انڈر-19 عالمی کپ: جنوبی افریقہ کو 2 وکٹ سے ہرا کر ہندوستان فائنل میں پہنچا، پاکستان یا آسٹریلیا سے ہوگا مقابلہ

جنوبی افریقہ کی انڈر-19 کرکٹ ٹیم نے ہندوستان کے سامنے جیت کے لیے 245 رنوں کا ہدف رکھا تھا، یہ ہدف ہندوستان نے 7 گیندیں باقی رہتے 8 وکٹ کے نقصان پر حاصل کر لیا۔

<div class="paragraphs"><p>ہندوستان کی انڈر-19 کرکٹ ٹیم کے کپتان اودے سہارن اور سچن داس، تصویر @BCCI</p></div>

ہندوستان کی انڈر-19 کرکٹ ٹیم کے کپتان اودے سہارن اور سچن داس، تصویر @BCCI

user

تنویر

انڈر-19 کرکٹ عالمی کپ کا آج پہلا سیمی فائنل میچ ہندوستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلا گیا جو انتہائی دلچسپ ثابت ہوا۔ جنوبی افریقہ نے ہندوستان کے سامنے جیت کے لیے 245 رنوں کا ہدف رکھا تھا اور ایک وقت ہندوستان مشکل میں دکھائی دے رہا تھا جب 4 وکٹ محض 32 رن پر آؤٹ ہو گئے تھے، لیکن اس کے بعد کپتان اودے سہارن اور سچن داس کے درمیان 171 رنوں کی شراکت داری نے جیت کو جنوبی افریقہ سے دور کر دیا۔ ہندوستان نے 245 رنوں کا ہدف 48.5 اوورس میں 8 وکٹ کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ اس جیت کے ساتھ ہندوستان نے فائنل میں قدم رکھ دیا ہے، جہاں اس کا مقابلہ آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان 8 فروری کو کھیلے جانے والے دوسرے سیمی فائنل کی فاتح ٹیم سے ہوگا۔ فائنل مقابلہ 11 فروری کو کھیلا جائے گا۔

آج ٹاس ہندوستانی ٹیم کے کپتان اودے سہارن نے جیتا تھا اور پہلے گیندبازی کرنے کا فیصلہ کیا۔ جنوبی افریقہ کے 2 وکٹ 46 رن پر ہی گر گئے تھے، لیکن اس کے بعد لوہان ڈری پریٹوریس (102 گیندوں میں 76 رن) اور رچرڈ سلیٹسوین (100 گیندوں میں 64 رن) کے درمیان 72 رنوں کی بہت اہم شراکت داری ہوئی۔ اس کے بعد کچھ کچھ وقفے پر وکٹ گرتے رہے جس سے ٹیم بڑا اسکور کھڑا نہیں کر سکی۔ کپتان جوان جونس نے 24 رن، اولیور وہائٹ ہیڈ نے 22 رن اور ٹرسٹن لوس نے ناٹ آؤٹ 23 رن کی اننگ کھیلی۔ 50 اوورس میں جنوبی افریقہ 7 وکٹ کے نقصان پر 244 رن بنانے میں کامیاب ہوئی۔


ہندوستان کی طرف سے گیندبازی میں سب سے زیادہ 3 وکٹ راج لمبانی نے لیے جنھوں نے 9 اوورس میں 60 رن دیے۔ 2 وکٹ آل راؤنڈر مشیر خان کو ملے۔ انھوں نے 10 اوورس میں 43 رن دیے۔ 1-1 وکٹ نمن تیواری (8 اوورس میں 52 رن) اور سومی پانڈے (10 اوورس میں 38 رن) کے حصے میں آئے۔ باقی گیندباز وکٹ سے محروم رہے۔

ہندوستان کی شروعات انتہائی خراب رہی کیونکہ پہلی ہی گیند پر آدرش سنگھ آؤٹ ہو گئے، اور پھر مشیر خان (4) بھی ایسے وقت پویلین لوٹ گئے جب ٹیم کا مجموعی اسکور 8 رن تھا۔ تیسرا (ارشن کلکرنی 12 رن) اور چوتھا (پریانشو مولیا 5 رن) وکٹ بھی جلدی ہی گر گیا اور ٹیم کا اسکور 4 وکٹ کے نقصان پر 32 رن پہنچ گیا۔ یہاں سے کپتان اودے سہارن اور سچن داس نے نہ صرف وکٹ گرنے کا سلسلہ روکا، بلکہ رنوں کی رفتار بھی بہت دھیمی نہیں ہونے دی۔ دونوں کے درمیان 171 رنوں کی شراکت داری ہوئی اور پھر 43ویں اوور کی پہلی گیند پر جب ہندوستانی ٹیم کا اسکور 203 رن تھا تو سچن 95 گیندوں پر 96 رنوں کی شاندار اننگ کھیل کر پویلین لوٹ گئے۔ یہاں سے پھر وکٹ گرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا اور اراولی اونیش 10 رن اور مروگن ابھشیک بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہو گئے۔ جب ٹیم کو جیت کے لیے ایک رن کی ضرورت تھی تو اودے سہارن بھی 124 گیندوں پر 81 رن بنا کر رَن آؤٹ ہو گئے۔ یہاں سے کوئی وکٹ نہیں گرا اور 49ویں اوور کی پانچویں گیند پر راج لمبانی نے چوکا لگا کر میچ کو ختم کر دیا۔ راج لمبانی کی تعریف کرنی ہوگی جنھوں نے مشکل وقت میں 4 گیندوں پر ایک چھکا اور چوکا کی مدد سے ناٹ آؤٹ 13 رن بنائے۔


جنوبی افریقہ کی جانب سے کوینا مفاکا نے خطرناک گیندبازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 10 اوورس میں 32 رن دے کر 3 وکٹ لیے۔ وہ اس ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ 23 وکٹ لینے والے گیندباز بھی ہیں۔ ٹرسٹن لوس نے بھی شاندار گیندبازی کی جنھوں نے 10 اوورس میں 27 رن دے کر 3 وکٹ لیے۔ باقی گیندبازوں کو وکٹ بھی نہیں ملا اور وہ خرچیلے بھی ثابت ہوئے۔ اودے سہارن کو ان کی کپتانی والی اننگ کے لیے پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


;