آسٹریلیا کے خلاف میچ جیتنا کافی اہم: وراٹ

وراٹ نے کہا کہ ٹیم میں محمد سمیع کو تبھی كھلايا جا سکتا ہے جب انہیں وکٹ اور موسم دونوں سے مدد ملے۔ بھونیشور چمپئن بولر ہیں۔ وہ نئی اور پرانی دونوں گیند سے وکٹ لینے کے قابل ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

لندن: عالمی چمپئن آسٹریلیا کو عالمی کپ کے اپنے دوسرے میچ میں 36 رنز سے شکست دینے کے بعد ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی نے کہا ہے کہ آسٹریلیا جیسی قدآور ٹیم کے خلاف جیت کافی اہم ہے۔

وراٹ نے اتوار کو میچ کے بعد کہا کہ ہندوستان میں آسٹریلیا کے خلاف سیریز ہارنے کے بعد اتوار کا میچ جیتنا کافی اہم ہے، یہ خاص جیت ہے۔ ہم نے آسٹریلیا کے خلاف جیت درج کر اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے۔ ہم نے اس میچ میں پہلی گیند سے گرفت بنا لی تھی۔

شکھر دھون اور روہت شرما کی اوپننگ شراکت کی تعریف کرتے ہوئے کپتان نے کہا کہ شکھر اور روہت کے درمیان ہوئی اوپننگ شراکت لاجواب تھی۔ انہوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔ میں نے بھی کچھ رن جوڑے اور ہردک اور دھونی نے بھی اچھی اننگز کھیلی۔ وکٹ اسپاٹ تھا ایسے میں ہماری اننگ کی شروعات شاندار رہی اور ایک کپتان ہونے کے ناطے یہ دیکھ کر کافی خوشی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسی اننگز کے بعد بولنگ بھی اچھی کرنی ہوتی ہے۔ اسکور بورڈ پر 350 سے زیادہ رن ہونے کے باوجود ہم آرام سے نہیں بیٹھ سکتے۔ ان میں اضافی 30 رنز کافی اہم تھے۔ سرفہرست تین بلے باز بڑی اننگز کھیلتے ہیں۔ ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم ہردک کو بھیجیں گے کیونکہ وہ پہلی گیند سے ہی حملہ کرتے ہیں۔

وراٹ نے کہا کہ ٹیم میں محمد سمیع کو تبھی كھلايا جا سکتا ہے جب انہیں وکٹ اور موسم دونوں سے مدد ملے۔ بھونیشور چمپئن بولر ہیں۔ وہ نئی اور پرانی دونوں گیند سے وکٹ لینے کے قابل ہیں۔ بھونیشور نے ایک ہی اوور میں اسٹیون اسمتھ اور مارکس اسٹوئنس کے وکٹ لے کر میچ کا رخ ہندوستان کے حق میں موڑ دیا۔ وہ کافی تجربہ کار ہیں اور آپ کو انہیں زیادہ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ انہیں پتہ ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ ان کی حکمت عملی کام آئی جو ٹیم کے لئے ضروری ہے۔