کی اہمیت

جاپانی معاشرے میں تحفے دینا ایک پسندیدہ فعل خیال کیا جاتا ہے۔ مایا ہاماڈا کا کہنا ہے کہ تحفے کا قیمتی ہونا حقیقت میں تعلقات کی نوعیت پر ہوتا ہے کہ دینے والا کس کو کتنی وقعت اور اہمیت دیتا ہے۔ جاپانی کاروباری حلقوں میں تحفے دینا ایک معمول کا عمل ہے۔

ٹوکیو یونیورسٹی کے پروفیسر کیون شارٹ کا کہنا ہے کہ جاپان میں تحفے تحائف دینا صدیوں کی روایت ہے اور یہ ایڈو دور حکومت میں شروع ہوا تھا اور اب یہ جاپانی ثقافت کا ایک لازمی جزو بن چکا ہے۔ ایڈو دور حکومت سن 1600 سے سن 1868 کے درمیان تھا۔

کیون شارٹ کے مطابق ابتدا میں جاپانی لوگ ایک دوسرے کو خود مچھلی پکڑ کر تحفہ کیا کرتے تھے لیکن اب قیمتی پھل دینا رواج پکڑ چکا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب بھی جاپان میں موسمی پھل یا کھانے پینے کی اشیا بطور تحفہ دی جاتی ہیں۔

قیمتی پھل

پروفیسر کیون شارٹ کے مطابق جاپانی معاشرے میں پھل تحفے میں دینے کو بہت زیادہ وقعت حاصل ہو چکی ہے اور اس کو عزت کے ساتھ ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کا ایک عمل خیال کیا جاتا ہے۔ جاپان کے سبھی علاقے کسی نا کسی پھل کی وجہ سے مشہور ہیں اور لوگ ان کی بھاری قیمت ادا کرنے میں پچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔

اکثر مشہور علاقوں کے مشہور پھلوں کی نیلامی کی جاتی ہے اور اسے خریدنے والے نیلامی میں زیادہ قیمت ادا کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ جاپانی علاقے کگاوا کے ایک آم کی قیمت اسی ڈالر سے ایک سو بائیس ڈالر تک ہو سکتی ہے اس آم کو عام بول چال میں 'سورج کا انڈا‘ کہا جاتا ہے۔ ایک اور علاقے ایشیکاوا کے رومن انگور کی سن 2016 میں فی کلو قیمت آٹھ ہزار ڈالر لگائی گئی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔