کوک اسٹوڈیو کا گانا ’تو جھوم‘ کاپی کیا گیا؟

جیسے ہی نرملا کی آواز سوشل میڈیا تک پہنچی موسیقی کے مداحوں نے نرملا کے حق میں آواز اٹھانا شروع کر دی۔ لوگوں نے کوک اسٹوڈیو سے مطالبہ کیا کہ وہ نرملا کو اس کا جائز حق دیں۔

کوک اسٹوڈیو کا گانا ’تو جھوم‘ کاپی کیا گیا؟
کوک اسٹوڈیو کا گانا ’تو جھوم‘ کاپی کیا گیا؟
user

Dw

حال ہی میں کوک اسٹوڈیو کے گانے 'تو جھوم‘ سے متعلق عمر کوٹ کی نرملا مگھانی نے دعوی کیا کہ اس گانے کی دھن انہوں نے پچھلے سال جون میں کوک اسٹوڈیو کے پروڈیوسر ذوالفقار جبار خان کو واٹس ایپ پر ارسال کی تھی۔ تاہم ذوالفقار جبار خان نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے وہ وائس نوٹ سنا ہی نہیں تھا۔

ایک طرف کچھ موسیقاروں کا کہنا ہے کہ راگ کسی کی ملکیت نہیں ہوتے تو دوسری طرف کچھ موسیقار اس کی مذمت کرتے دکھائی دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ نرملا کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔


عالمی شہرت یافتہ کوک اسٹوڈیو نے چودھویں سیزن کا آغاز ‘تو جھوم‘ سونگ سے کیا، جس نے پورے ملک کو جھومنے پر مجبور کردیا۔ یہ گانا عابدہ پروین اور نصیبو لعل نے گایا، جس کی موسیقی ذوالفقار جبار خان نے ترتیب دی۔

میوزک فینز نے اسے خوب سراہا اور پاکستان کی مایہ ناز شخصیات بھی اس گانے سے لطف اندوز ہوتی ہوئی دکھائی دیں۔ تاہم اس گانے کے سرور میں کچھ خلل اس وقت پڑا جب عمر کوٹ کی نرملا مگھانی نے یہ دعوی کیا کہ اس گانے کی دھن ان سے اجازت لیے بنا کوک اسٹوڈیو میں استعمال کی گئی ہے۔


نرملا کا کہنا تھا کہ انہوں نے پچھلے سال جون میں ایک نمونہ ذوالفقار جبار خان، جو کوک اسٹوڈیو کے پروڈیوسر ہیں، کو واٹس ایپ پر ارسال کیا تھا جس کا انہوں نے اْس وقت کوئی جواب نہیں دیا تھا۔

بے بنیاد الزامات کی تردید

ذوالفقار جبار خان نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے وہ نمونہ سنا ہی نہیں تھا۔ ذوالفقار نے 16 مئی 2021 کا ایک پیغام ثبوت کے طور پر دکھایا جہاں وہ کوک اسٹوڈیو کے ایسوسی ایٹ پروڈیوسر عبداللہ صدیقی کو اس گانے کی دھن سنا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ نرملا کے مطابق انہوں نے موسیقی کا وہ نمونہ جون 2021 میں ذوالفقار کو ارسال کیا تھا۔


ذوالفقار کا اپنے ایک پیغام میں کہنا تھا کہ وہ کوک اسٹوڈیو کے پلیٹ فارم کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ اگر نرملا یہ سمجھتی ہیں کہ وہ پورا گانا میں نے ان کے وائس نوٹ سے کاپی کیا ہے تو یہ درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ درحقیقت میں پورے ملک سے ایسے فنکاروں کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ واقعی پاکستانی موسیقی کا حال اور مستقبل ہیں۔

راگ کسی کی ملکیت نہیں

ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے کوک اسٹوڈیو کے سابق پروڈیوسر اور وائٹل سائنز کے رکن روحیل حیات کا کہنا تھا کہ "مغرب میں گانے اسکیل کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں، یا تو وہ میجر اسکیل ہو گا یا مائنر، جس میں لاتعداد ممکنات ہو سکتی ہیں۔ لیکن مشرقی طریقہ کار میں راگ ہوتے ہیں اور اس میں مختلف چالیں ہوتی ہیں۔ اگر دو موسیقار ایک ہی چال کا استعمال کرتے ہوئے گانا بناتے ہیں تو آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کسی کی ملکیت ہے۔ اس لیے کہ چال راگ کی ہے اور راگ کسی کی ملکیت نہیں ہو سکتا۔"


انہوں نے مزید کہا کہ فوک موسیقی میں 'دوڑھے‘ ہوتے ہیں جو سالوں پرانے ہیں اور ان میں آپ کوئی بھی بول ڈال سکتے ہیں۔ روحیل حیات کا کہنا تھا کہ نئے فنکاروں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اپنے ایسے فنی نمونے بغیر اجازت کسی کو بھی ارسال نہ کریں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ "اگرچہ میں اب کوک سٹوڈیو کے ساتھ منسلک نہیں لیکن اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو نرملا ایک سریلی گلوکارہ ہیں اور ان کے فن کو آگے آنا چاہیے، اس میں کوئی قباحت نہیں۔"

گانے کی اسطائی میں مشابہت

نرملا پچھلے کچھ سالوں سے اپنے فن کے اظہار کے لیے کسی اچھے موقع کی تلاش میں تھی اور اس دوران انہوں نے ملک کے بہت سے موسیقاروں سے رابطے بھی کیے۔ اسی سلسلے میں انہوں نے لاہور سے تعلق رکھنے والے لال بینڈ کہ رکن تیمور رحمان سے بھی رابطہ کیا تھا۔ تیمور رحمان نے نرملا کے فن کو سراہا اور انہیں اپنے ساتھ ایک گانے کا بھی موقع دیا۔


ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے تیمور رحمان نے کہا، "نرملا نے مجھے کچھ کمپوزیشنز بھیجی تھی جو مجھے بہت اچھی لگیں، وہ ایک بہت سریلی گلوکارہ ہے اور وہ راگوں کو بھی سمجھتی ہے۔ لیکن میں اس وقت اس دھن سے ناواقف تھا جس پر اب مسئلہ چل رہا ہے۔ راگ دھن نہیں ہوتی، یہ ایک غلط فہمی ہے، ایک راگ میں ہزاروں دھونیں ہو سکتی ہیں۔ تاہم ان دونوں گانوں کی دھن میں بہت مشابہت ہے جس سے یہ احساس ہوتا ہے کہ شاید یہ کاپی کیا ہے۔"

متعدد لوگ نرملا کے حق میں

جیسے ہی نرملا کی آواز سوشل میڈیا تک پہنچی موسیقی کے مداحوں نے نرملا کے حق میں آواز اٹھانا شروع کر دی۔ لوگوں نے کوک اسٹوڈیو سے مطالبہ کیا کہ وہ نرملا کو اس کا جائز حق دیں۔


ڈی ڈبلیو اردو نے نرملا سے بات کرنا چاہی تو انہوں نے اس رپورٹ کو فائل کرنے تک جواب نہیں دیا تھا۔ تاہم نرملا اپنے ویڈیو پیغام میں یہ کہتی ہوئی سنی جا سکتی ہیں کے انہیں اس کے عوض پیسے نہیں بلکہ صرف کریڈٹ چاہیے، تاکہ سب تک ان کی آواز پہنچ سکے۔

پاکستان کے ایک اور معروف موسیقار نے ڈی ڈبلیو کو نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ بہت سے گانے ایسے ہیں جو ایک ہی راگ میں بنائے جاتے ہیں لیکن ان کو سن کر آپ کو کوئی مماثلت سنائی نہیں دے گی۔ تو پھر یہاں ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ الفاظ کے وزن بھی دھن میں نرملا سے ملتے جلتے ہوں۔


نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے

معروف موسیقار سلمان احمد نے بھی نرملا کے لیے آواز اٹھائی اور ذوالفقار جبار خان کو مخاطب کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا، " براہ کرم عمر کوٹ کی نوجوان کمپوزر نرملا میگھانی کو کریڈٹ دیں۔ میں نے آپ کو اس سے متعارف کرایا اور وہ بہت باصلاحیت ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنی ہو گی۔‘‘

ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے سلمان احمد کا کہنا تھا،''جھوم کی اور نرملا کی کمپوزیشن بہت ملتی جلتی ہے۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک ہی وقت میں دو اتنی ملتی جلتی فوک دھنیں آگئیں۔ آپ مجھے بتائیں کیا یہ اتفاق ہو سکتا ہے؟ ہمارے یہاں فنکار معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں اور جو کارپوریشن ہیں کیونکہ ان کے پاس پیسہ ہے اور جو غریب یا کمزور فنکار ہیں جیسا کہ نرملا وہ ان کو دباؤ میں ڈال کر ان کا منہ بند کرنا چاہتے ہیں۔‘‘


نرملا اور ذوالفقار کے درمیان اس تنازعے کی حقیقت ابھی واضح نہیں البتہ پاکستان میں انٹیلیکچوئل کاپی رائٹس کے حوالے سے سخت قوانین اور ان کے نفاذ کی اشد ضرورت ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔