یوراج کو سکسر کنگ اور کینسر فاتح کے طور پر یاد رکھا جائے گا

یوراج سنگھ نے اپنے 40 بین الاقوامی ٹیسٹ میچ میں 1900 رنز بنائے جس میں 11 نصف سنچری اور تین سنچری شامل ہیں۔ یوراج نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ نو دسمبر 2012 کو کولکاتا میں انگلینڈ کے خلاف کھیلا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: 37 سالہ یوراج نے ممبئی میں پیر کو پریس کانفرنس میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے کا اعلان کر دیا۔ بائیں ہاتھ کے بلے باز یوراج اپنی زبردست بلے بازی کے لئے پوری دنیا میں مقبول تھے اور ہندوستان کو 2011 میں 28 سال بعد عالمی چمپئن بنانے میں ان کا اہم کردار رہا تھا جس کے لئے انہیں مین آف دی ٹورنامنٹ کا خطاب ملا تھا۔

ہندوستان کو عالمی چمپئن بنانے کے بعد انہیں موذی مرض کینسر میں مبتلا ہونے کا پتہ چلا۔ انہیں پتہ چلا کہ ان کے دونوں دو پھیپھڑوں کے درمیان ٹیومر ہے۔ لیکن انہوں نے کینسر جیسی خوفناک بیماری پر فتح حاصل کر میدان پر واپسی کی تھی۔ اگرچہ کینسر سے واپسی کے بعد یوراج پہلے جیسے کھلاڑی نہیں رہے لیکن ان کی جدوجہد صلاحیت، ہمت اور جذبے کا سب نے لوہا مانا۔ ورلڈ کپ کے دوران یوراج نے خون کی الٹیاں تک کی تھیں لیکن انہوں نے کسی کو اس بات کا پتہ نہیں چلنے دیا۔

انہوں نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کھیل نے مجھے بہت کچھ سکھایا ہے کہ کس طرح لڑنا ہے اور گرنے کے بعد دوبارہ کس طرح اٹھنا ہے اور آگے بڑھنا ہے۔ یوراج کے کیریئر میں کئی یادگار پل رہے تھے جس میں 2011 کا ورلڈ کپ جیتنا سب سے اہم تھا۔ انہوں نے 2007 کے ٹوئنٹی -20 ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے فاسٹ بولر اسٹورٹ براڈ کے ایک اوور میں چھ چھکے لگائے تھے جس کے بعد انہیں سکسر کنگ کا خطاب ملا تھا۔

یوراج نے 2011 کے ورلڈ کپ میں چار نصف سنچری اور ایک سنچری بنائی تھی اور 15 وکٹ بھی لئے تھے۔ اپنی اس کارکردگی کی بدولت وہ مین آف دی ٹورنامنٹ بنے تھے۔ اس ورلڈ کپ میں انہوں نے 90.50 کے اوسط سے 362 رنز بنائے اور 15 وکٹ لئے۔ آسٹریلیا کے خلاف کوارٹر فائنل سے پہلے ڈاکٹروں نے انہیں نہ کھیلنے کا مشورہ دیا تھا، لیکن وہ نہ صرف میدان میں اترے، بلکہ ہندوستان کی جیت کے ہیرو بھی رہے۔ انہوں نے اس میچ میں 57 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔

یوراج کی پیدائش 12 دسمبر 1981 کو چنڈی گڑھ میں ہوئی تھی۔ بائیں ہاتھ کے بلے باز یوراج نے تین اکتوبر 2000 کو کینیا کے خلاف اپنا ون ڈے ڈیبو کیا تھا۔ کل 304 ون ڈے میچ کھیلنے والے یوراج نے 8701 رنز بنائے۔ انہوں نے اپنے ون ڈے کیریئر میں 52 نصف سنچری اور 14 سنچری بنائی ہیں۔ انہوں نے اپنا آخری ون ڈے میچ 30 جون 2017 کو ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا تھا۔

انہوں نے اپنے ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز 16 اکتوبر 2003 کو موہالی میں نیوزی لینڈ کے خلاف کیا تھا۔ انہوں نے اپنے 40 بین الاقوامی ٹیسٹ میچ میں 1900 رنز بنائے جس میں 11 نصف سنچری اور تین سنچری شامل ہیں۔ یوراج نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ نو دسمبر 2012 کو کولکاتا میں انگلینڈ کے خلاف کھیلا تھا۔

سکسر کنگ یوراج نے 13 ستمبر 2007 کو اسکاٹ لینڈ کے خلاف اپنے ٹوئنٹی -20 کیریئر کا ڈیبو کیا تھا۔ کل 58 ٹوئنٹی -20 میچوں میں انہوں نے 1177 رنز بنائے۔ انہوں نے ٹوئنٹی -20 فارمیٹ میں آٹھ نصف سنچری لگائی ہیں۔ یوراج نے یکم فروری 2017 کو بنگلور میں انگلینڈ کے خلاف اپنا آخری بین الاقوامی ٹوئنٹی -20 میچ کھیلا تھا۔ کرکٹ میں ان کی شاندار کامیابیوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومت ہند نے سال 2012 میں انہیں ارجن ایوارڈ سے نوازا اور پھر دو سال بعد ملک کے چوتھے سب سے بڑے شہری اعزاز پدم شری سے بھی نوازا۔

2014 میں آئی پی ایل میں رائل چیلنجرز بنگلور نے پنجاب کے اس کھلاڑی کو 14 کروڑ روپے میں خریدا تھا اور اس کے بعد 2015 میں دہلی ڈئیر ڈیولس (اب دہلی كیپٹلس) نے یوراج کو 16 کروڑ روپے میں اپنے ساتھ شامل کیا تھا۔ اس طرح یوراج آئی پی ایل کی تاریخ کے سب سے مہنگے کھلاڑی بنے تھے۔ اس سال آئی پی ایل میں یوراج ممبئی ٹیم کا حصہ بنے تھے۔