MosquesofIndia#: ایسی تحریک جس نے ٹوئٹر پر ہندوستانی مساجد کی دھوم مچا دی

بابری مسجد پر سپریم کورٹ کا فیصلہ صادر ہونے کے بعد کچھ لوگ کافی مایوس ہوئے کیونکہ اب بابری مسجد صرف ان کی یادوں میں رہ جائے گی۔ لیکن صحافی ارینا اکبر نے اپنی اس مایوسی کو ٹوئٹر پر تحریک کی شکل دے دی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

تنویر احمد

بابری مسجد اب تاریخ کا حصہ بن گیا ہے۔ لوگ اب اسے اپنی یادوں میں سنجوئے ہوئے ہیں۔ لیکن اس درمیان مسجدوں کے تعلق سے ہند-اسلامی ثقافت کی تشہیر کا ایک بہت خوبصورت سلسلہ سوشل میڈیا پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پورے ہندوستان سے لوگ خوبصورت اور پرکشش مساجد کی تصویریں تو شیئر کر ہی رہے ہیں، کئی ایسی مسجدیں بھی اس سلسلہ کا حصہ بن گئی ہیں جن سے لوگ واقف نہیں لیکن تاریخ میں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ قابل ذکر یہ بھی ہے کہ صرف مسجدوں کی تصویریں لوگ شیئر نہیں کر رہے ہیں بلکہ اس کی خوبیاں اور مختصر تعریف بھی پیش کر رہے ہیں۔

یہ دلچسپ سلسلہ گزشتہ جمعہ یعنی 15 نومبر کو شروع ہوا تھا جو اب کافی دراز ہو چکا ہے۔ ’انڈین ایکسپریس‘ کی سابق صحافی ارینا اکبر نے اس سلسلے کی شروعات کی تھی اور کچھ مساجد کی تصویر اور مختصر تعریف دینے کے بعد لوگوں سے یہ گزارش کی تھی کہ وہ اپنے شہروں اور دیہاتوں میں موجود مسجدوں کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے MosquesofIndia# ہیش ٹیگ کو ٹرینڈ کریں۔ ارینا اکبر کی اس شروعات اور گزارش کا یہ نتیجہ نکلا کہ کرناٹک، گوا، کشمیر، مہاراشٹر، بہار سمیت ہندوستان کی تقریباً سبھی ریاستوں کی ایسی ایسی مسجدیں ٹوئٹر پر جمع ہو گئیں جواپنے اندر خوشنما پہلو سمیٹے ہوئی ہیں۔ کچھ مسجدیں دیکھنے میں انتہائی پرکشش اور دلچسپ ہیں تو کچھ کی تاریخی اہمیت کی حامل ہیں، کچھ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بہت خاص ہیں تو کچھ مسجدوں کی تصویریں آنکھوں کو خیرہ بھی کر دیتی ہیں۔

ارینا اکبر نے اپنے ایک ٹوئٹ میں بابری مسجد کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’ایک وقت کی بات ہے جب بابری مسجد تھی۔ اس کی تعمیر 1528 میں ہوئی تھی، 1949 میں اس کو ناپاک کیا گیا اور 1992 میں اسے منہدم کر دیا گیا، لیکن یہ ہمیشہ ہماری یادوں میں زندہ رہے گی۔‘‘ پھر جب MosquesofIndia# وائرل ہو گیا تو انھوں نے ایک ٹوئٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’’ہم MosquesofIndia# کو کیوں ٹرینڈ کر رہے ہیں؟ کیونکہ بابری مسجد منہدم کر دی گئی، لیکن پورے ہندوستان میں پھیلی ہند-اسلامی تہذیبی وراثت کو فراموش نہیں کر سکتے۔ ہم اپنے فن تعمیر اور اپنی وراثت سے محبت کرتے ہیں اور اس کا جشن مناتے ہیں۔‘‘

مشہور و معروف مورخ رعنا صفوی نے ارینا اکبر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے، ایک-دو نہیں بلکہ بے شمار مساجد کی تصویر اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے شیئر کر دیں۔ چونکہ سیر و سیاحت کرنا اور تاریخی مقامات پر تحقیق کرنا رعنا صفوی کا مشغلہ ہے، اس لیے انھوں نے مشہور مساجد، اس کے مقام اور تعمیر کرنے والے کے تعلق سے جانکاری فراہم کی۔ رعنا صفوی نے آگرہ جامع مسجد (تعمیر بذریعہ شہزادی جہاں آرہ بیگم)، برہان پور جامع مسجد (جس کی دیواروں پر عربی اور سنسکرت کا کتبہ ہے)، تاج المسجد (بھوپال)، سنہری مسجد (دہلی)، زینت المساجد (شاہ جہاں آباد)، ناخدا مسجد (کولکاتا) سمیت کئی دیگر ایسی مسجدوں کی تصویریں شیئر کیں جو اپنے اندر دلچسپ کہانیاں سمیٹے ہوئی ہیں۔

ٹوئٹر پر MosquesofIndia# کا استعمال کرتے ہوئے کئی مشہور و معروف ہستیوں نے مسجدوں کی تصویریں ڈالی ہیں لیکن کچھ نام ایسے ہیں جن کا تذکرہ کیا جانا ضروری ہے۔ راہل ایشور ٹوئٹر ہینڈل کے نام سے بھی ایک مسجد کی تصویر شیئر کی گئی ہے۔ تصویر چیرامن پیرومل مسجد کی ہے جو کہ کیرالہ میں موجود ہے۔اس مسجد کے تعلق سے راہل ایشور نے بتایا ہے کہ مسجد ہندوستان کی سب سے قدیم مسجد ہے اور دنیا کی قدیم مساجد میں سے بھی ایک ہے۔ اس مسجد کے بارے میں اسلامی مورخین کہتے ہیں کہ چیرامن جامع مسجد جو کہ کیرالہ کے کوڈنگلور میں واقع ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی تعمیر ہوئی تھی اور یہ ہندوستان کی پہلی مسجد ہے۔ قابل غور یہ ہے کہ جس راہل ایشور ٹوئٹر ہینڈل سے اس مسجد کی تصویر شیئر ہوئی ہے انھوں نے خود کو ’ہندو ایکٹیوسٹ‘ بتایا ہے اور مسجد کے ساتھ ان کی بھی تصویر ہے۔ گویا کہ ’ہندوستان کی مساجد‘ پوسٹ کرنے کا جو سلسلہ اس وقت چل رہا ہے، اس کی کشش سے وہ بھی خود کو دور نہیں رکھ سکے۔

ٹوئٹر پر ایسی مسجدوں کی تصویریں اور مختصر تفصیل بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں جہاں نماز ادا کرنے کے ساتھ ساتھ کئی دوسری طرح کے سماجی کام بھی ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں عبداللہ نامی ٹوئٹر ہینڈل سے کیا گیا پوسٹ کافی اہم ہے۔ انھوں نے اورنگ آباد کی جمیل بیگ مسجد کی تصویر شیئر کی ہے اور اس کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’اس مسجد کے قریب گھاٹی سول اسپتال موجود ہے اور مسجد انتظامیہ اسپتال کے مریضوں و ان کے ساتھیوں کے لیے مفت کھانے کا انتظام کرتی ہے۔‘‘

معروف سماجی کارکن ظفر سریش والا، مشہور صحافی ظفر عباس، آصف ریاض، رفیق احمد خان اور وقار خان جیسی متعدد ہستیوں نے بھی اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے اہم مساجد کی تصویریں شیئر کی ہیں، لیکن خاص بات یہ ہے کہ غیر اہم اور غیر معروف لوگوں نے بھی کم معلوماتی پوسٹ نہیں کیے۔ ایسا لگتا ہے کہ محض چار دنوں میں ہندوستان میں موجود مساجد کا ایک بڑا حصہ سوشل میڈیا پر جمع ہو گیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اریبا اکبر کے ذریعہ شروع کردہ ایک تحریک نے ایسے کئی لوگوں کے لیے آسانی فراہم کر دیں جو مساجد پر تحقیق کر رہے ہوں گے یا تحقیق کا ارادہ کیا ہوگا۔

Published: 19 Nov 2019, 3:11 PM