سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کو پٹخنی دینے کے ارادہ سے اترے گی وراٹ اینڈ کمپنی

کیوی ٹیم کا ٹاپ آرڈر ولیمسن کو چھوڑ کر مضبوط نہیں لگتا۔ اس نے پاورپلے میں 13 وکٹ گنوائے ہیں جو کافی خراب ریکارڈ ہے۔ ایسے میں کیوی ٹیم کیلئے ہندستان جیسی مضبوط ٹیم کو شکست دینا یقیناً بڑا چیلنج ہوگا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

مانچسٹر: کروڑوں ہندوستانیوں کی توقعات پر کھرا اترنے کی ذمہ دارای کے ساتھ وراٹ اینڈ کمپنی منگل کو آئی سی سی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف خطابی مقابلے کا ٹکٹ حاصل کرنے اترے گی۔ دو بار کی چمپئن ہندستانی ٹیم عالمی کپ کی تاریخ میں پہلی بار سیمی فائنل مقابلے میں نیوزی لینڈ سے کھیلے گي جبکہ دوسرے سیمی فائنل میں کرکٹ تاریخ کے دو روایتی حریفوں آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ہندستان وراٹ کی کپتانی میں پہلی بار آئی سی سی عالمی کپ میں اتر رہا ہے اور اس کی کارکردگی لاجواب رہی ہے۔ گروپ مرحلے میں ٹیم نے صرف ایک میچ ہارا تھا اور وہ آخری گروپ میچ میں سری لنکا پر سات وکٹ کی جیت اور جنوبی افریقہ کی آسٹریلیا پر 10 رنز کی دلچسپ فتح کے سبب ٹیبل میں سب سے اوپر رہا ہے۔

وہیں آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں بھی ہندستانی ٹیم ٹاپ پر ہے اور اس موجودہ فارم کو دیکھتے ہوئے امید ہے کہ وراٹ اینڈ کمپنی ورلڈ کپ -2019 میں چمپئن بن کر لوٹے گی۔ یہ 12 واں ورلڈ کپ ہے اور یہ پہلا موقع ہے جب ہندستانی ٹیم سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ سے کھیلے گی۔ ہندستان کا اس عالمی کپ میں لیگ راؤنڈ میں نیوزی لینڈ کے ساتھ مقابلہ بارش کی وجہ سے منسوخ ہو گیا تھا اس طرح دونوں ٹیمیں میدان پر پہلی بار آمنے سامنے ہوں گی اور میچ بھی سیمی فائنل کا ہوگا۔

ہندستان عالمی کپ کے سیمی فائنل میں ساتویں بار پہنچا ہے جبکہ نیوزی لینڈ کی ٹیم آٹھویں بار سیمی فائنل میں پہنچی ہے۔ کین ولیم کی کپتانی میں نیوزی لینڈ کی ٹیم نے بھی ورلڈ کپ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن ایک وقت گروپ مرحلے میں سب سے اوپر رہنے کے بعد وہ پٹری سے اتر کر تال کھو بیٹھی۔ بالآخر اس نے چوتھے نمبر پر رہ کر 11 پوائنٹس کے ساتھ آخری چار میں جگہ بنائی۔ ٹیم کے لئے راحت کی بات رہی کہ پاکستانی ٹیم اس سے رن ریٹ میں پچھڑ گئی جس کے یکساں 11 پوائنٹس تھے۔

ہندستانی ٹیم نے اپنے گروپ مرحلے میں آل راؤنڈ کھیل کا مظاہرہ کیا ہے اور موجودہ فارم کو دیکھتے ہوئے اس کا پلڑا کیوی ٹیم پر بھاری کہا جا سکتا ہے، لیکن دونوں ٹیمیں عالمی کپ میں پہلی بار ایک دوسرے سے کھیل رہی ہیں ایسے میں اولڈ ٹریفورڈ میں ہونے والے اس مقابلے میں کسی کو کم نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔

ٹیم انڈیا کے کھلاڑیوں نے انفرادی طور پر ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ بطور ٹیم متحد ہوکر وہ مضبوط ترین مانی جاتی ہے۔ اگرچہ نمبر چار کے آرڈرکو لے کر اسے عالمی کپ میں بھی کافی پریشانی ہوئی، وہیں مڈل آرڈر میں اسے تھوڑی اور احتیاط برتنی ہوگی۔ ٹیم کے بڑے اسكوررز میں اس کے اوپنر روہت شرما اور وراٹ کوہلی کی جوڑی ہے۔ روہت نے آٹھ میچوں میں 92.42 کی اوسط سے پانچ سنچری سمیت 647 رن بنائے ہیں اور ایک ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ سنچری بنانے والے پہلے بلے باز بھی بن گئے ہیں جبکہ ان کے جوڑی دار وراٹ آٹھ میچوں میں پانچ نصف سنچری لگا کر 442 رنز بنا کر دوسرے ٹاپ اسکورر ہیں۔

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ٹیم انڈیا رنز کے لحاظ سے ان دونوں بلے بازوں پر بہت زیادہ منحصر ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں ٹیم انڈیا کے بہترین فنشر مہندر سنگھ دھونی کی فارم بھی کچھ پریشانی بھری رہی ہے جنہوں نے نچلے آرڈر پر سست بلے بازی کی۔ اگرچہ اہم موقعوں پر دھونی ہمیشہ کارگر ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے آٹھ میچوں میں ناقابل شکست 56 رنز کی واحد نصف سنچری سمیت 223 رن بنائے ہیں۔

لوکیش راہل ٹیم کے دیگر اہم اسکورر ہیں جنہوں نے 51.42 کے اوسط سے 360 رن بنائے ہیں اور دیگر مفید اسكوررز میں ہیں۔ لیکن ان کی کارکردگی میں بھی کئی بار تسلسل کا فقدان نظر آتا ہے۔ سال 2015 عالمی کپ کی رنر اپ ٹیم کو اپنی ان خامیوں کو دور کرتے ہوئے اگلے اہم میچ میں اترنا ہوگا۔ہندستانی بلے بازی آرڈرمیں کئی اہم اسکورر ہیں اور آل راؤنڈر ہردک پانڈیا بھی ان میں سے ایک ہیں۔ پانڈیا جارحانہ بلے باز ہیں لیکن نازک پوزیشن میں ان سے پابند اننگز کی توقع رہے گی، اپنے آٹھ گروپ مرحلے کے میچوں میں انہوں نے 194 رنز سے اہم کردار ادا کیا ہے جس میں 48 رن ان کی سب سے بڑی اننگز ہے۔

وہیں گیند بازی میں بھی پانڈیا کا اہم تعاون رہا ہے اور انہوں نے 5.68 کے اكونومي ریٹ سے نو وکٹ نکالے ہیں۔ ٹیم کی بڑی طاقت اس کا گیند بازی آرڈر ہے جس کی قیادت جسپريت بمراه کے ہاتھوں میں نظر آتی ہے۔ فاسٹ بولر نے اب تک ٹیم کے لئے حیرت انگیز کا رکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4.48 کے اكونومي ریٹ سے 17 وکٹ نکالے ہیں اور ٹیم کے سب سے زیادہ کامیاب بولر بھی ہیں۔ سری لنکا کے خلاف انہوں نے 10 اوور میں 37 رن پر تین وکٹ نکالے تھے۔ ڈیتھ اووروں میں بمراه کو سب سے زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے۔اگرچہ جس بولر نے اپنی کارکردگی سے چونکایا ہے وہ محمد سمیع ہیں۔ تجربہ کار فاسٹ بولر نے محض چار میچوں میں ہی 14 وکٹ نکالے ہیں۔ سمیع کو آخری گروپ میچ میں سری لنکا کے خلاف آرام دیا گیا تھا اور ان کی موجودہ فارم کو دیکھتے ہوئے امید ہے کہ ٹیم مینجمنٹ اہم سیمی فائنل میچ میں سمیع سے اسی کرشمہ کی توقع کرے گا۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم بھی اگر اپنے تیز گیندبازوں کے بھروسے اترے تو ٹرینٹ بولٹ (15 وکٹ) اور فٹ ہو چکے تیز گیند باز لكي فگيورسن (17 وکٹ) اہم ہوں گے جن کے نشانے پر ہندستان کے سرفہرست تین بلے باز ہوں گے۔ اگرچہ کیوی ٹیم کو ہندستان جیسی مضبوط ٹیم کا سامنا کرنے کے لیے جامع سدھار کی ضرورت ہو گی جس نے آخری تین گروپ میچوں میں پاکستان، گزشتہ چمپئن آسٹریلیا اور انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کھائی ہے۔کیوی ٹیم رنز کے لئے بھی اپنے کپتان ولیمسن پر سب سے زیادہ منحصر نظر آتی ہے جنہوں نے جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف سنچری اننگز کھیلی اور 481 رنز کے ساتھ ٹیم کے ٹاپ رنز اسکورر ہیں۔ ولیمسن کو چھوڑ دیں تو کیوی ٹیم کی بلے بازی کافی کمزور ہے اور راس ٹیلر (261 رنز) اور جیمز نيشام (201 رن) ہی دیگر ٹاپ اسکورر ہیں۔

کیوی ٹیم کا ٹاپ آرڈر ولیمسن کو چھوڑ کر مضبوط نہیں لگتا ہے اور اس نے پاورپلے میں 13 وکٹ گنوائے ہیں جو کسی ٹیم کا کافی خراب ریکارڈ ہے۔ ایسے میں کیوی ٹیم کیلئے ہندستان جیسی مضبوط ٹیم کو شکست سے دوو چار کرنا یقیناً بڑا چیلنج ہوگا۔