پونے میں ٹیم انڈیا کی نظر سیریز جیتنے پر

ہندوستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان جمعرات سے تین میچوں کی ٹیسٹ سیریز کا دوسرا مقابلہ پونے میں کھیلا جائے گا جہاں ٹیم انڈیا کی نظر مقابلہ جیت کرسیریز اپنے نام کرنے کی ہو گی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

پونے: ہندوستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان جمعرات سے تین میچوں کی ٹیسٹ سیریز کا دوسرا مقابلہ پونے میں کھیلا جائے گا جہاں ٹیم انڈیا کی نظر مقابلہ جیت کرسیریز اپنے نام کرنے کی ہو گی۔ ہندوستان نے وشاکھاپٹنم میں کھیلے گئے پہلے میچ میں جنوبی افریقہ کی ٹیم کو 203 رنز کے بڑے فرق سے شکست دے کر سیریز میں ایک۔صفر کی برتری حاصل کر لی تھی اور اب وہ یہاں ہونے والے دوسرے مقابلے میں بھی اپنی کارکردگی برقرار رکھ کر میچ اور سیریز جیتنے کے ارادے سے میدان میں اترے گی۔

ہندوستان کے لئے مثبت بات یہ ہے کہ اس کے دونوں سلامی بلے باز روہت شرما اور مینک اگروال نے پہلے مقابلے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا، خاص طور روہت نے جو اپنے ٹیسٹ کیریئر میں پہلی بار بطور اوپنر بلے بازی کرنے اترے تھے. روہت نے پہلی اننگز میں 176 اور دوسری اننگز میں 127 رنز بنائے تھے جبکہ مینک نے پہلی اننگز میں 215 رنز بنا کر اپنے ٹیسٹ کریئر کی پہلی بین الاقوامی ڈبل سنچری بھی مکمل کی تھی۔

دونوں بلے بازوں کے درمیان پہلے میچ کی پہلی اننگز میں 317 رنز کی بڑی شراکت ہوئی تھی جس کی بدولت ہندوستان نے میچ میں شروع سے ہی اپنا پلڑا بھاری رکھا تھا۔ ہندوستان کو دوسرے میچ میں ایک بار پھر اپنی سلامی جوڑی سے ایسے ہی کارکردگی کی توقع رہے گی جس سے وہ مہمان ٹیم پر شروع سے ہی گرفت مضبوط رکھے اور اس کے گیند بازوں پر دباؤ بنائے۔
ہندوستانی ٹیم کو اگرچہ مڈل آرڈر میں تھوڑا احتیاط برتنا ہوگا۔ پہلے مقابلے کی پہلی اننگز ٹاپ آرڈر کی مضبوط شراکت داری کے بعد مڈل آرڈر لڑکھڑا گیا تھا لیکن ٹیم کے لئے راحت کی بات ہے کہ چتیشور پجارا پہلی اننگز میں ناکام رہے تھے اور انہوں نے دوسری اننگز میں واپسی کی اور 81 رن کی اہم اننگز کھیلی۔کپتان وراٹ کوہلی، اجنکیا رہانے، هنوما وهاري اور وكٹ كيپر بلے باز ردھمان ساہا کو بھی مڈل آرڈر میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔

گیندبازی ٹیم انڈیا کا مضبوط شعبہ رہا ہے اور پہلی اننگز میں جس طرح آف اسپنر روی چندرن اشون نے اسپن کے جادو میں جنوبی افریقہ کی ٹیم کو باندھ کر رکھا اس سے ہندوستانی گیندبازی اور مضبوط دکھائی دے رہی ہے جبکہ دوسری اننگز میں تیزگیندباز محمد شامی نے پانچ وکٹ حاصل کرکے مہمان ٹیم کی کمر توڑ دی تھی جس سے ٹیم نے یکطرفہ انداز میں مقابلہ اپنے نام کرلیا تھا۔

ہندوستانی گیند بازوں کی یہ کارکردگی ٹیم کے گیندبازی کوچ بھرت ارون نے بھی جم کر تعریف کی تھی اور یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ٹیم کواپنی خواہش کے مطابق پچ کی ضرورت نہیں کیونکہ ہندوستان کے تیز گیند باز کسی بھی پچ پر اپنا جلوہ بکھیرنے کا دم رکھتے ہیں۔
جنوبی افریقہ کے پاس سیریز بچانے کا یہ آخری موقع ہے۔اگر ٹیم ہندوستانی بلے بازوں کو کم اسکور میں روکنے میں کامیاب رہتی ہے تو ان کے پاس موقع بنا رہ سکتا ہے۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم کو بھلے ہی پہلے میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن انہوں نے پہلی اننگز میں ہندوستانی گیند بازوں کو کافی پریشان کیا تھا۔

سلامی بلے باز ڈین ایلگر اور وکٹ کیپر بلے باز كوئنٹن ڈی کاک نے پہلی اننگز میں اپنی ٹیم کو ابتدائی جھٹکوں سے ایک وقت باہر نکالنے کی پوری کوشش کی تھی۔ دونوں بلے بازوں کی سنچری کی بدولت ہندوستانی ٹیم صرف 71 رنز کی ہی برتری حاصل کر پائی تھی۔

جنوبی افریقہ کو دوسرے مقابلے میں اپنی بلے بازی میں توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے خاص طور پر جس طرح اس کی ٹیم کی کارکردگی دوسری اننگز میں رہی اسے دیکھتے ہوئے کپتان فاف ڈو پلیسس کو اس شعبے میں بہتری کی ضرورت ہے۔گیندبازوں میں ورنون فلینڈر اور كیگسو ربادا پر میزبان ٹیم کو روکنے کی بڑی ذمہ داری ہوگی جبکہ بلے بازوں کو ہندوستانی گیندبازوں کے آگے جم کر کھیلنے کا چیلنج ہوگا۔

پونے کی پچ ملک کی سب سے فلیٹ پچوں میں سے ایک تصور کی جاتی ہے اور اس مقابلے میں اس کی کارکردگی کو دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ اس میدان پر کھیلے گئے 26 فرسٹ کلاس میچوں میں 150 سے زائد کے 10 اسکور، تین ڈبل سنچری اور دو ٹرپل سنچری بنی ہیں۔ ان 26 میچوں میں 13 ڈرا رہے ہیں۔

اس میدان پر کھیلے گئے چار ون ڈے میں سے تین میں پہلی اننگز میں 280 سے زیادہ کے اسکور بنے ہیں۔ پونے میں 2017 میں پہلا ٹیسٹ کھیلا گیا تھا جو تین دن کے اندر ختم ہو گیا تھا۔ ہندوستان نے 105 اور 107 رنز بنائے تھے اور اس پچ کو خراب ریٹنگ ملی تھی۔ یہ میچ آسٹریلیا کے خلاف ہوا تھا۔ بعد میں یہ میدان ایک اسٹنگ آپریشن کے تحت تنازعات میں آیا اور اسے چھ مہینے کے لئے معطل بھی کر دیا گیا تھا۔ پونے میں گزشتہ ہفتہ جم کر بارش ہوئی ہے اور اس کا اثر میچ پر نظرآسکتا ہے۔