دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو مسحور کرنے والا چلا گیا

پاکستان میں چارعشروں تک ٹی وی ناظرین کے دلوں پر راج کرنے والے معروف ٹی وی میزبان طارق عزیز بدھ کے روزلاہور میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر چوراسی برس تھی اور وہ پچھلے کچھ عرصے سے علیل تھے۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

ڈی. ڈبلیو

ان کی وفات کی خبر پاکستان میں اور پاکستان سے باہر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، یہ خبر سنتے ہی ، لاہور میں گارڈن ٹاؤن کے علاقے میں واقع ان کے گھر پر شوبز اداکاروں ، سیاسی کارکنوں ، ٹی وی فنکاروں ، ادبی اور سماجی شخصیات اور طارق عزیز کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی۔ پاکستان بھر میں طارق عزیز کی موت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

طارق عزیزنے اپنے فنی سفر کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا۔ انہیں پاکستان ٹیلی ویژن کے پہلے اناؤنسر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ طارق عزیز نے ریڈیو اور ٹی وی کے کئی پروگراموں میں کام کرنے کے علاوہ فلموں میں بھی کام کیا ۔ ان کی فلموں میں انسانیت، سالگرہ، قسم اس وقت کی، کٹاری، چراغ کہاں روشنی کہاں اورہار گیا انسان جیسی فلمیں بھی شامل ہیں۔ انیس سو چھتیس میں بھارتی شہر جالندھر میں پیدا ہونے والے طارق عزیز پاکستان کی قومی اسمبلی کے ممبر بھی رہے۔

طارق عزیز کو اصل شہرت پاکستان ٹیلی ویژن پر کئی عشروں پہلے شروع ہونے والے پروگرام 'نیلام گھر‘ سے ملی۔ چار دہائیوں تک چلنے والے اس پروگرام کو بعد ازاں طارق عزیز شو اور پھر بزم طارق عزیز کا نام دیا گیا ۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی طرف سے 1992 میں انہیں تمغہ حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا تھا۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے علاوہ ملک کی سیاسی سماجی اور شو بز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی بہت سی شخصیات نے طارق عزیز کی وفات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ خوش کلام، خوش گفتار اور بے بہا خوبیوں کے مالک طارق عزیز کو شاعری سے بھی شغف تھا ۔ ان کے کئی اشعار زبان زد عام بھی ہوئے۔ طارق عزیز کی پنجابی شاعری کا مجموعہ کلام 'ہمزاد دا دکھ‘ کے نام سے شائع ہوا تھا۔

ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے معروف اداکار توقیر ناصر نے بتایا کہ طارق عزیز اپنی ذات میں ایک یونیورسٹی یا انسٹی ٹیوشن تھے، وہ شاعر بھی تھے، ادیب بھی تھے، انہوں نے سیاست بھی کی، کمپئرنگ بھی کرتے رہے، ریڈیو اور فلم میں بھی کام کیا اس طرح وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ وہ داتی مفادات سے اوپر اٹھ کر ایک کمٹمنٹ کے ساتھ کام کرنے والی شخصیت تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں طارق عزیز کی طرح کے ہیروز کی ان کی زندگی میں ہی قدر کرنے کی روایت ڈالنی ہو گی۔ ان کے خیال میں طارق عزیز جیسی شخصیات کے کنٹریبیوشن سے نئی نسل کو آ گاہ کرنا چاہیئے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ پی ٹی وی والی سڑک کو طارق عزیز کے نام سے موسوم کر دیا جانا چاہیئے۔

پاکستان کے ایک اور اداکار سہیل احمد جو عزیزی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ طارق عزیز ایک غیر معمولی صلاحیتیں رکھنے والی شخصیت تھے انہوں نے دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو پاکستان کی ثقافت اور محبت سے روشناس کروایا۔ وہ پاکستان میں ٹی وی انڈسٹری کے بانیوں میں سے تھے۔ پاکستان اور ہندوستان میں بہت سارے شوز نے طارق عزیز کے سٹائل اور کام کی نقل کی۔ 'جو کام ہم آج کر رہے ہیں وہ یہ کام بڑی مہارت اور خوبصورتی سے برسوں پہلے کر چکے تھے۔

سہیل احمد نے بتایا کہ ایک مرتبہ ٹی وی ایوارڈز کی ایک تقریب کے دوران میں اور معین اختر بیک اسٹیج موجود تھے اور طارق عزیز اسٹیج پر بول رہے تھے۔ معین اختر نے مجھے کہا دیکھو سہیل اس بندے کی آواز کیسی ہے، لہجہ کیسا ہے اور اس کے ہاں الفاظ کی ادائیگی کیسی ہے۔ وہ بھی طارق عزیز کے فین تھے۔ سہیل احمد کہتے ہیں کہ طارق عزیز حقیقتا ایک بڑے آدمی تھے ہمیں ان جیسے لوگوں کی قدر کرنی چاہیئے۔