یوسف پٹھان: جس کے بلے کی گرج آسمان میں گونجتی تھی

یوسف پٹھان کی پیدائش 17 نومبر 1982 کو گجرات کے بڑودوہ شہر میں ہوئی، ان کے والد بڑودہ کی ایک مسجد میں مؤذن تھے۔ ان کے والد مذہبی اور رحم دل شخصیت کے مالک ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

ہندستان کے معروف کرکٹروں میں سے ایک یوسف پٹھان اپنی جارحانہ اور دھماکہ خیز بلے بازی کے لئے جانے جاتےہیں۔ ٹی-20 ورلڈ کپ کے فائنل میں فلک بوس چھکا لگاکر اپنے کریئر کی شروعات کرنے والے یوسف نے دمدار اسٹروک سے ہندستان کے لئے بہت سے میچوں کو ہندستانی کی جھولی میں ڈالا۔بڑودہ کے اس کھلاڑی نے آئی پی ایل میں کافی برسوں تک اپنا دبدبہ قائم رکھا۔ یوسف کے چھوٹے بھائی عرفان پٹھان بھی ایک بین الاقوامی کرکٹر ہیں۔ ان کا نام بھی ہندستان کے بہترین تیز گیند بازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس با صلاحیت کھلاڑی کی زندگی کی کہانی بھی ان کی بلے بازی کی طرح دلچسپ ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں بہت نشیب و فراز دیکھے ہیں۔

یوسف پٹھان کی پیدائش 17 نومبر 1982 کو گجرات کے بڑودوہ شہر میں ہوئی۔ ان کے والد بڑودہ کی ایک مسجد میں مؤذن تھے۔ان کے والد مذہبی اور رحم دل شخصیت کے مالک ہیں۔ یوسف کی کرکٹ سے دلچسپی بچپن سے ہی تھی ۔ دونوں بھائی مسجد کے قریب ہی ایک میدان میں کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ یوسف کے والدین کی خواہش تھی کہ ان کےدونوں بیٹے مذہب کی طرف راغب ہوں۔ ان دونوں بھائیوں نے اپنے والدین کا مشورہ سر آنکھوں پر رکھا۔ ان دونوں بھائیوں کے اندر کرکٹ کا زبردست جنون اور دلچسپی دیوانگی کی حد تک تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ دونوں بیٹے دین سےغافل ہوگئے ہوں ۔ دین کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی توجہ کرکٹ کی طرف بھی رکھی۔ شروعات میں گھر والوں سے یوسف کو کوئی مالی مدد نہیں ملی لیکن یوسف کی کھیل کے تئیں دلچسپی اور لگن کو دیکھتے ہوئے ان کے والد نے انہیں کرکٹر بننے کی اجازت دے دی۔

متوسط گھرانے سے تعلق ہونے کی وجہ سے ان کا بچپن تقریباً غربت میں ہی بسر ہوا۔ کرکٹ سےمتعلق ضروری سامان خریدنا ان کے لئے مشکل ہوجاتا تھا۔ ان سب کے باوجود بھی انہوں نے کرکٹ سے اپنی دلچسپی اور کرکٹ کی مشق کو جاری رکھا اور انہوں نے کھیل کی باریکیوں پر توجہ دینا شروع کیا۔ان کی مشق اور لگن کو دیکھتے ہوئے انکی محنت رنگ لائی اور اس کا پھل انہیں مل کر ہی رہا۔ وہ دن بھی آگیا جب انہیں بڑودہ کی انڈر- 16 ٹیم میں منتخب کیا گیا۔ اس انتخاب کے بعد انہوں نےکبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

انہوں نے انڈر- 16 میں بہترین کارکرگی کا مظاہرہ کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں انڈر -19 ٹیم میں شامل کرلیا گیا۔ اور انہیں ٹیم کی قیادت کرنے کاموقع بھی ملا۔ بہترین پرفارمنس کی و جہ سے یوسف نے سال 02-2001 میں بڑودہ کےرنجی ٹیم میں اپنی جگہ مستحکم کرلی اور مسلسل بہترین اور شاندار کارکردگی کی بدولت ان کا سلیکشن ہندستان کی ٹی-20 ٹیم میں ہوگیا جو جنوبی افریقہ میں دنیا کے پہلے ٹی-20 ورلڈ کپ میں کھیلنے والی تھی۔ یوسف کو پورے ٹورنامنٹ میں درمیان میں کھیلنے کا موقع نہیں ملا لیکن آخری مقابلےمیں انہیں ٹیم میں شامل کیا گیا۔ پاکستان کے ساتھ اس مقابلے میں یوسف نے اننگز کی شروعات میں جو چھکا مارا وہ آج تک کرکٹ مداحوں کو یاد ہے۔

ورلڈ کپ کے فوراً بعد 2008 میں ہوئے پہلے آئی پی ایل(انڈین پریمئر لیگ) میں یوسف نے راجستھان رائلز کی نمائندگی کی۔ آئی پی ایل کے اس پہلے سیشن میں ان کی کارکردگی شاندار رہی اوراپنے جارحانہ انداز سے پورے ٹورنامنٹ پر اپنی زبردست دھاک جما دی۔ ممبئی انڈین کے خلاف اس سیزن میں ان کی جارحانہ سنچری کو کون بھول سکتا ہے،اس مقابلہ میں یوسف نے ممبئی انڈین کے ٹاپ بالروں کی دھجیاں اڑادی تھیں۔یہ یوسف پٹھان کی شاندار کارکردگی تھی کہ راجستھان رائلز (آر آر) نے آئی پی ایل کا ٹورنامنٹ اپنے نام کیا۔ یوسف پٹھان کو مین آف دی میچ سے نوازا گیا۔ آئی پی ایل کی اس بہترین کارکردگی کی بدولت یوسف کو ہندستان کی ٹی-20 اور ایک روزہ بین الاقوامی ٹیم میں مستقل جگہ ملی۔

یوسف پٹھان نے 17 نومبر 2009 کو سالگرہ کے دن ونڈے انٹر نیشنل کے کریئر میں انگلینڈ کے خلاف اپنی پہلی بین الاقوامی نصف سنچری بنائی۔ یہ نصف سنچری محض 29 گیندوں میں بناکر یوسف نے اپنی قابلیت دنیا کے سامنے پیش کردی۔ 2009 میں سری لنکا کے خلاف یوسف نے اپنے بھائی عرفان پٹھان کے ساتھ کولمبو میں کھیلےگئے ٹی -20 میں ہندستان کو ایک دلچسپ جیت دلائی۔ یوسف –عرفان کی جوڑی نے بحرانی صورت حال سے نمٹنے کے لئے بہترین بلےبازی کی اور ہندستان کو جیت دلائی ۔ ناظرین کے لئے یہ ایک بڑا یادگاری میچ ثابت ہوا۔

سال 2010 یوسف کے کرکٹرکریئر کا اہم سال ثابت ہوا۔ اسی برس دلیپ ٹرافی کےآخری مقابلےمیں یوسف نے شاندار بلے بازی کرتے ہوئے تاریخ رقم کی۔ انہوں نے پہلی اننگز میں شاندار سنچری بنائی اور دوسری اننگز میں طوفانی اننگ کھیل کر 190 گیندوں میں 210 رن بنائے ۔ نیوزی لینڈ کے خلاف یوسف پٹھان نے اپنے بین الاقوامی کرکٹ کی پہلی سنچری بنائی اورمین آف دی میچ کا خطاب حاصل کیا۔ یہ میچ ہندستان کے لئے ایک وقت میں ہاتھ سے چلا جاتا لیکن یوسف نے محض 96 گیندوں میں 123 رن دھواں دھار اننگ کھیل اپنی ٹیم کو جیت سےہمکنار کرایا۔

اگلے برس ایک روزہ بین الاقوامی سریز میں یوسف نے اپنے کریئر کی سب سے بہترین اننگز کھیلی۔ حالانکہ ان کی بہترین اننگز کے باوجود ہندستان یہ میچ ہار گیا تھا اور اس اننگز کے لئے دنیا بھرمیں یوسف کی بلے بازی کی ستائش کی گئی۔ یوسف پٹھان ہندستان کی 2011 میں عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کے رکن تھے ۔ لیکن اس ٹورنامنٹ میں یوسف کوئی خاص کارکردگی پیش نہیں کرسکے جس کی وجہ سے انہیں بین الاقوامی اور ٹی -20 میچوں سے ٹیم سے باہر کردیا گیا۔ 18 مارچ 2012میں پاکستان کےخلاف کھیلا گیا مقابلہ یوسف کے ایک روزہ کریئر کا آخری مقابلہ تھا۔

یوسف پٹھان نے 12-2008 کے درمیان ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میچوں میں 57 میچوں میں 27.0 کی اوسط سے 810 رن بنائے۔ جبکہ ٹی-20 میچوں میں انہوں نے 22 میچ کھیلتے ہوئے 18.1 کی اوسط سے 236رن بنائے۔ فرسٹ کلاس میچوں میں 92 میچوں میں انہوں نے 35.4 کی اوسط سے 4572 رن بنائے۔ ٹیم کا حصہ نہ ہونے کی صورت میں بھی یوسف کے بلے کی گرج گونجتی رہی۔ انہوں نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی نمائندگی کرتے ہوئے 2012 اور 2014 میں آئی پی ایل ٹورنامنٹ جیتا۔

Published: 17 Nov 2019, 6:43 PM