فون میں ’چائلڈ پروٹیکشن‘ سے نجی زندگی کو خطرہ نہیں، ایپل

ایپل کے چیف ایگزیکٹو افسر کا کہنا ہے کہ صارفین نے بچوں کی استحصالی تصاویر کی پڑتال کے ٹُول کو درست انداز میں نہیں سمجھا۔ ناقدین کے مطابق اس طرح ایپل کمپنی صارفین کی نجی زندگی میں مداخلت کرنا چاہتی ہے۔

فون میں ’چائلڈ پروٹیکشن‘ سے نجی زندگی کو خطرہ نہیں، ایپل
فون میں ’چائلڈ پروٹیکشن‘ سے نجی زندگی کو خطرہ نہیں، ایپل
user

Dw

امریکی اسمارٹ فون ساز ادارے ایپل نے اپنے آئی فون اور آئی پیڈ کے لیے جو نئے فیچرز متعارف کرائے ہیں، ان میں سے ایک میں امریکی صارفین کی ان تصاویر کی پڑتال شامل ہے، جو یہ صارفین آئی کلاؤڈ میں جمع کریں گے یا پھر میسیجنگ ایپ سے بھیجیں گے۔ ذاتی زندگی کے معاملات پر نگاہ رکھنے والے اور خفیہ کوڈز کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس فیچر کا دوسرے لوگ بھی غلط استعمال کر سکتے ہیں۔

ٹِم کُک کا بیان

امریکی ٹیکنیکل اور ڈیجیٹل ادارے ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹِم کُک کا کہنا ہے کہ اس اہم فیچرز کے حوالے سے لوگوں کے خدشات بے بنیاد ہیں اور کسی حد تک کہا جا سکتا ہے کہ اس فیچر کو درست انداز میں سمجھا نہیں گیا۔ ایپل کے سینیئر ترین اہلکار کا بیان امریکی بزنس جریدے وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہوا ہے۔ اس بیان میں انہوں نے نئی ٹیکنالوجی سے لوگوں کی نجی زندگیوں کو لاحق مبینہ خطرات کی نفی کی ہے۔


ایپل کا موقف

ایپل ادارے کے سافٹ ویئر انجینئرنگ شعبے کے سینئر نائب صدر کریگ فیڈیریگی نے بھی واضح کیا کہ نئے فیچر کو لوگوں نے قطعی طور پر درست انداز میں نہیں سمجھا۔ انہوں نے کہا ادارہ لوگوں کی تصاویر میں دلچسپی نہیں رکھتا اور صرف ان تصاویر کی نشاندہی ہو سکے گی، جن میں استحصالی عنصر واضح ہو گا۔ ایپل ادارہ امریکی ریاست کیلیفورنیا میں قائم ہے۔ اس ادارے کے سینیئر نائب صدر کا مزید کہنا ہے کہ یہ ٹُول لوگوں کی نجی زندگیوں کو زیادہ محفوظ بنائے گا۔

ایپل کا اصرار ہے کہ نئے فیچر سے آئی پیڈ اور آئی فون کا سکیورٹی سسٹم کمزور نہیں ہو گا اور خفیہ معلومات بھی محفوظ رہیں گی۔ اس نئے ٹُول کا نام ایپل نے 'نیورال ہیش‘ رکھا ہے۔


اس ٹُول کے ذریعے اگر آئی کلاؤڈ میں کسی بچے کی استحصالی تصویر ہو گی تو اکاؤنٹ کو معطل کر دیا جائے گا۔ اس تصویر کی بابت ادارہ امریکا کے ایک تھنک ٹینک نیشنل سینٹر برائے لاپتہ افراد اور استحصالی اطفال کو مطلع کرے گا اور وہی پھر بقیہ معاملے کی جانچ پرکھ کرے گا۔ یہ ٹُول صرف اور صرف امریکی یوزرز کے لیے ہے۔

ناقدین کے خدشات

ناقدین کا خیال ہے کہ اس نئے فیچر سے خفیہ کوڈ میں کمزوری پیدا ہونے کا امکان ہے اور تکنیکی اعتبار سے سسٹم میں داخلی کمزوری پیدا ہونے کا امکان بھی موجود رہے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی کمزوری سے ہیکرز اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکیں گے اور تصویر کے سہارا لیتے ہوئے وہ حکومتی اداروں کی ویب سائٹ تک رسائی حاصل کرنے میں بھی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ خدشات بھی ہیں کہ اس طرح ایپل کمپنی صارفین کے انتہائی نجی ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنا چاہتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔