جب گواسکر نے بورڈ سے کہا تھا... ہم کوئی ٹپ نہیں مانگ رہے (دلچسپ یادیں)

یہ کھلاڑی آج بہت ہی میچور ہیں لیکن اس وقت وہ سب جوان تھے جبکہ میں اب بھی بوڑھا ہوں اور تب بھی بوڑھا تھا۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

یو این آئی

آج ہندوستانی کرکٹرز کروڑوں میں کھیل رہے ہیں لیکن کرکٹ بورڈ آف انڈیا (بی سی سی آئی) کے پاس 1983 میں پہلی بار ورلڈ کپ جیتنے والی کپل دیو کی ٹیم کو انعامی رقم دینے کے لئے رقم نہیں تھی۔

تاریخی لارڈز گراؤنڈ میں 25 جون 1983 کو طاقتور ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر ہندوستان کو پہلی بار عالمی چمپئن بننے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ 1983 میں ہندوستان کے ورلڈ کپ کی فتح کا 25 سال مکمل ہونے پر جون 2008 میں فاتح ہندوستانی ٹیم کے لئے دارالحکومت دہلی میں منعقدہ ایک اعزازی تقریب میں بی سی سی آئی کے صدر این کے پی سالوے نے اس بات کا ایک دلچسپ انکشاف کیا تھا کہ ورلڈ کپ جیتنے کے بعد ہندوستانی کھلاڑیوں نے انعام کی رقم کے لئے ان کی زندگی اجیرن کردی تھی۔

این کے پی سالوے بی سی سی آئی کے صدر تھے جب ہندوستان نے پہلی بار 1983 میں ورلڈ کپ جیتا تھا اور ٹیم کے سینئر ممبر سنیل گواسکر اس خطابی جیت کے بعد انعام کی رقم کے بارے میں جاننے کے لئے پہنچے تھے۔

اس پروگرام میں کپتان کپل دیو نے اپنے ٹیم ساتھیوں کے بارے میں خیالات رکھے تھے لیکن جب سالوے بولنے آئے تو انہوں نے شروع میں ہی کہا تھا کہ وہ ہندی میں بات کریں گے۔ 1983 کی فتح کو یاد کرتے ہوئے اس وقت کے بورڈ صدر سالوے نے کہا تھا کہ 25 آئی پی ایل کی جیت بھی ورلڈ کپ جیتنے کے جنون اور جذبے کے برابر نہیں ہوسکتی ہے۔

بی سی سی آئی آج کا دنیا کا سب سے امیر کرکٹ بورڈ ہے لیکن اس کے بعد سالوے نے کہا کہ ان دنوں بورڈ کے پاس بالکل پیسہ نہیں تھا۔ ہمارے کھلاڑی ورلڈ کپ جیت چکے تھے اور گواسکر میرے پاس آئے تھے کہ ہم ورلڈ کپ جیتنے کے لئے کیا ملے گا ؟ میں نے گواسکر کو بتایا کہ میرے پاس اور نہ ہی بورڈ کے پاس کوئی پیسہ ہے۔ بہر حال ہم کوشش کریں گے اور ٹیم کو دو لاکھ روپے دیں گے۔ گواسکر کا جواب تھا سر ہم کوئی ٹپ نہیں مانگ رہے ہیں۔ کپل پیچھے سے بھڑکارہے تھے اور پوری ٹیم پھر اس میں شامل ہوگئی۔

سالوے نے کہا کہ پھر میں نے تین لاکھ روپے کی پیش کش کی تو گواسکر نے کہا کہ دو اور تین میں کیا فرق ہے یہ بہتر ہے آپ اسے بھی نہ دیں۔ اس کے بعد میں پانچ اور سات لاکھ تک پہنچ گیا لیکن کھلاڑی تیار نہیں تھے۔ پھر آئی ایس بندرا نے مشورہ دیا کہ دہلی میں ایک پروگرام کا انعقاد کرکے ہر کھلاڑی کو اس کی کمائی سے ہر کھلاڑی کو ایک ایک لاکھ روپے دیئے جائیں لیکن جلد ہی ہمیں احساس ہوا کہ اس پروگرام سے کچھ بھی ملنے والا نہیں ہے۔

اس وقت کے بورڈ کے صدر نے کہا کہ پھر بندرا کی اگلی تجویز یہ تھی کہ لتا منگیشکر کنسرٹ کیا جائے۔ میں لتا جی کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ کھلاڑی کیسے پیسے مانگ رہے ہیں۔ لتا جی نے کہا کہ کھلاڑی اس کے حقدار ہیں۔ میں نے ان کے سامنے کنسرٹ کے بارے میں بات کی اور انہیں راضی کرلیا۔

بعد میں کرکٹ کے پرستار لتا جی نے اس مسئلے پر کہا کہ سالوے صاحب نے ایک گگلی پھینک دی تھی اور میں کلین بولڈ ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ لتا جی نے میری عزت بچائی تھی۔ ورنہ ان کھلاڑیوں نے مجھے مارا پیٹا ہوتا۔ یہ کھلاڑی آج بہت ہی میچور ہیں لیکن اس وقت وہ سب جوان تھے جبکہ میں اب بھی بوڑھا ہوں اور تب بھی بوڑھا تھا۔

دارالحکومت دہلی کے آئی جی اسٹیڈیم میں لتا منگیشکر کنسرٹ نے بیس لاکھ روپے کمائے تھے جس کی وجہ سے ہندوستانی ٹیم کے کھلاڑیوں کو ایک ایک لاکھ روپے دیئے گئے تھے۔ لتا منگیشکر نے اس کنسرٹ کے لئے بی سی سی آئی سے کوئی رقم نہیں لی تھی۔