فلسطینیوں نے اسرائیلی رویہ کی وجہ سے مس یونیورس مقابلہ کی بائیکاٹ کی اپیل کی تھی

اکیس برس کے بعد مس یونیورس کا تاج ایک بار پھر ایک بھارتی کے سر پر سج گیا۔ ہرناز سندھو سے قبل سن 1994 میں اداکارہ سشمتا سین اور سن 2000 میں لارا دتہّ نے مس یونیورس کا خطاب جیتا تھا۔

بھارت کی ہرناز سندھو نے مس یونیورس کا خطاب جیت لیا
بھارت کی ہرناز سندھو نے مس یونیورس کا خطاب جیت لیا
user

Dw

سیاسی تنازعات اور کورونا وائرس کی وبا کے درمیان اسرائیلی شہر ایلات میں اتوار کے روز منعقدہ 70واں مس یونیورس مقابلہ بھارت کی ہرناز سندھو نے جیت لیا۔ بھارتی صوبے پنجاب کی رہنے والی اکیس سالہ ہرناز نے پیراگوے کی نادیہ فریرا اور جنوبی افریقہ کی للیلا مسوانے کو شکست دے کر مس یونیورس کے خطاب پر قبضہ کیا۔ سن 2020 کی مس یونیورس میکسیکو کی آندریا میزا نے ہرنازسندھو کو نئی مس یونیورس کا تاج پہنایا۔

کن اسباب سے مقابلہ سرخیوں میں

مس یونیورس کا یہ مقابلہ دیگر کئی اسباب کی وجہ سے بھی سرخیوں میں تھا۔ فلسطینی گروپوں نے فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کے سلوک کے خلاف بطور احتجاج شرکاء سے اس مقابلے میں حصہ نہ لینے کی اپیل کی تھی۔


فلسطینی کاز کی حمایت کرنے والے مسلم اکثریتی ملک ملائشیا نے مقابلے میں اپنا کوئی نمائندہ نہیں بھیجا۔ اس نے تاہم اس کے لیے کووڈ انیس کی عالمی صورت حال کا حوالہ دیا۔

جنوبی افریقہ بھی فلسطینیوں کا زبردست حامی ہے۔ اس نے ملک کی نمائندگی کرنے والی خاتون کو سرکاری حمایت دینے سے انکار کردیا۔


ہرناز سندھو کون ہیں؟

اکیس سالہ ہرناز سترہ برس کی عمر سے ہی حسن کے مقابلوں میں حصہ لے رہی ہیں۔ اس سے قبل وہ مس دیوا2021 کا خطاب جیت چکی ہیں۔ سن 2019 میں انہوں نے فیمینا مس انڈیا۔ پنجاب کا خطاب جیتا تھا اور پھر سن 2019 میں ہی فیمینا مس انڈیا مقابلے میں چوٹی کے بارہ امیدواروں میں اپنی جگہ بنائی تھی۔

ہرناز دو پنجابی فلموں میں بھی کام کرچکی ہیں۔

مس یونیورس خطاب جیتنے کے بعد ہرناز نے کہا، "میں بھگوان، اپنے خاندان اور مس انڈیا تنظیم کی ممنون ہوں جنہوں نے اس پورے سفر میں میری رہنمائی اور میری مدد کی۔" انہوں نے مزید کہا،" ان سب کے لیے ڈھیر سارا پیار جنہوں نے مجھے تاج دلانے کے لیے دعائیں کیں۔ اکیس برس بعد بھارت کے لیے یہ قابل فخر تاج لے جانا سب سے قابل فخر لمحہ ہے۔"


ہرناز سے کیا سوال پوچھے گئے؟

آخری راونڈ کے دوران تینوں امیدواروں سے پوچھا گیا تھا، "آج کے دور میں دباو کا سامنا کرنے والی نوجوان خواتین کو وہ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا مشورہ دیں گی؟"

ہرناز نے نوجوان خواتین کو مشورہ دیا،" باہر نکلیئے۔ اپنے لیے آواز اٹھائیے کیونکہ آپ ہی اپنی زندگی کے رہنما ہیں۔ آپ ہی اپنی آواز ہیں۔ میں خود پر یقین رکھتی ہوں اس لیے آج یہاں کھڑی ہوں۔"


اس جواب نے انہیں ٹاپ تین امیدواروں میں سرفہرست بنا دیا۔ اس سے قبل ٹاپ پانچ کے راونڈ میں ان سے ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تھا۔

ان سے پوچھا گیا تھا،"بیشتر لوگ سوچتے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی محض دھوکہ ہے۔ایسے لوگوں کو سمجھانے کے لیے آپ کیا کریں گی؟"


ہرناز سندھو کا جواب تھا،" میرا دل ٹوٹ جاتا ہے جب میں فطرت کو دیکھتی ہوں کہ وہ کتنی پریشانیوں سے گزر رہی ہے اور یہ سب کچھ ہمارے غیر ذمہ دارانہ سلوک کے سبب ہے۔ میں یہ پوری طرح یقین رکھتی ہوں کہ یہ وقت کم بات کرنے اور زیادہ کام کرنے کا ہے کیونکہ ہمارا ہر عمل فطرت کو یا تو بچا سکتا ہے یا اسے تباہ کرسکتا ہے۔ روک تھام اور حفاظت کرنا، پشیمانی اور نقصان کا ازالہ کرنے سے بہتر ہے اور دوستو میں آج اسی کے لیے آپ کو آمادہ کرنے کی کوشش کررہی ہوں۔" امریکی ٹیلی ویزن کی معروف شخصیت اسٹیو ہاروے نے پروگرام کی میزبانی کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔