ادب کا نوبل انعام تنزانیہ کے ادیب عبدالرزاق گورنا کے نام

ادب کا نوبل انعام پیدائشی طور پر تنزانیہ سے تعلق رکھنے والے اور برطانیہ میں مقیم ناول نگار عبدالرزاق گورنا کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وہ گزشتہ چودہ برسوں میں اس اعزاز کے لیے پہلے افریقی ادیب ہیں۔

ادب کا نوبل انعام تنزانیہ کے ادیب عبدالرزاق گورنا کے نام
ادب کا نوبل انعام تنزانیہ کے ادیب عبدالرزاق گورنا کے نام
user

Dw

عبدالرزاق گورنا کو 2021ء کا ادب کا نوبل انعام دینے کا اعلان کل سات اکتوبر کو سٹاک ہوم میں سویڈش اکیڈمی کی طرف سے کیا گیا۔ جیوری کے فیصلے کے مطابق اس وقت 72 سالہ گورنا کی ایک ناول نگار کے طور پر خاص بات یہ ہے کہ ان کی تصانیف میں بڑے ہمدردانہ انداز میں اور کسی بھی مصلحت پسندی سے کام لیے بغیر نوآبادیاتی نظام کے اثرات اور ایک مہاجر کی قسمت انتہائی متاثر کن انداز میں یکجا ہو جاتے ہیں۔

گورنا 2007ء میں زمبابوے کی سفید فام مصنفہ ڈورس لیسنگ کو ملنے والے نوبل انعام کے بعد سے ایسے پہلے افریقی ادیب ہیں، جنہیں یہ انعام دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ 1986ء میں نائجیرین وولے سوئنکا کے دیے جانے والے نوبل پرائز کے بعد سے زیریں صحارا کے افریقہ سے تعلق رکھنے والے ایسے دوسرے افریقی نژاد مصنف ہیں، جنہیں اس انعام کا حقدار ٹھہرایا گیا ہے۔


سب سے مشہور ناول 'جنت‘

اس تنزانین نژاد ادیب کے ناولوں میں سے زیادہ مشہور جنت نامی وہ ناول ہے، جس کی کہانی پہلی عالمی جنگ کے دوران نوآبادیاتی مشرقی افریقہ کی کہانی ہے۔ ان کے اس ناول کو بعد ازاں فکشن کے بکر پرائز کے لیے بھی شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔

عبدالرزاق گورنا ایک مہاجر کے طور پر 1960 کی دہائی میں افریقہ سے اس وقت ہجرت کر گئے تھے، جب زنجبار میں عرب نسل کے شہریوں کا تعاقب شروع کر دیا گیا تھا۔ گورنا زنجبار میں اس دور میں بڑے ہوئے تھے، جب برطانوی نوآبادیاتی نظام کے خاتمے اور پرامن انداز میں حاصل کردہ آزادی کے ساتھ وہاں انقلابی تبدیلی آ گئی تھی۔


تنزانیہ میں اپنے آبائی علاقے سے ترک وطن کے بعد عبدالرزاق گورنا 1984ء میں صرف ایک بار اس وقت واپس زنجبار جا سکے تھے، جب انہیں اپنے والد کے انتقال سے کچھ ہی عرصہ قبل ان سے ملاقات کی اجازت ملی تھی۔

مضبوط امیدوار کن کو سمجھا گیا؟

ادب کے نوبل انعام کا حقدرار کس شاعر، ادیب، ادیبہ یا ایک سے زائد ادبی شخصیات کو ٹھہرایا جائے گا، عام طور پر اس بات کا قبل از وقت کوئی ٹھوس اندازہ لگانا بہت مشکل سمجھا جاتا ہے۔ پھر بھی برٹش بک میکرز کے مطابق آج کے اعلان سے پہلے جن ادبی شخصیات کو سال رواں کے لیے دنیا کا یہ معتبر ترین ادبی انعام دیے جانے کا امکان کافی زیادہ تھا، ان میں کینیا سے اینگوگی وا تھیئونگو، فرانس سے اینی اَیرنو، جاپان سے ہاروکی موراکامی، کینیڈا سے مارگریٹ ایٹ وُڈ اور اینٹی گوئن امریکی رائٹر جمیکا کِن کیڈ کے نام نمایاں تھے۔


گزشتہ دو برسوں کی انعام یافتہ ادبی شخصیات

گزشتہ برس یہ انعام امریکی شاعرہ لوئیزے گلُک کو دیا گیا تھا، جن کے بارے میں اس انعام کی جیوری کا کہنا تھا کہ گلُک کی ادبی تخلیقات کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی شاعری کا اپنا ہی ایک ایسا منفرد لہجہ ہے، جس میں کسی بھی انسان کا انفرادی وجود عالمگیر حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔

لوئیزے گلُک سے پہلے 2019ء میں نوبل لٹریچر پرائز آسٹرین ادیب پیٹر ہانڈکے کو دیا گیا تھا۔ تب اس فیصلے کے خلاف چند ممالک میں اس لیے مظاہرے بھی کیے گئے تھے کہ ہانڈکے نے 1990 کی دہائی میں بلقان کی جنگوں کے دوران سربوں کی کھل کر حمایت کی تھی۔


تقسیم انعامات دسمبر میں

اس سال بھی نوبل ادب انعام کی مستحق شخصیت کو نوبل گولڈ میڈل کے علاوہ 10 ملین سویڈش کرونا کی رقم بھی دی جائے گی، جو تقریباﹰ 1.14 ملین امریکی ڈالر کے برابر بنتی ہے۔ اگر کسی شعبے میں نوبل انعام پانے والی شخصیات ایک سے زائد ہوں، تو انعام کی رقم ان میں تقسیم کر دی جاتی ہے۔

نوبل انعامات ہر سال چھ مختلف شعبوں میں دیے جاتے ہیں۔ ان کے حق دار افراد کے ناموں کا اعلان روایتی طور پر اکتوبر کے اوائل میں کیا جاتا ہے، جس کے بعد یہ اعزازات ہر سال دسمبر میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔


سال رواں کے باقی ماندہ دو انعامات

امسالہ نوبل انعامات میں سے رواں ہفتے پیر کے روز طب، منگل کے روز فزکس اور بدھ کے روز کیمسٹری کے انعام کے حقدار سائنس دانوں کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ آج ادب کے نوبل انعام کے لیے جیوری کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد کل جمعے کو امن کے نوبل انعام کی حقدار شخصیت یا شخصیات کے ناموں کا اعلان بھی ہو جائے گا۔

ان انعامات کے سلسلے کا رواں برس کا آخری اعلان آئندہ پیر کو کیا جائے گا، جب اس سال کا معیشت کا نوبل انعام جیتنے والے ماہر یا ماہرین کے نام بھی سامنے آ جائیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔