وراٹ کوہلی نے دنیائے کرکٹ کو حیران کر دیا

وراٹ کوہلی نے سال کا بہترین کرکٹر ہونے کا اعزاز حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ آئی سی سی کے ٹیسٹ اور یک روزہ ٹیموں کا کپتان بن کر اپنی صلاحیتوں پر مہر ثبت کر دیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

آس محمد کیف

’’میں نے جب سے کرکٹ دیکھنا، سمجھنا اور کھیلنا شروع کیا ہے میں کسی ایسے بلے باز کو نہیں جانتا جو اپنا وکٹ گنوا دینے کے بعد اتنا افسردہ ہوتا ہو جتنا کوہلی ہوتے ہیں۔ ہر بار آؤٹ ہونے کے بعد ان کے چہرے پر یکساں مایوسی کے آثار نظر آتے ہیں چاہے وہ صفر پر آؤٹ ہوں یا سنچری بنا کر۔ کوہلی جیسا کوئی نہیں ہے، انھوں دنیائے کرکٹ کو حیران کر دیا ہے۔‘‘ یہ باتیں سہارنپور کے 14 سالہ آویز اسلم نے ’قومی آواز‘ سے کہیں جو کہ اتر پردیش کے انڈر-14 ٹیم کے لیے کھیلتے ہیں اور ایک باصلاحیت گیند باز ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ کوہلی کو کبھی بھی ہار مانتے ہوئے نہیں دیکھیں گے۔

آج ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی کو یک روزہ کرکٹ میں سال کا بہترین بلے باز منتخب کیا گیا ہے۔ آئی سی سی نے انھیں ٹیسٹ اور یک روزہ ٹیم دونوں کا کپتان بھی بنایا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب کہ جنوبی افریقہ میں دونوں ٹیسٹ ہندوستان ہار چکی ہے اور انھیں زبردست تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ آئی سی سی کی ٹیموں کا کپتان بنایا جانا وراٹ کوہلی کے لیے اچھی خبر ہے کیونکہ گزشتہ دنوں وراٹ کوہلی ہندوستانی ٹیم کی کارکردگی پر ایک صحافی کے سوال سے ناراض ہو گئے تھے اور میڈیا سے ناراض ہو کر یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ’’آپ ہی ٹیم سلیکٹ کر کے بتا دو۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) سے یونیورسٹی لیگ کرکٹ کھیل رہے تیز گیندباز رویندر کمار وراٹ کوہلی کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’’کرکٹ میں دوسرے ممالک کے کھلاڑیوں کی آنکھ میں آنکھ ڈالنا گانگولی نے سکھایا اور کوہلی نے اسے عروج پر پہنچا دیا۔‘‘ وہ سوال کرتے ہیں کہ ’’کیا آپ کسی ایسے کھلاڑی کو جانتے ہیں جس میں کوہلی سے زیادہ ’آگ‘ موجود ہو۔‘‘

اتر پردیش خاتون کرکٹ ٹیم میں کھیل رہی بجنور کی شیرین فاطمہ کے مطابق کوہلی کے اندر کی اسپرٹ کسی دوسرے میں دیکھنے کو نہیں ملتی ہے۔ ان کے اندر حیرت انگیز توانائی ہے۔ وہ کبھی ہار نہیں مانتے۔ آپ کبھی بھی دیکھ لیجیے وہ پاگل پن کی حد تک پہنچ جاتے ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے وہ کرکٹ کے زبردست عاشق ہیں۔ وہ اپنی قوت پر میچ جیتنے والے کھلاڑی ہیں۔

میرا پور گلی کرکٹ کے مشہور کھلاڑی سنجو ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ تندولکر سے زیادہ عظیم کھلاڑی تو نہیں ہیں لیکن اس وقت ان سے اچھا کوئی کھلاڑی نہیں ہے۔ وہ ایک گیند کو تین طرح سے کھیل لیتے ہیں۔ بین الاقوامی کرکٹ میں آن سائیڈ پر ان سے اچھا کھیلنے والا کوئی کھلاڑی اس وقت موجود نہیں۔ وہ ایک ہی گیند پر کٹ اور ڈرائیو مارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کوہلی نوجوانوں میں سب سے مقبول کرکٹر ہیں، ان کا اسٹائل لوگوں میں انھیں مزید مقبول بنا رہا ہے۔ رام راج میں کرکٹ اکادمی چلانے والے ارشاد احمد کا کہنا ہے کہ ’’آپ کھلاڑی کی صلاحیت کا اندازہ ریکارڈ سے نہیں لگا سکتے حالانکہ کوہلی ریکارڈ کے معاملے میں بھی بہت کامیاب کھلاڑی ہیں، لیکن میں دوسری بات کہہ رہا ہوں جو ہر کرکٹ کا شیدائی کہتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ جس دن ان کے والد کی موت ہوئی اس دن بھی انھوں نے سنچری بنا کر دہلی کے لیے رنجی میچ بچایا۔ ایک کمرے سے نکل کر ایک لڑکا آج اتنا طاقتور بن چکا ہے کہ کوئی گیندباز اس کی آنکھ سے آنکھ نہیں ملا سکتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ کوہلی اس کا بدلہ ضرور لے گا۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

کوہلی نے کرکٹ میں فرنٹ فٹ بیٹنگ کو ایک نیا عروج بخشا ہے۔ اس معاملے میں ان کی تعریف پوری دنیا کے کرکٹر کر چکے ہیں۔ مائک ہسی نے ایک بار کہا تھا کہ وہ ہندوستان میں سچن تندولکر کی جگہ لینے کے حقدار ہیں۔ میرٹھ میں کرکٹ کھیلنے والے ششانک شرما کہتے ہیں ’’اس معاملے میں یہ کہنا بہتر ہوگا کہ کوہلی اور سچن دو الگ الگ مزاج کے کرکٹر ہیں۔ اپنے مخالفین کے خلاف کوہلی جہاں اپنا سب کچھ چلانے میں یقین رکھتے ہیں وہیں سچن اپنے بلے سے جواب دینا بہتر سمجھتے تھے۔‘‘ ششانک آگے کہتے ہیں کہ ’’کوہلی بیک فٹ پر نہ بیٹنگ کرتے ہیں اور نہ ہی یہ ان کی شخصیت سے میل کھاتا ہے۔ وہ مکمل طور پر ایک جارحانہ کرکٹر ہیں، وہ گیند پر جھپٹا مارتے ہیں۔ جب وہ کھیلتے ہیں تو آپ کو لگتا ہے کہ یہ لڑکا جب تک ہے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ اسی لیے تو بین الاقوامی کرکٹ میں سب سے تیزی کے ساتھ انھوں نے 15 ہزار رن بنا دیے ہیں۔ سچن تندولکر کی طرح ان کے سب سے زیادہ شیدائی بھی آسٹریلیائی ہیں، مثلاً ایان ہیلی۔ ہیلی نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ وہ دوسرے سچن ہیں اور کہیں کہیں ان سے بھی بہتر۔

انگلینڈ کے سابق کپتان ناصر حسین بھی وراٹ کوہلی کی تعریف میں پیچھے نہیں ہٹتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’صرف دو لوگ بلے باز ہیں... ایک اے بی ڈیویلیرس اور دوسرا وراٹ۔‘‘ حقیقت تو یہ ہے کہ کوہلی کی تعریف گھر والے سے زیادہ باہر والے کرتے ہیں۔ حالانکہ نئے کھلاڑیوں میں ان کی مقبولیت سب سے زیادہ ہے۔ ویسٹ انڈیز کے عظیم کرکٹر ویو ریچرڈس ان کا موازنہ خود سے کر چکے ہیں۔ رچرڈس نے کہا تھا کہ یہ لڑکا میرے جیسا کھیلتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ رچرڈس کو تندولکر اپنا رول ماڈل مانتے ہیں۔ کوہلی کے کھیل کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ دباؤ میں نکھر جاتے ہیں۔ ہربھجن سنگھ نے ان کے تعلق سے بہت صحیح کہا ہے کہ ’’دباؤ میں ان کی صلاحیت سپرمین جیسی ہو جاتی ہے۔‘‘

آج کوہلی کا حال یہ ہو چکا ہے کہ ان کی سنچری خبر نہیں ہوتی لیکن ان کا جلدی آؤٹ ہونا موضوعِ بحث بن جاتا ہے۔ ایک بار سنجے مانجریکر نے کہا تھا کہ یہ ایک ایسا کھلاڑی ہے جس کے ناکام ہونے پر لوگ بات کرتے ہیں۔ کوہلی کا ٹیلنٹ نہیں اس کا رویہ کمال ہے۔ وہ اپنی ذمہ داری کو ہر شکل میں سمجھتے ہیں جیسے اپنی بیوی انوشکا کی تنقید کے بعد وہ خود سامنے آ گئے۔ اسی لیے سورو گانگولی کہتے ہیں کہ آپ اس آدمی کا چہرہ دیکھیے، کبھی بھی، ہر وقت ایسا لگتا ہے جیسے پھاڑ ڈالے گا۔ بطور کپتان اور کھلاڑی ہر طرح سے وراٹ کا رویہ ایسا ہی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 18 Jan 2018, 8:10 PM